عورت کی حالت زار' اسلام کی آمد سے پہلے

Posted on at


عورت کی حالت زار' اسلام کی آمد سے پہلے- جوں جوں آپ حالات و واقعات پڑھتے جائیں گے آپ کو یہ محسوس ہوتا چلا جائے گا کہ اسلام کی آمد سے پہلے عورت کو انسانیت کے درجے سے گرا دیا گیا تھا- اس کے حقوق چھن چکے تھے اور اس کا مقام و مرتبہ پوری وحشت سے پامال کیا جا رہا تھا- یہ تحریر تصویر کا ایک رخ ہے جو یقیناً نہایت تاریک ہے جبکہ دوسرا اور روشن رخ وہ ہے جو آپ آگے جا کر خود پڑھیں گے



ایک شخص حضور پاک صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اسلام قبول کرنے سے پہلے کا ایک واقعہ سنایا "میری ایک بیٹی جوکہ مجھ سے بہت زیادہ مانوس تھی- میں جب اسے آواز دیتا وہ میرے پاس دوڑی چلی آتی- ایک روز میں گھر سے نکلا اور اس کو بھی آواز دے کر اپنے ساتھ لے لیا، اور اسے ساتھ لے کر ایک کنویں پر چلا گیا اور اسے کنویں میں پھینک دیا اور اس وقت وہ مجھے ابا جان ابا جان پکار رہی تھی-" یہ واقعہ سن کر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے' یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی داڑھی مبارک تر ہو گئی- عرب معاشرے میں عورت کو جس مظلومیت اور بے چارگی کا درجہ حاصل تھا اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ لڑکی کی پیدائش ان کے لئے کسی غم اور قیامت سے کم پیغام نہ تھی- قرآن ان کی اس حالت کی تصویر کشی کچھ یوں کرتا ہے"جب ان میں سے کسی کو لڑکی کی پیدائش کی خبر دی جاتی تو اس کا چہرہ سیاہ پڑ جاتا ہے اور وہ غم سے گھٹنے لگتا ہے- اس خبر کو وہ اس حد تک برا سمجھتا ہے کہ دوسرے لوگوں سے چھپاتا پھرتا ہے- (اور سوچ میں پر جاتا ہے) آیا ذلت کو برداشت کرتے ہوۓ اسے باقی رکھے یا زمین میں دفن کر دے" حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ بتاتے ہیں کہ "ہم دور جاہلیت میں عورتوں کو کوئی حیثیت ہی نہیں دیتے تھے" عرب معاشرے کی حالت یہ تھی کہ لڑکی کو پیدا ہوتے یا تو مار دیا جاتا اور گر زندہ رہتی بھی تو اس کے کوئی حقوق نہیں ہوتے
مردوں کو آزادی تھی جتنے چاہیں نکاح کر لیں- ایک صحابی رسول وہب بن اسدی ؓ نے جب اسلام قبول کیا تو ان کی دس بیویاں تھیں- عربوں میں طلاق پرکسی قسم کی کوئی پابندی نہ تھی- مرد اپنی مرضی سے جب چاہتا طلاق دیتا اور جب چاہتا عدت ختم ہونے سے پہلے پہلے رجوع کر لیتا (ابو داؤد) - اس طرح وہ زندگی بھرعورتوں کو تنگ کرتے تھے- ایک شخص کے متعلق روایت آتی ہے کہ "اس نے اپنی بیوی کو پریشان کرنا چاہا تو اس نے کہا میں نہ تو تجھے اپنے ساتھ رکھوں گا اور نہ جدا کروں گا- بیوی نے پوچھا وہ کیسے؟ کہا اس طرح کہ طلاق دوں گا اور جب عدت ختم ہونے لگے گی رجوع کر لوں گا پھر دوبارہ طلاق دوں گا اور پھر عدت کا زمانہ پورا ہونے سے پہلے رجوع کر لوں گا-" مستد حاکم
جب تک شوہر زندہ رہتا عورت اس کی غلامی میں رہتی، شوہر کے گزر جانے عورت پر شوہر کے ورثاءکا حق ہوتا، چاہتے تو اپنے کسی رشتہ دار سے شادی کر دیتے، چاہتے تو خود ہی کر لیتے- وہ اس میں بھی آزاد تھے اس کی شادی ہی نہ ہونے دیں- بحوالہ بخاری - تفسیر ابن کثیر



سوتیلا بیٹا باپ کے انتقال کے بعد گر چاہتا تو اپنی سوتیلی ماں سے شادی کر سکتا تھا- اور اگر اتفاق سے کوئی حسین اور صاحب ثروت یتیم لڑکی کسی شخص کی سرپرستی میں آجاتی تو خود ہی اس سے نکاح کر لیتا اور مہر بھی ادا نہ کرتا- بحوالہ بخاری
وراثت میں عورت کا کوئی حصہ نہیں تھا- جنگ احد کے بعد کا واقعہ ہے کہ ثابت بن قیس ؓ کی بیوی نے نبی کریم سے آکر شکایت کی کہ جنگ احد میں ثابت شہید ہو گئے' ان کی صرف دو بچیاں ہیں لیکن ثابت کےبھائی نے ان کے پورے مال پر قبضہ کر لیا ہے اور بچیوں کے لئے ایک دانہ بھی نہیں چھوڑا بتائیے کہ ان کی شادی کیسے ہو؟ (ترمزی' ابو داؤد) - یہ سننے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے انھیں حق دلایا اور جب اسلام نے وراثت میں عورت کا حصہ متعین کیا تو اہل عرب کو بڑا تعجب و حیرت ہوئی اور انہوں نے نبی کریم سے دریافت کیا کہ یا رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم! کیا عورت میراث کی حق دار ہے جو نہ گھوڑے پر سوار ہو سکتی ہے اور نہ ہی دفاع کر سکتی ہے




About the author

Maani-Annex

I am an E-gamer , i play Counter Strike Global Offence and many other online and lan games and also can write quality blogs please subscribe me and share my work.

Subscribe 0
160