صلہ صرف الله کی ذات سے

Posted on at


بنو امیہ کے پانچویں خلیفہ عبدالمالک کا ایک بیٹا جس کا نام مسلمہ بہادر نڈر ہونے کے ساتھ ساتھ قابل اور ہر ترھا کے ہتھار چلانے میں مہارت رکھتا تھا اور لڑ کر ہرانا کے فن سے بھی اچھی ترھا واقف تھا اس کے والد نے فوج کے ایک بارے لشکر کا سپہ سالار تعینات کر دیا اور ہمسایہ ممالک رومیوں کے تھے جو کے غیر مسلم تھے اسلئے ہر سال مسلمہ ان سے جنگیں کرتا اور انکا کچ علاقہ فتح کرتا اس ترھا بہت سا رے رومی قلعے فتح کئے ایک دفع مسلمہ ایک رومی قلعہ کو فتح کرنے کے لئے قلعے کو چاروں طرف سے گھیر لیا



 لیکن قلے میں موجود فوج کی تیریں اور گولے آگے نہیں بڑھنے دے رہے تھے پھر ایک نوجوان ان گولوں کی بارش میں قلے کی طرف بڑھ رہا تھا کیوں کے اسے قلعے کی دیوار میں کوئی کمزور مقام پتا چل گیا تھا اس مقام پر پوھنچننے کے بعد وہاں نقب لگائی اور دیوار میں سوراخ کر کے قلعے میں داخل ہونے کا راستہ بنا لیا ٹیب تک حملہ کرنے والا دستہ پوھنچ گیا اور قلے میں حملہ کر کی دروازہ کھول دیا سری فوج اندر گھس گئی



اور مسلمہ کی فوج نے قلعے پر قبضہ کر لیا بعد میں مسلمہ نے سری فوج کو اکھٹا کر کے پوچھا تم میں سے وہ نوجوان کون تھا کوئی باہر نہ آیا مسلمہ نے الله کی قسم دی کے جو بھی ہے باہر آ جائے ایک نقاب پوش شخص بھر یر اور کہا میں نے باہر نہیں آنا تھا اپنے قسم دی تو آنا پڑا میری ایک التجا ہے مجھ سے میرا نام ہرگز مت پوچھیے گا میں اپنے آپ کو ظاہر نہیں کرنا چاہتا میں نے جو کیا اسکا صلہ الله سے لینا چاہتا ہوں اسکے بعد مسلمہ جب بھی دعا کرتے یا الله مجھے نقاب لگانے والے کے ساتھ کر دیجیے گا



About the author

danial-shafiq

blogger at filmannex

Subscribe 0
160