علمائے اندلس

Posted on at


 

علمائے اندلس

1۔ یحیٰی بن یشی "عاقل اندلس"

2۔ قاضی منذربن سعید البلوطی

3۔ قاضی محمد بن بشیر

4۔ ابوالقاسم بن عباس الزہراوی

یحیٰی بن یشی "عاقل اندلس"۔۔۔

یحیٰی بن یشی کا تعلق مصمودہ قبیلے سے تھا۔ یہ ایک بربری قبیلہ تھا۔ آپ نے سب سے پہلے حج کیا۔ 795ء میں حضرت امام مالک کے شاگرد ہوگئے۔ موطاکی تعلیم حاصل کی۔ آپ نے مصر میں لیسث ابن سعد اور مجہ معظمہ ابن عینیہ سے علوم سیکھے۔ آپ اعلٰی درجے کے متقی اور پرہیزگار تھے۔ عبدالرحمان کے دور حکومت میں فوجداری مقدمات کے فیصلے آپ سناتے تھے۔ آپ بہے بے باک اور نڈر تھے۔ عدل و انصاف میں امیر غریب، امراء،وزراء یہاں تک کہ خلیفہ کا بھی کوئی لحاظ نہیں کرتے تھے۔ فیصلہ ہمیشہ اسلامی شریعت کے عین مطابق ہوتا تھا۔ چاہے وہ خلیفہ کہ خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ 

 

یحیٰی بادشاہ کی خوشنودی نہیں بلکہ اللہ تعالٰی کی خوشنودی حاصل کرنا چاہتا تھا۔ عبدالرحمان کے دربار میں یحیٰی کا اعلٰی مقام حاصل تھا۔ عبدالرحمان قضاہ بھرتی بھرتی کرتے وقت یحیٰی سے ضرور مشورہ کرتا تھا۔ ابن جزم کے مطابق مشرق میں حنفی کق امام حنیفہ اور قاضی ابویوست کی وجہ سے اور مغرب میں مالکی فقہ کو یحیٰی کی وجہ سے بادشاہ کی حمایت حاصل ہوئی۔ آپ نے 848ء میں وفات پائی۔

قاضی منذربن سعید البلوطی۔۔۔۔۔۔

المقری کے مطابق "وہ اللہ تعالٰی کے حق میں ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ درتے تھے"۔

 

قاضی منزر اپنے زمانے کی ابتدائی عمر کے متعلق کوئی خاص معلومات حاصل نہیں ہوسکیں۔ آپ نے اپنے زمانے کے دینی علوم پر دسترس حاصل کر لی۔ انتہائی متوی اور پرہیزگار تھے۔ اعلٰی درجے کے خطیب تھے۔ عبدالرحمان الناصر آپ کی بہت عزت کرتا تھا۔ آپ اعلٰی پایہ کے شاعر بھی تھے۔ آپ کے شعروں میں زیادہ مذہبی رنگ نظر آتا ہے۔

قاضی محمد بن بشیر۔۔۔

آپ مصر کے اعلٰی علمی گھرانے میں پیدا ہوئے جو باجہ میں رہائس پذیر تھا۔

عباس بن عبداللہ عامل باجہ کے کاتب مقرر ہوئے۔ امام مالک کے شاگرد بن گئے۔ مالکی مسلک سے وابستہ رہے۔ حکم اول کے دور میں قاضی القضاہ کے عہدے پر فائز رہے۔ آپ انتہائی سادہ زندگی بسر کرتے تھے۔ اکثر کھدر پہنتے تھے۔آپ کو ایک دفعہ اس عہدے سے معزول کروا دیا گیا لیکن آپ نے کوئی پرواہ نہیں کی۔ دوبارہ یہ عہدہ پیش کیا گیا تو آپ نے عدل فاروقی کو نئی زندگی بخشی۔ آپ نے 810ء میں وفات پائی۔

ابوالقاسم بن عباس الزہراوی۔۔۔۔۔

یہ عبدالرحمان کے بسائے گئے علاقے کا باشندہ تھا۔

اس کی شہرت اس کی مشہور زمانہ کتاب "زہراوی" کی وجہ سے ہوئی۔ یہ کتاب علم اور حکمت کا شکار ہے۔ یہ علم طب اور جرامت کی نایاب کتاب ہے۔

 

 



About the author

qamar-shahzad

my name is qamar shahzad, and i m blogger at filamannax

Subscribe 1504
160