پاکستانی قوم کا مزاج

Posted on at



روزہ ہمیں صبرو برداشت اورتقویٰ کا درس دیتا ہے مگر پاکستانی قوم کا مزاج نرالہ ہے ایک طرف ہمارا مذہب ناجائز منافع خوری ذخیرہ اندوزی کی قطعاً اجازت نہیں دیتا مگر پاکستانی نے قوم دولت کمانے کی حوص میں تمام حدیدیں پھلانگ دی ہیں رمضان المبارک کے آتے ہی مارکیٹ سے اشیائے خوردنوش کی مصنوعی قلعت پیدا کر کے راتوں رات انکے دام بڑھا لیے جاتے ہیں رمضان المبارک میں بے ایمان تاجر جنہوں نے مال کو سٹاک کیا ہوتا ہے مضرناقص اشیاءارزاں نرخوں پر فروخت کر کے حرام کی دولت سمیٹتے ہیں کھانے پینے کی چیزوں میں ملاوٹ مصنوعی قلعت پیدا کر کے مہنگے داموں فروخت کرنا تاجروں کے خون میں رچ بس گیا ہے اسی طرح روزہ ہمیں صبر و برداشت کا درس دیتا ہے مگر کیا مجال کے اس قوم کے باسیوں کے قریب صبر ٹھیک جائے ٹریفک لائن میں ہر کوئی بے صبری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کر تا ہے اور وہ قانون کو پاﺅں تلے روندتے ہوئے فخر محسوس کرتا ہے یہ بھی دیکھنے میں آیا ہیکہ اگر کسی سے لوگ روزہ رکھ کے تنگ مزاج ہو جاتے ہیں ہر روزہ دار کے منہ پر بارہ بجے ہوتے ہیں اگر کسی سے راستہ پوچھ لیں تو وہ صرف اشارے سے راستہ بتائے گا اگر سمجھ نہ آنے پر دوبارہ پوچھ لیا جائے تو اس کے ماتھے پر شکنیں پر جاتی ہیں اور نا گواری سے کہے گا بتا تو دیا نہ تمہیں خود جا کے چھوڑ آﺅں سگریٹ نسوار اور دیگر نشہ کرنے والے روزہ داروں سے تو بات کرنا ہی لڑائی مول لینے کے مترادف ہے راستہ میں کھڑے ٹیکسی ڈرائیور سے لوکل ڈیوٹی کا کرایہ معلوم کرنا چاہا تو اس نے آستینیں چڑھا لیں بڑی مشکل سے جان چھڑائی رمضان المبارک کے دوران اکثر لڑائی جھگڑے اس وجہ سے ہوتے ہیں کہ جی ان کو روزہ لگ گیا ہے بھئی اگر تم صبر نہیں کر سکتے تو بھوکا پیاسا رہنے کی کیا ضرورت ان دنوں آپ کسی سرکاری دفتر میں جائیں تو خدا کی پناہ دوپہر تک ہر شخص کے چہرے پر تناﺅ اور کشیدگی کا عالم ہوتا ہے اس سے اشاروں میں بات کرنا غنیمت ہے دوپہر کے بعد اسکی سہولت بھی میسر نہ ہوگی اس کے بعد اگر عزت پیاری ہے تو کچھ عرض کر کے دیکھ لیں افطار کے قریب تو بازار میں نکلنا جان جھوکوں کا کام ہے ہر کوئی برق رفتاری کےساتھ گھر کی طرف رواں دواں ہوتاہے اس دوران اگر کسی کی گاڑی ٹکرا جائے تو افول قول بکنے کے بعد وہیں کھولے گا اس مقدس ماہ میں دل بہلانے کیلئےسامان کرنا آسمان سے تارے توڑنے کے مترادف ہے اب افطار پارٹیاں شروع ہو جائیں وہاں صبر وتعمل نامی کوئی چیز نظر نہیں آتی نام نہاد سیاسی لوگ اس بہانے لوگوں کو اکٹھا کر کے اپنا مطلب نکالنے کی مضموم کوشش کریں گے مگر قوم کی بے صبری اور تعمل برداری گئی بہاڑ میں وہ تو اس سیاسیوں کو بھی اچکمادے جاتے ہیں آخری عشرہ آ جانے پر ٹرانسپورٹر مافیہ اڈے شارٹ کس کے لاچار مجبور مظلوم مسافروں کو لوٹنے کیلئے تیار ہو جاتا ہے درزی حضرات کی قینچیاں براہ راست گاہکوں کی جیبوں کی طرف کر دی جاتی ہیںبازاروں میں گزشتہ سال کا ناقص سامان نکال کر فروخت کیا جاتا ہے اب اس مقدس ماہ میں کیا برکتیں نازل ہوں گی جس ملک کے حکمران ظالم کرپٹ ہوں ہماری دعائیں کسے قبول ہوں گی ہر خرفا ت پاکستانی قوم میں پائی جاتی ہے رحمت کی بارش کا نزول کب ہو ہمارے اعمال ضائع ہو جاتے ہیں جس قوم میں کرپشن جھوٹ دھوکا فراڈ خوش میں سرائیت کر جائے وہاں نہ تو دعائیں قبول ہوتی ہیں نہ برکت ہوتی ہے لہٰذا روزہ دار اگر روزہ رکھ کر موبائل پر سفید جھوٹ بولے تو کیا ثواب ہو گا خدا تعالٰی ہمیں اس ماہ اقدس میں ان تمام خرافات برائیوں سے بچنے کی توفیق دے صبر برداشت تعمل بردباری کا عملی طور پر مظاہرہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین


For More Subscribe me on Filmannex MadihaAwan



About the author

MadihaAwan

My life motto is simple: Follow your dreams...

Subscribe 0
160