نوجوانو کی بے راہ راوی

Posted on at


نوجوانو کی بے راہ راوی  

جوانوں کو میری آہ سحر دے
پھر ان شاہین بچوں کو بال و پر دے
خدایا آرزو میری یہی ہے
میرا نور بصیرت عام کر دے

یہ وہ شھر ہے جو الامہ محمد اقبال نے نوجوانو کے لیے لکھا اور انکو منسوب کیا .کیوں که الامہ محمد اقبال مسلمان قوم کو عروج بخشنا چاھتے تھے اور اس ک لیے انہوں نی نوجوانو کو ہی اپنی امیدوں کا مرکز بنایا .کیوں ک ان ک لیے کسی ب قوم کی ترقی اسکا عروج صرف نوجوان ہی بنا سکتی ہے .نوجوان کسی بی قوم میں انقلاب برپا کر سکتے ہیں . یہی نوجوان قوم ملّت کا حال بھی شاندار بناتی ہے اور آنے والی کل کو بی روشن بناتی ہے. ،اگر چھ بوڑھوں کا وجود ب اہمیت کا حامل ہوتا ہے کیوں ک وہ نوجوانو کو رہنمائی سی آگاہ کا کرتے ہہیں انکی اپنی زندگی تجربات سے مزین ہوتی ہے .
اقبال کا نوجوان ایک خودی سے بھرپور نوجوان ہے .. اقبال نے تو نوجوان کو شاہین سے تشبیہ دی کیوں ک اس ک شاہین کی سی خوبیاں پی جاتی ہیں. بلا کا حوصلہ پایا جاتا ہے اسکی نگاہ تیز ہے وو منزل کو پنے کے لیے راہ ک خاردار کانٹوں سے بلکل ب نہیں ڈرتا بلکہ وہ مستقل مزاجی سے آگے ہی بڑھتا جاتا ہے وہ زہین ہے قابل ہے. وہ کسی ک سامنے جھکتا نہی سواے الله کی ذات سے. وہ صبح اٹھ کے نماز پڑھتا ہے ،الله سے نالہ ے فریاد کرتا ہے جسے اقبال کہتے ہیں ،
جھپٹنا پلٹنا ،پلٹ کر جھپٹنا
لہو گرم رکھنے کا ایک ہے بہانہ
پرندوں کی دنیا کا درویش ہوں میں
کہ شاہین بناتا نہی آشیانہ
اقبال ک نوجوان میں میں تیزی ہے گرمی ہے تحقیق کرنے اور وسایل کو کام میں لانے اور ان کے سہی استمال کی طاقت موجود ہیں لیکن افسوس ! صد افسوس کہ آجکل ہماری قوم جس پستی کا شکار ہے اسکی بری وجہ نوجوان قوم کی بے پرواہی ، سستی اور مغرب کی چمک دھمک کا اسیر ہونینا بھی ہے . آج کا مسلمان اپنے اسلاف کے اقدار کو بلکل فراموش کر چکا ہے. آج وو اپنے راستے سی بلکل بھٹک گیا ہے کچھ ہمارے میڈیا نے بھی نئی نسل کو بے رہ کرنے کی کوئی کسر نہی چھوڑی .
گنوا دی ہم نی جو اسلاف سے میراث پائی تھے ،
ثریا سے زمین پر آسمان نے ہم کو دی مارا
دوستو !ہمارے مدمقابل کفر ہے. جو اسلام کو ختم کرنے پے درپے ہے. وہ ہمیں تفرقاتم میں مبتلا کر رہا ہے، ہمیں اعلاقایت ،لسانیات قومیت کی بنیاد پے ایک دوسرے سی لڑا رہا ہے اور ہم ہیں ک ان ک ہاتھوں کی کٹھ پتلی بنے ہہیں. انکی راہ پے چل کر فخر محسوس کر رہے ہیں ،راتوں کو ڈسکو میں ہوتے ہان. بے حیائی ام ہے ہم سوچی سمجھی سازش کا شکر ہیں اور ہم ہیں کے ،،،،،،،
دماغ تو ہیں، مگر سوچتے نہیں
آنکھیں تو ہیں ، مگر دیکھتے نہیں،
کان تو ہیں، مگر سنتے ننہیں
ہم بلکل بہرے ہو چکے ہیں. ہمارے ضمیر مردہ ہو چکے ہیں. آج کا نوجوان کسی کا بھلا کرنے میں تذلیل محسوس کرتا ہے. ہمارے اسلامی اصولوں سی خود مغرب تو فائدہ اٹھا رہا ہے،مگر ہم بھول چکے ہیں،
آج بھی ہم اپنا کھویا ہوا کل لوٹا سکتے ہیں. ضرورت اس امر کی ہے ک ہمیں اب تو آنکھیں کھولنی ہونگی . تہعصّب کو چھوڑ ک یکجا ہونا پڑیگا اور اس بات کو یاد رکھنا ہوگا ک یہ اسلام م زبان بنیاد رنگ و نسل کی کوئی اہمیت نہیں. ہمیں اپنے گزرے ہووے ماضی کو یاد کرنا ہوگا ہیں اپنی عظمت کو پھر سی لوٹانے کے لیے سرگرم عمل ہونا پڑیگا .
خود سراپا نور بن لینے سی کب کام چلتا ہے،
تجھکو اس ظلمت کدے میں نور برسانا بھی ہے ،،
خدا مرے ملک کو زندہ و تابندہ کرے اور جس مقصد کے لیے میں آج بات کر رہا ہوں وہ ہر نوجوان تک پہنچ جائے تب ہی مرے بولنے کو اسکا مقام اسکی پزیرائی مل سکتی ہے.
خدا کرے کہ پہنچ جائے تیرے دل تک میری بات !آمین

 



About the author

160