دوسرا

Posted on at


جیسا کے اس سے پہلے والے بلاگ میں میں آپ کو بتا چکا تھا ایک ٹرپ کے بارے میں جس میں میرے دوستوں  نے پروگرام بنا کر آخر میں گنرا کر دیا تھا۔پروگرام بنا نے میں تو بہت خوشی سے بنا یا تھا مگر آخر میں آکر ڈرامہ لگا دیا۔

 

مگر خیر ہیں وہ نہیں تو نہ سہی میں اپنے کالج کے دوستوں کے ساتھ گیا۔میرے کالج کے دوستوں کو تو پتہ بھی نہیں تھا۔کے یوں کہیں جانا بھی پڑے گا۔مگر میں نے انسے کہا کے یوں ایک پروگرام ہیں اور میرے دوست مجھے گندا کر رہے ہیں  تو تم لوگ آجاوٴ۔

 

تو انہوں نے نہ کچھ پوچھا نہ کچھ کہا تو وہ میرے ساتھ چلنے کے لیے تیار ہو گے۔تو سب نے اپنی اپنی تیاری کی اور پھر ہم لوگ چلے گے۔جاتے جاتے راستے میں ہم لوگوں نے سہرسالا میں رکے اور وہاں سے کھانے کے لیے پکوڑے لیے اور اس سے ہم نے ساتھ میں ہی روٹیاں بھی لی اور اس کے ساتھ پینے کے لیے بھی ہم نے کولڈینک بھی لی۔

 

پھر ہم وہاں سے اگے چلے گے۔تو راستے میں سب نے کہا کے جو لیا ہیں وہ کھاتے ہیں میں نے کہا کے نہیں۔

ابھی نہیں کھاتے پہلے ایبٹ آباد پہنچے گے وہاں پر ایک جگہ آتی ہیں وہاں پر پانی ہوتا ہیں وہاں پر بیٹھے گے۔

 

وہاں پر بیٹھ کر سن کچھ کھاےٴ گے۔کیونکہ وہاں پر ایک تو منظر بہت پیارا ہیں اور دوسرا وہاں پر ساتھ ہی بہت ہی زیادہ ٹھنڑا پانی بھی ہیں۔وہاں پر بیٹھ کر کھانے میں بہت ہی زیادہ مزہ آتا ہیں۔اسلیے سب نے کہا ٹھیک ہیں وہاں پر ہی بیٹھ کر کھانا کھاہیں گے۔

 

اس لیے ہم پہلے آبیٹ آباد پہنچے وہاں پر ایک مناسب سی جگہ ڈھونڈی کے جہاں پر بیٹھ کر ہم جو ساتھ لے کر آےٴ ہیں اس کو کھا سکیں۔اسلیے ہمنے پانی کے پاس جگہ ڈھونڈی وہاں پر بیٹھ کر ہم نے پکوڑے کھاےٴ اور ساتھ میں ٹھنڑی بوتلیں بھی پی اور کافی مزہ بھی کیا اور کافی دیر وہا١نپر بیٹھ کر باتیں کرتے رہے اور ایک دوسرے کو تنگ کرتے رہے۔



About the author

160