پہلے دور کے بچوں کی عید اور اب کے بچوں کی عید میں فرق حصہ دوئم

Posted on at


پہلے دور کے بچوں کی عید اور اب کے بچوں کی عید میں فرق حصہ دوئم


 



 


لیکن اب ایسا نہیں ہے اب وہ جوش و خروش نہیں دیکھا جاتا جو ہمارے دور کے بچوں میں تھا اب بچوں کو عید کا انتظار نہیں کرنا پڑتا کیونکہ پہلے ہی عیدی مل جاتی ہے یعنی عید سے پہلے ہی قریبی رشتے عیدی دے دیتے ہیں جیسے ماموں جان۔ پھوپھو۔دادی جان ۔وغیرہ اگر نہ بھی دیں تو اج کل کے بچے خور ہی مانگ لیتے ہیں۔
اور جو پہلے ہوتا تھا کہ عید پر عیدی ملے گی اور ہم بچے سارے پیسے عید پر ہی ختم کر لیتے تھےے اب ایسا نہیں ہے اب بچوں کا ہوتا ہے عید پر عیدی اکٹھی کرنی ہے اور عید کے بعد کوئی ویڈیو گیم۔کمپیوٹر کی کوئی چیز۔یا کوئی کھلانا وغیرہ لینا ہے اب بچوں کا دھیان اس طرف آ گیا ہے۔


 



 


اس طرف نہ دھیان دینے کی ایک وجہ یہ ہے کہ ہم لوگ بچوں کو پوکٹ منی اتنی زیادہ دے دیتے ہیں یعنی ان کی پوکٹ منی اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ جس کی وجہ سے ان کو یہ عام روٹین کی بات لگتی ہے وہ ویسے ہی اپنی پوکٹ منی سے اتنے پیسے اکٹھے کر لیتے ہیں۔
اب ایسا ہے کہ بچوں کو چھوٹی عید یعنی عید الفظر کی نسبت بڑی عید یعنی عید الضہی کا زیادہ انتظار ہوتا ہے کہ کب عید آئے گی اور کب وہ جانوروں کو باہر سیر کروانے لے کر جائیں گے یہ کہنا بھی درست ہو گا کہ کب جانور آئیں گے اور بچے ان کے ساتھ کھلیں گے ان کو چارا کھلائیں گے وغیرہ وغیرہ۔


 



 


ہمیں چائیے کہ ہم اپنے بچوں کو اسلامی تہواروں کے بارے میں بتائیں اور انہیں یہ بھی پتہ ہو کہ ہم یہ تہوار کس لیے مناتے ہیں تا کہ آنے والی نسلوں کو اس بارے میں پتہ ہو ۔



About the author

mian320

I sm mr.

Subscribe 1515
160