اُمت مسلمہ کے لئے "عید الفطر" کا تحفہ

Posted on at


اُمت مسلمہ کے لئے "عید الفطر" کا تحفہ



 


اللہ تعالٰی نے مسلمانوں پر بہت سے انعامات فرمائے ہیں۔ جن کا ہم ساری زندگی بھی شکر ادا کرتے رہیں تو ببھی کم ہے، ہر ایک قدم پر اللہ پاک نے اپنے نیک بندوں کے لئے ایک انعام رکھا ہے۔ اور اس کے علاوہ گنہگاروں کے لئے اس سے بھی زیادہ مواقع عطا کئے ہیں کہ وہ اپنے گناہوں سے توبہ کر کے اپنے گناہوں کی بخشش کرا سکیں۔


ایسا ہی ایک انعام اللہ تعالٰی نے اپنے پیارے حبیب حضرت محمدؐ کی امت "امت مسلہ" پر رمضان کے پورے مہینہ کی صورت میں عطا کیا ہے جس کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ اور اس مہیںہ میں اللہ نے اپنے بندوں کی مغفرت کا اعلان کیا ہے۔


اور پھر االلہ کی واحد شان ہے جو ہزاروں کروڑوں تعریفوں کے قابل ہے جس نے رمضان جیسے بابرکت مہینہ کے بعد بھی اپنے بندوں کو عید الفطر "چھوٹی عید" کی صورت میں ایک اور انعام عطا کیا۔



عید الفطر رمضان کے اختتام پر اور شوال کے پہلے دن منائی جاتی ہے۔ شوال کا چاند رمضان المبارک کی آخری رات میں نظر آتا ہے۔ اور اس رات کو چاند رات بھی کہتے ہیں۔ چاند رات کی فضیلت ایسی ہے کہ جیسے ایک مزدور سارا دن کسی کی مزدوری کرے اور اس سے اس کی مزدوری کا لینے کا وقت ہو۔ اور ایسے ہی اس رات مین اللہ تعالٰی اپنے روزہ دار بندوں اور عبادت گزار بندوں کی مغفرت فرماتے ہیں۔


کچھ لوگ ایسے ہین جو ساراہ مہینہ اپنے رب کو راضی کرنے میں گزارتے ہیں اپنے رب کی ہر بات کو ماننتے ہین لیکن اس رات کو وہ غلط کام کرتے ہیں مثلا بازاروں میں بغیر کام کے چلے جانا، لوفربازی کرنا، اور اس سے بھی زیادہ سنگین گناہ کرتے ہیں ان کی عبادت کا تو کوئی فائدہ نہیں نا کیونکہ وہ اپنے رب سے مزدوری لینے کے وقت حاضر ہی نہیں ہوتے۔ اور پھر صبح عید کا دن بھی حقیقی طور پر ان کے لئے بھی ایک عام دن کے ہی جیسا ہو جاتا ہے۔ اس لئے جتنا بھی ہو سکے چاند رات میں اپنے رب کی عبادت کرنی چاہیے۔ 


 


عید الفطر کا دن اللہ تعالٰی کی طرف سے اپنے ان تمام نیک بندوں کے لئے تحفہ ہے جو رمضان کے پورے مہینہ روزے رکھتے ہیں اور اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔ عید الفطر کا یہ دن ان تمام روزہ داروں کے لئے صبر کے پھل کے جیسا ہے جو پورہ مہینہ اپنے رب کی خوشنودی حاصل کرنے اور اپنے رب کو راضی کرنے میں گزارتے ہیں۔ عید الفطر کا تحفہ ان کے لئے ہے جو رمضان کے مہینے کے آخری عشرے میں اعتکاف بیٹھتے ہیں اور رات بھر اپنے رب کی عبادت کرتے ہیں۔



عید کے دن وہ بد نصیب انسان جو روزے نہیں رکھتا رہا اور رمضان مین بھی اپنے رب کی نافرمانی کرتا رہا ہو بہت مایوس دکھائی دیتا ہے اس دن اس کے چہرے پر وہ مسکان اور روشنی نہیں ہوتی جو کسی روزاہ دار اور عبادت گزار کے چہرے پر دیکھنے کو ملتی ہے۔



About the author

qamar-shahzad

my name is qamar shahzad, and i m blogger at filamannax

Subscribe 1504
160