کینسر کی حقیقت کیا ہے؟

Posted on at


کینسر کی حقیقت کیا ہے؟

کینسر ایک ایسا ہولناک لفظ ہے جس کا سننا ہی مریض اور اس کے اہل خانہ کو دہشت زدہ کردیتا ہے اور موت کا تصور ذہن میں در آتا ہے۔ کینسر یقیناً ایک جان لیوا بیماری ہے اس میں مریض کے صحت یاب ہونے کے امکانات بیماری کی شدت کے مختلف درجوں پر منحصر ہوتے ہیں۔ ابتدائی درجے پر تشخیص ہونے والے کیسز میں جدید ترین دواؤں اور طریقہ علاج کی بنا پر سینکڑوں مریض نارمل زندگی گزارنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔

کینسر کیا ہے؟ یہ کیسے شروع ہوتا ہے اور اس کا پیلاؤ کیسے ہوتا ہے، یہ ایسے سوالات ہے جن کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں۔

کینسر کا آغاز کیسے ہوتا ہے۔

انسانی جسم سینکڑوں اقسام کے خلیات (سیل) سے مل کر تشکیل پاتا ہے۔ انسانی جسم میں موجود تمام اعضاء کے خلیات کی اشکال اور طریقہء کار ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔ سیل کے نیوکلٔس یا مرکزہ میں موجود (جینز) کے اندر اس سیل کے طریقہء عمل اس کی تقسیم اور پھر خاتمے کے متعلق ہی تمام احکامات قدرت کی طرف سے موجود ہوتے ہیں۔ اور ہر سیل اُس کے مطابق ہی کام کرتا ہے، تقسیم ہوتا ہے، نئے سیلز بنتےہیں اور پرانے سیل ایک وقت مقررہ کے بعد ختم ہوجاتے ہیں۔ یہ تمام کام ایک خود کار نظام کے تحت انجام پاتے ہیں۔

کینسر کا آغاز سیل کی اندرونی مشینری میں ایک چھوٹی سی خرابی سے بھی ہوسکتا ہے جس کی بنا پر تقسیم اور خاتمے کے متعلق دی جانے والی ہدایات کے خلاف بغاوت شروع ہوجاتی ہے۔ نئے سیل تیزی سے بننے شروع ہو جاتے ہیں اور پرانے سیل اپنے وقت مقررہ پر ختم نہیں ہوتے۔ نئے بننے والے یہ خلیات بیمار یعنی کینسر زدہ خلیات کہلاتے ہیں اور ہر تقسیم کے دورارن اگلے خلیات میں یہ بغاوت یہ خرابی منتقل کرتے جاتے ہیں چونکہ یہ سیلز صحت مند سیل کی نسبت زیادہ تیزی سے تقسیم ہوتے ہیں اس لئے بہت سے خلیات گچھوں کی شکل میں مل جاتے ہیں اور جسم میں گلٹی یا ٹیومر کی تشکیل ہوتی ہے۔ ضروری نہیں کہ ہر گلٹی کینسرزدہ ہو بعض اوقات کچھ گلٹیاں بے ضرر بھی ہوتی ہیں یعنی کہ ان میں کینسر کے خلیات موجود نہیں ہوتے۔ لیکن وہ گلٹیاں جو کہ کینسر زدہ ہوتی ہیں وہ بڑھتے بڑھتے اپنے ساتھ موجود صحتمند خلیات کو اپنی لپیٹ میں لے کر ان کو بھی بیمار کردیتی ہیں۔ جسم میں کینسر والے خلیات کی موجودگی صحت پر کئی طرح سے اثر انداز ہوسکتی ہے۔ ان کی تیزی سے بڑھوتری دوسرے اعضاء کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ خون اور ضروری کیمیائی اجزاء لے کر جانے والی نالیوں کو بھی متاثر کر تی ہے۔ جس سے جسم میں درد اور دیگر کئی بیماریاں پیدا ہوجاتی ہیں۔ مثلاً لبلبے میں بننے والی گلٹی پچے سے خارج ہونے والی رطوبتوں کا راستہ بند کرسکتی ہے جس سے مریض کینسر کے ساتھ ساتھ یرقان میں بھی مبتلا ہوسکتا ہے۔ اسی طرح دماغ کے کسی بھی حصے میں بننے والی رسولی سے دماغ کے دیگر حصوں کے متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے بلاک آؤٹ اوردورے پڑھنے کے امکانات سے بڑھ جاتے ہیں۔

کینسر کا پھیلاؤ کیسے ہوتا ہے۔

متاثرہ حصے سے جسم کے دیگر حصوں تک کینسر کا پھیلاؤ اس سے ملحق جسم کے دوسرے عضلات اور بافتوں پر اثر انداز ہوتا ہے اور ان کو بھی اپنی لپیٹ لے لیتا ہے۔ مثال کے طور پر انتڑیوں کے اندرونی حصے میں پیدا ہونے والے کینسر کے سیلز انتڑیوں کی دیواروں سے گزر کر مثانے تک پھیل جاتے ہیں اور اس حصے کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔ دوسرے طریقے میں کینسر کے خلیات دورانِ خون میں شامل ہو کر جسم کے دور دراز حصوں تک اپنا راستہ بنالیتے ہیں۔ طبی اصطلاح میں اس عمل کو(میٹا سٹیسسز) کہا جاتا ہے اس عمل کے دوران جسم کے کسی بھی دوسرے حصے میں بننے والا ٹیومر پہلے بننے والے ٹیومر کی ہی خصوصیات کا حامل ہوگا۔ اس کی وضاحت اس طرح سے بھی کی جاسکتی ہے کہ مثانے میں پیدا ہونے والا کینسر اگر پھیپھڑوں تک رسائی حاصل کرلیتا ہے تو وہاں پیدا ہونے والے خلیات پھیپھڑوں کے کینسر کی بجائے انتڑیوں کے کینسر کی خصوصیات لئے ہوئے ہوں گے۔ جب کبھی بھی کینسر اپنے بنیادی مقام سے جسم کے دوسرے حصوں تک پھیلنا شروع کردے تو پھر اس کا علاج بہت مشکل ہو جاتا ہے اور اس میں کامیابی کا تناسب بہت کم رہ جاتا ہے۔

طریقہ علاج

کینسر کا علاج تین بنیادی طریقوں سے کیا جا سکتا ہے۔ سرجری یا آپریشن، ریڈیو تھراپی یا شعاعوں سے علاج، کیمو تراپی۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق اگر کسی شخص میں کینسر کی تشخیص ہو جائے تو پھر اس کا ایک چھوٹا سا آپریشن کیا جاتا ہے۔ اس میں مریض کے متاثرہ حصے سے ایک نمونہ لے کر اس کی مکمل جانچ پڑتال کرنے کے بعد کینسر کی شدت اور اس کے پھیلاؤ کا اندازہ کیا جاتا ہے۔ دوسرے مرحلے میں سرجن جسم میں موجود کینسر زدہ حصوں کو آپریشن کے دوران جہاں تک ممکن ہو علیحدہ کردیتےہیں تاکہ ان سے مزید کیسر پھیلنے کا اندیشہ نہ رہے۔ لیکن بعض اوقات آپریشن کے بعد بھی مزید علاج کی ضرورت پیش آسکتی ہے جو کہ ریڈیوتھراپی یا کیمو تھراپی سے کیا جاتا ہے۔ بعض مریضوں میں مرض کی نوعیت اور شدت کے اعتبار سے دونوں طریقوں کو مِلا کر بھی بروئے کار لایا جاتا ہے۔ کینسر اگرچہ ایک خطرناک مرض ہے اس کا علاج مہنگا بھی ہے اور تکلیف دہ بھی لیکن جتنی جلدی تشخیص ہو کر علاج شروع کر لیا جائے اتنے ہی کامیابی کے امکانات زیادہ بڑھ سکتے ہیں اور علاج کی کامیابی کا انحصار بہت حد تک مریضوں کی قوت ارادی اور اہل خانہ کی طرف سے بڑھائے جانے والے حوصلے پر بھی ہوتا ہے۔ اس لئے آزمائش کی اس گھڑی میں اپنے پیاروں کا حوصلہ بڑھائیے اور اللہ سے مدد مانگیے۔ بیماری اُس کی طرف سے آتی ہے اور بے شک  شفاء دینے والی ذات بھی وہی ہے۔



About the author

muhammad-haneef-khan

I am Muhammad Haneef Khan I am Administration Officer in Pakistan Public School & College, K.T.S, Haripur.

Subscribe 0
160