ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت

Posted on at


موجودہ دور میں انسانی زندگی میں ٹیکنالوجی کا بہت عمل دخل ہو گیا ہے. پہلے پہل ایک دوسرے سے ملاقات کے لئے میلوں کا سفر طے کر کے آنا پڑتا تھا. لیکن اس ملاقات میں پھر انسان کی اس لمبے سفر کی تھکاوٹ کی وجہ سے بہت سے جذبات بھی شامل ہو جاتے تھے. اور ایسی ملاقاتیں سالوں تک یاد رہتیں. پھر خطوط کا دور آیا تو خط کو آدھی ملاقات کہا گیا. جب کوئی اپنے پیاروں سے دور ہوتا اور اپنوں کی یاد ستاتی تو وہ کاغذ قلم تھام کر اپنے محبت بھرے جذبات الفاظ کی شکل میں کاغذ پی منتقل کر دیتے اور پھر اس کو اپنے پیاروں کی طرف بھیج دیا جاتا. جب یہ خط پیاروں تک پہنچتا تو وہ اس کو آنکھوں سے لگاتے اور اس خط کو پیار کرتے کہ یہ ان کے پیارے کی خبر لیا ہے. پھر سب گھر والے اکٹھے ہوتے اور خط پڑھ کر سنایا جاتا. جس جس کا خط میں ذکر ہوتا وہ ذرا مغرور ہو جاتا کہ میرے بارے میں لکھا گیا ہے. جس کا ذکر نہ ہوتا وہ خط بھیجنے والے سے ناراض ہو جاتا اور اس ناراضگی میں بھی بہت سارا پیار اور جذبات شامل ہوتے. اور خط بھیجنے والا خط بھیج کہ بہت بے چینی سے خط کے جواب کا انتظار کرتے.


اس زمانے میں عاشق بھی اپنی محبوبہ کو اور محبوبہ اپنے عاشق کو محبت کے خط بھیجتی. ایک خط کو ہزاروں بار پڑھا جاتا اور ہر بار اسے کہ جسے پہلی بار پڑھ رہی ہوں.خط لے کر جانے والے کا بھی انتظام کیا جاتا. لیکن اس کا ایک نقصان ہوتا کہ خط پکڑے جانے کی صورت میں بچنا نہ ممکنات میں سے ہوتا. لیکن اس دور میں تو ان چیزوں کو انٹرنیٹ اور موبائل فون نے ختم کر دیا ہے. بیشک موبائل اور انٹرنیٹ نے دوروں کو مٹا دیا ہے لیکن ان کے استمال میں وہ جذبات نہیں رہے. بار بار بات ہو جانے سے ملاقات کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی اور یوں ہم اپنوں کے قریب ہو کر بھی دور ہو جاتے ہیں.


موبائل اور انٹرنیٹ نے عاشقوں اور معشوقوں کے لئے بہت آسانی پیدا کر دی ہے ہر وقت دوست کے نام پر ایک دوسرے سے باتیں کرتے رہتے ہیں اور بڑوں کو خوب بیوقوف بناتے ہیں. لیکن اس کا نقصان آخر میں وہ اور انکا پورا خاندان اٹھاتے ہیں.


پہلے عید کے موقع پر عید کارڈ کی روایت بہت عام تھی. عید کے آنے سے پہلے اپنے دوستوں اور عزیزوں کے لئے عید کارڈ خریدے جاتے تھے. عید کارڈز کے سٹالز جگہ جگہ دیکھنے کو ملتے تھے. گھنٹوں سٹال پے کھڑے ہو کر سینکڑوں کارڈز میں سے خاص شخص کے لئے اس کی شخصیت کے عین مطابق کارڈ ڈھونڈ کر نکالا جاتا. پھر اس میں لکھنے کے لئے شعر ڈھونڈے جاتے. اور رنگ برنگی پن خریدے جاتے تا کہ کارڈ کو مزید خوبصورت بنایا جا سکے. لکھتے ہوئے اس بات کا خیال رکھا جاتا کہ کہیں کوئی لفظ غلط نہ ہو جائے یا لکھائی بری نہ ہو. اس سب میں بہت سے جذبات اور احساسات شامل ہوتے. محبت کی خوبصورت رنگ اور جذبوں کی مٹھاس شامل ہوتی.


موبائل اور انٹرنیٹ نے یہ سب ختم کر کے رکھ دیا ہے. اب تو یہ سب ناپید ہو چکا ہے. ایک میسج جو کہ کسی اور کا بھیجا ہوا ہوتا ہے اسی کو سب کی طرف فارورڈ کر دیا جاتا ہے اور یوں عید کی مبارکباد کے فرض سے سبکدوش ہو جاتے ہیں. یا انٹرنیٹ پر گوگل سے ایک تصویر داؤن لوڈ کر لی جاتی ہے جس پے بہت خوبصورتی سے عید مبارک کا پیغام لکھا ہوتا ہے لیکن وہ خوبصورت رنگ جذبات سے بلکل عاری ہوتے ہیں.



About the author

Sahar_Fatima

I am Sahar Fatima. And I am interested in bloging.

Subscribe 997
160