کھیرا

Posted on at


 


پاکستان میں شکل اور ذائقہ کے لحاظ سے کھیرا اور ککڑی دو مختلف چیزیں ہیں۔ انگریزی میں کھیرے کو کوکمبر کہتے ہیں۔ پاکستان میں کھیرے کے جلد چمکدار صاف اور ملائم ہوتی ہے۔ جبکہ غیر ممالک کے کھیروں کی جلد موٹی اور دانے دار ہوتی ہے۔ اس کا رنگ گہرا سبز مگر چمک سے محروم ہوتا ہے۔ اس کا پودا ایک رینگنے والی بیل ہوتی ہیں۔ اور اس کے خاندان میں بہت سی سبزیاں تعلق رکھتی ہیں۔ جن میں خربوزہ، گھیا توری، کدو، اندرائن اور ککوڑا شامل ہیں۔



کھیرا خود رو ہے یہ خود بخود اگ آتا ہے۔ کھیرے کی جنگلی قسمیں بھی پائی جاتی ہیں۔ سب سے اچھا کھیرا پکا ہوا ہوتا ہے۔ یہ جسم کو ٹھنڈک پہنچاتا ہے۔ خاص طور پر اگر معدہ اور آنتوں میں کسی وجہ سے حدت محسوس ہو رہی ہو تو کھیرا کھانا چاہیے۔ کیونکہ کھیرے کی تاثیر ٹھندی ہوتی ہے جس کی وجہ سے یہ معدہ اور آنتوں کو ٹھنڈک پہنچائے گا اور آنتوں کی سوزش کو کم کرتا ہے۔ پیاس بجھاتا ہے۔ جگر سے سدے نکالتا ہے۔ سر درد میں مفید ہے۔ گرمی کے دستوں کو فائدہ دیتا ہے اور مود کی کمزوری کو ختم کرتا ہے۔



اسے چھیلے بغیر نمک لگا کر کھانا بہت فائدہ مند ہے۔ کیونکہ اس طرح سے یہ جلد ہضم ہو جاتا ہے۔ جبکہ چھلنے کے بعد دیر سے ہضم ہوتا ہے۔ کھانا کھانے کے ساتھھ اور دودھ کے ساتھھ کھانا مناسب نہیں ہے۔ کھیرا کھانے سے یرقان کو فائدہ ہوتا ہے۔ کھیرے کو زیتون یا تلی کے تیل میں ملا کر اتنا پکائے کہ صرف تیل رہ جائے۔ یہ تیل پلانے سے مثانہ کی پتھری نکل آتی ہے۔ اعصابی کمزوری میں اس تیل کی مالش کرنے سے فائدہ ہوتا ہے۔ کھیرے پر نمک اور کالی مرچ ڈالنے کے بعد اگر اس پر لیموں نچوڑ کر کھایا جائے تو اس سے لذت اور غذائیت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔



یہ کھانے کو جلد ہضم کرتا ہے اور بھوک بڑھاتا ہے۔ کھیرے کا چھلکا ہضم نہیں ہوتا ہے کیونکہ اس پر کھیتوں سے کھاد وغیرۃ کے ذرات لگے ہوتے ہیں۔ اس کو کھانے سے پہلے چھلکے کو اتار دینا ہی ٹھیک ہوتا ہے۔


 



About the author

noor-fatima

M a Engnieer

Subscribe 966
160