ہمارے معاشرے میں بچے جنسی تشدد کا شکار کیوں بنتے ہیں۔۔۔ ؟

Posted on at


ہمارے معاشرے میں بچے جنسی تشدد کا شکار کیوں بنتے ہیں۔۔۔ ؟

 

ہمارے معاشرے میں بچوں کی جنسیت کو دبا دیا جاتا ہے۔ اور کوئی اہمیت نہیں دی جاتی جبکہ بچے اپنی جنسیت کو جاننے کے شوقین ہوتے ہیں لہٰذا جب بچے والدین سے اپنی جنسیت کے بارے میں سوالات کرتے ہیں تو والدین اپنے بچوں کو ڈانٹ کر چپ کرا دیتے ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ تشدد کرنے والے بچوں کی جنسیت کا غکط فائدہ اٹھا کر ان بچوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنا لیتے ہیں۔ اور خاص کر وہ بچے جنسی تشدد کا نشانہ ذیادہ بنتے ہیں ہو تے احساس کمتری کا شکار ہوتے ہیں جن کی طرف ان کے والدین کا رجحان اور کم ہوتا ہے اور انہیں والدین سے پوری توجہ بھی نہیں ملتی۔

تشدد کرنے والا ان کے تخیل اور تجسس کا فائدہ اٹھاتا ہے، یا بھر انھیں کھلونے اور ٹافیاں دے کر ورغلاتا ہے اور یا پھر ان کی جذباتی بے راہردی کو استعمال کرتا ہے، اور اگر اس کا شکار اس کے ان تمام طریقوں سے جال میں نہ آئے تو وہ سب سے قدیمی انداذ اختیار کرتا ہے اور وہ ہے زبردستی اور یہ ہی سب سے زیادہ مہم جویانہ طریقہ ہے۔

یہ وہ طریقے ہیں جن سے نہ صرف تشدد کرنے والا معصوم بچوں کو جال میں پھنساتا ہے بلکہ حد درجے تک جا کہ ان کی جان بھی لے سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق آج تک ایسا کوئی سائنسی طریقہ یا پھر نفسیاتی ٹیسٹ نہیں ہے جس سے یہ پتہ چل سکے کہ تشد کرنے والا شخص یہ تشدد کیوں کرتا ہے۔ اس کے پس پردہ کیا وجوہات ہیں چنانچہ یہ کہنا تشدد کرنے والا شخص نفسیاتی مریض ہوتا ہے یا ذہنی طور پر بیمار ہوتا ہے یہ سب باتیں بے معنی ہیں۔

کیونکہ تشدد کرنے والا شخص کوئی مخصوص حلیہ نہیں رکھتا نہ ہی خصوصا اس کے متعلق کوئی دستاویزات ہیں کہ جن کے بارے میں کوئی بیان دیا جاسکے۔ جو واضح کر سکے کہ یہ شخص ہی بچوں کے ساتھ ایسا تشدد کرتا ہے۔

 



About the author

qamar-shahzad

my name is qamar shahzad, and i m blogger at filamannax

Subscribe 1504
160