پہلے دور کے ڈراموں میں اور آج کے دور کے ڈراموں میں فرق حصہ سوئم

Posted on at


پہلے دور کے ڈراموں میں اور آج کے دور کے ڈراموں میں فرق حصہ سوئم


 



 


 


پہلے دور کے ڈراموں میں اپنی تہذیب و ثقافت کو بہت مدنظر رکھا جاتا تھا اور آج کل کے ڈراموں میں مغربی تہذیب دیکھائی جاتی ہے دوپٹے کا نام و نشان نہیں ہوتا اور کوئی عام گھر میں بھی لڑکی دیکھائی جاتی ہے تو اس کے بھی آس پاس دوپٹہ نہیں دیکھایا جاتا مغربی تہذیب کو ہی فیشن اور سٹائل سمجھا جاتا ہے اور انگلش بولنے والے کو پڑھا لکھا اور فیشن ایبل سمجھا جاتا ہے۔


 



 


 


پہلئ دور میں ایسا ہوتا تھا کہ کوئی بھی ڈرامہ چاہے وہ کامیڈی ہو یا معاشرتی پہلو سب لوگ یعنی گھر کا ہر فرد چاہے وہ بڑا ہو یا چھوٹا مل کر ڈرامہ دیکھ لیتے تھے اور آج کل یا ہے کہ کوئی کا میڈی ڈرامہ بھی لگا ہو تو وہ سب مل کر بیٹھ کر نہیں دیکھ سکتے کیونکہ اس میں بعض دفعہ ایسے ایسے مزاح کیے جاتے ہیں کہ بعض دفعہ انسان شرمندہ ہو جاتا ہے۔


تھیٹر کی تو بات ہی نہ کو سوائی فخاشی اور بے حیائی کے کچھ نہیں رہ گیا پہلے دور میں لوگ اپنی فیملی کو تھیڑ دیکھانے لے کر جاتے تھے اور اب اس کا تصور بھی نہیں کیا سکتا کہ فیملی کے ساتھ بیٹھ کر دیکھا جائے۔



 


 


پہکے دور میں ایسا ہوتا تھا کہ جب ڈرامہ لگنے کا ٹائم ہوتا تھا تو سڑکیں ویران ہو جاتی تھیں کہ ڈرامے کا ٹائم ہے اب ایسا نہیں ہے۔


ہمیں اس بات ہر دھیان دینا ہو گا کہ ہم اپنے ڈراموں میں کپڑوں پر توجہ دیں مثلا جینز کی پینٹ شرٹ دیکھائی جاتی ہے اور دوپٹے کا نام و نشان نہیں دیکھایا جاتا جو سب پہلے دیکھایا جاتا تھا وہ دیکھایا جائے کیونکہ میڈیا بچوں کی زندگی میں بہت اہم کردار ادا کرتا ہے جو دیکھایا جاتا ہے وہ کاپی کرتے ہیں اس لیے لکھاریوں کو بہت سوچ سمجھ کر ڈرامہ لکھنا چائیے اور پیش کرنے والوں کو اچھے سے اوربڑے سلیقے سے پیش کرنا چائیے۔



About the author

mian320

I sm mr.

Subscribe 1515
160