ہمارے معاشرے میں بچے جنسی تشدد کا شکار کیوں بنتے ہیں۔۔(حصہ دوم) ؟

Posted on at


ہمارے معاشرے میں بچے جنسی تشدد کا شکار کیوں بنتے ہیں۔۔۔ ؟



میرے پچھلے بلاگ میں بیان کی گئی صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے ہر کسی پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ ہمارا رویہ مشکوک ہو جائے مگر نظر رکھنا اور احتیاط کرنا بے حد ضروری ہے۔


مثال کے طور پر اگر آپ اپنے بچوں کو گھر میں چچا کے ساتھ چھوڑا ہے تو آپ یہ کر سکتے ہیں کہ مقررہ وقت سے پہلے اچانک گھر آ سکتے ہیں۔ یعنی اگر آپ نے کہا کہ میں گھر دو بجے تک آ جاوں گا۔ تو آپ ایک بجے آ جائیں یہ ایک طرح کا چیک ہو سکتا ہے۔



ہماری روز مرہ زندگی میں کون سا ایسا شخص ہو سکتا ہے اس سوال کے زریعے جواب دہندگان سے اس اندیشے پہ نظر ثانی کرنے کے لئے پوچھا گیا۔ 


آپ کے خیال میں کون کون جنسی تشدد کرسکتا ہے۔ سوال کو جواب کی وسعت کے پیش نظر مزید جزویات میں تقسیم کیا گیا۔


مولوی استاد ملازم پڑوسی بھائی بہن دوسرے کل 157 جواب دہندگان سے ہمیں 391 یعنی 248.8٪ جوابات حاصل ہوئے۔



 


اس ٹیبل کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ پتہ چلتا ہے کہ جب جواب دہندگان سے یہ پوچھا گیا کہ آپ کے خیال میں اوپر دہیے گئے افراد میں سے کون بچوں کے ساتھ جنسی ذیادتی کرسکتا ہے۔ تو اس پر 77.7٪ جواب دہندگان کی مولوی کے بارے میں یہ رائے پائی گئی کہ "ہم نے ذیادہ تر مولوی کے متعلق سنا ہے کہ وہ بچوں کے ساتھ ایسا کرتے ہیں" اس سوال کے جوب میں کئی جواب دہندگان نے مولویوں کے متعلق بچوں پر جنسی تشدد کے واقعات بھی سنائے اور بہت افسوس کا اظہار کیا کہ بد قسمتی سے ہمارے معاشرے میں اس مزہبی طبقے کے بارے میں کچھ اچھی رائے نہیں پائی جاتی۔


 



 


مذہبی رہنما کے بارے میں حاصل شدہ اعداد و شمار ایک چھپی ہوئی صورتحال کی عکاسی کر رہے ہیں۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ چونکہ گھروں میں ایسے حادثات رونما ہوتے ہیں لہٰزا اس وجہ سے یہ حادثات بہت کم تھانے میں رپورٹ ہوتے ہیں لیکن اگر براہ راست لوگوں سے یہ پوچھا جائے تو بہت زیادہ تعداد میں لوگ اس گرو کی شکایت کرتے ہیں۔ اور گھریلو ملازمین کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ہم نے اکثر سنا ہے کہ گھروں میں اکثر ملامین بھی مالکان کے بچوں کو اپنی جنسی ہوس کا شکار بناتے ہیں۔ اور ملازمین کے بارے میں بھی افسوس ناک واقعات سنائے۔



About the author

qamar-shahzad

my name is qamar shahzad, and i m blogger at filamannax

Subscribe 1504
160