ہمارے معاشرے میں بچے جنسی تشدد کا شکار کیوں بنتے ہیں۔۔(حصہ سوم) ؟

Posted on at


ہمارے معاشرے میں بچے جنسی تشدد کا شکار کیوں بنتے ہیں۔



 


اس کے متعلق ایک سروے کیا گیا جس میں 35.6٪ لوگوں کے مطابق سکولوں کے ٹیچر بھی بچوں کے ساتھ جنسی تشدد کرتے ہیں۔ جبکہ 31.2٪ جواب دہندگان نے کہا کہ ان کو پڑوسیوں پر بھی یقین ہے۔ "کیونکہ آج کل کے دور میں کسی کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا" لہٰزا ہم یہ نہیں کہ سکتے کہ پروسی ایسا نہیں کر سکتے۔ 26.7جب بھی ہمارے بچے کسی پروسی کے ہاں کھیلنے جاتے ہیں ہمیں اسی بات کا ڈر رہتا ہے۔٪ جواب دہندگان نے کہا کہ کوئی کزن، چاچو بھی ایسا کر سکتا ہے۔ اور ان سب کے متعلق جنسی واقعات بالکل ناقبل یقین تو تھے پر اتنے سچے بھی تھے۔


 


 


یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ یہ ان جواب دہندگان کی رائے تھی جو کہ یہ سمجھتی تھیں کہ کوئی بھی رشتہ دار اس معاملے میں قابل اعتبار نہیں ہے اور نہ ہی ہو سکتا ہے لہٰزا جب ان سے اپنے کسی قریبی کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا جواب تب بھی ہاں میں تھا اور ساتھ یہ بھی انہوں نے کہا کہ "اب تو بالکل بھی کسی رشتہ پر اعتماد نہیں رہا"


ایسے نازک اور سنگین حالات میں والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کا خیال رکھنےکے ساتھ ساتھ انہیں جنسی تربیت بھی دیں اور بچوں کو ان کی جنسیت کے بارے مین بتائیں تا کہ وہ بچے معاشرے میں ایسے جنسی تشدد کرنے والے شکاریوں کا شکار نہ بن سکیں۔ اور آج کل کے نازک زمانے مین بچوں کو جنسی تشدد سے بچانے کا یہ ہی ایک حل ہے کہ انہیں اس کے بارے میں تربیت دی جائے۔



About the author

qamar-shahzad

my name is qamar shahzad, and i m blogger at filamannax

Subscribe 1504
160