ویمنز ڈیجٹل خواندگی روبان اور براڈن فراری کے ساتھ ایک آئن لائن جیولری ڈیزائن سے ایس اے بی آر کیپیٹل منیجمنٹ

Posted on at

This post is also available in:

ڈبیلو اے:کیا آپ مختصر طور پر اپنے اور   اپنے بیک گراونڈ کے بارے میں بتا سکتے ہیں ؟

بی ایف:میں وسط عرب ،میں بڑا ہوا ایمش ملک سے بہت دور نہیں تھا ،ابتدائی عمر سے ہی میں مختلف ثقافتوں سے آگاہ رہا اور ہمیشہ سے مجھے دوسری ثقافتوں میں دلچسپی رہی،زبان اور سفر میں۔میرے والدین اور میرا سکول جس میں نے پڑھا اُس نے مجھ میں یہ شعور اُجاگر کیا کہ میں ایک تنظیم میں شامل ہو جاوں اور خیرات دینے میں ،اور میں وہ خوش قسمت انسان ہوں جسکو بہت سی بہترین اداروں کےسا           تھ رضاکارانہ طور پرکام کرنے کا اور   بورڈ ممبر رہنے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔1990 میں کالج سے گریجویشن کرنے کے بعد میں نیویارک کی طرف روانہ ہوا جو کہ دنیا کے خزانہ کا درمیان ہے مہاتن انوسٹمنٹ بنک کے ساتھ کام کرنے کے لیے۔میرا ہمشہ سے زندگی میں دلچسپی سٹاک مارکیٹ میں تھی اور میں نے کالج میں بھی معاشیات کے بارے میں پڑھا تاکہ میں مارکیٹ کی حرکت کرتی چیزوں اور مارکیٹ کی تاریخ کو اچھے طریقے سے سمجھ سکوں۔این وائی کی طرف جاتے ہوئے میں بہت خوش قسمت تھا کہ میری قریبی فیملی این وائی سی کی طرف واپس آئے جسکی وجہ سے ہم لوگ اکثر فیملی خوشیوں اور اکھٹے ہونےکے لیے ایک ساتھ ہوتے تھے۔میری بیوی کی فیملی بھی یہاں کی مقامی تھی تو ہمارے پاس ایک بہترین زریعہ تھا  

 

ڈبلیو اے: جیسا کہ بانی اور مینجنگ حصہ دار ہے ایس اے بی آر کا کیا آپ بتا سکتے ہیں اسکے مقصد اور آپریشن کے بارے میں؟ بی ایف: ایس اے بی آر کیپیٹل کو وجود میں لایا گیا کچھ سال پہلے میرے ہمیشہ کے زندگی کے کاروبار کے ساتھی کے ساتھ،ایرایل ایماس۔ہم نے دیکھے اور سنے بہت سے چھوٹے پیمانے پر کام کرنے والے عوامی کمپنیاں جو اس محنت میں لگے رہتے ہیں کہ وہ اپنے انوسٹرز کی توجہ کو حاصل کرسکیں اور اپنے کام کو چھوٹے پیمانے سے لے کر بڑے پیمانے کے مقابلے تک لے کے جائیں۔ہم نے ایس اے بی آر کو بنایا ایک ایسے پلیٹ فارم کی دعوت دینا جو چھوٹے پیمانے پر کام کرنے والی عوامی کمپنیوں کو موقع فراہم کرتی ہے ناسڈک ،این وائی ایس ای یا او ٹی سی مارکیٹ اپنے کام کو اجاگر کرنے کے لیے اور متارف کرانے کے لیے اپنے انوسٹرز کے لیے ،تاکہ پیدا کیا جائے لائے عمل مواقع اور ان کی نصیحت پر روابط رکھنا مارکیٹ سے۔ہمارے پاس بہت بڑا موقع ہے کہ ہم کام کرسکیں ایک ڈاورس گروپ کی کمپنی سے جس کی حد شروع ہوتی ہے این وائی سی عوامی کمپنی سے جہاں پر وہ انجنیر بناتے ہیں کمپنیوں کے لیے جیسا کہ سٹاربگز اور اب رہائش بنانے والے جو بناتے ہیں "سبز"رہائشی مکانات ریسائکل شیپنگ کنٹینرز سے ،دوسرے عوامی تجارتی کاروبای تعلق ہے ملٹی بلین این وائی ایس ای کمپنی کے ساتھ۔ہم حقیقت میں بہت زیادہ لطف اندوز ہوئے کام کرنے میں منیجمنٹ ٹیم کے ساتھ تاکہ مدد فراہم کریں اور بہترین مشورہ دیں اس اُمید کے ساتھ کہ ہم شیئر ہولڈر کے اُمیدوں پر پو را اُتریں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم نے ایک کوہ سپانسر ایک ادارہ بنایا انوسڑز کا بہترین مشورہ دینے والا کانفرنس سکلٹی روط زیبل ایل ایل پی کے ساتھ جس نے میزبانی کی پہلی بار 2013 میں اور اب بھی وہ میزبانی کرے گا بیسٹ مشورہ کانفرنس کا آنے والے قریبی ستمبر 2014 میں بھی۔ ڈبیلو اے: جو کہ ویمنز انکس فاونڈیشن کو اطیاط دینے والے ہیں،آپ کسطرح ڈیجٹل خواندگی کے کردار کو دیکھتے ہیں لوگوں کو طاقت ور بنانے میں،خاص طور پر عورتوں کو ترقی پزیر ممالک میں جیسا کہ افغانستان ؟ بی ایف: ہمیں اس بات پر بہت فخر ہے کہ ہم اس فاونڈیشن کے مدد کرنے والے ہیں اور خوش قسمت ہیں کہ ہم نے سیکھا بہت کچھ اور کامیابی جو کہ افغانستان میں حاصل کی گئی۔ڈیجیٹل خواندگی حساس طور پر اہمیت کی حامل ہے تعلیم کے لیے اور یہ ایک طاقت ور ہنر ہے جو کہ ہر کسی کو اسکی ضرورت ہے اور اسکو اس کے بارے میں آگاہی بھی حاصل ہونی چاہئےاس دور عمر میں۔حتاکہ دنیا کے ترقی والے علاقوں میں بھی ،جیسا کہ افغانستان، مقصد رکھنے والے،زہین قابل عورتیں جو وہاں پر رہتی ہیں ،اُن کے ایک انڑنیٹ کا کنکشن ہو تاکہ وہ اپنی زندگی بنا سکیں اور اُن کو مواقع مل سکیں کہ وہ اپنے لیے کاروبار شروع کر یں،سیکھیں،اپنے کچھ دوست بنائیں اور اپنی فیملی اور دوسرے لوگوں کے ساتھ بات چیت کرسکیں دنیا میں۔جب وال سڑیٹ جنرل کو پڑھنگے ،بلوم برگ اور دوسرے شائع کرنے والے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ڈیجیٹل خواندگی ایک رواج ہے لیکن یہ بھی نظر آتا ہے کہ یہ چلتے دور میں ایک اہم حصہ ہے ہر ایک کی زندگی کا جہاں تک کہ آنکھ دیکھتی ہے۔ ڈبلیو اے: آپ کی بیوی روبین ایک کاروباری خاتون ہیں فارسی ورثہ کے ساتھ۔ روبین ، کیا آپ اپنے اور اپنے پس منظر کے بارے میں تفصیل سے بتا سکتی ہیں؟ آر ایف: میری والدہ کالج اٹینڈ کرنے کے لیے تہران سے ریاستہائے متحدہ آئیں۔ وہ میرے والد سے گریجویٹ سکول میں ملیں، انہوں نے شادی کی اور نیویارک میں تب سے رہائش اختیار کی۔ میرا خاندان ایرانی فارسی ثقافت سے ہے ، اور لذیذ فارسی کھانے( میری دادی کا میرا پسندیدہ ہے، یقیناَ) میں اپنے فارسی ورثہ پر مخر کرتی ہوں اور میں خود کو خوش قسمت سمجھتی ہوں کہ میں ایک متنوع خاندانی پس منظر کے ساتھ بڑھی ۔ میرے والد کا ورثہ سکاٹش اور جرمن ہے اور وہ کنساس سے ہیں۔ لہذا میں نے بہت وسیع پہلو حاصل کیا۔

 

ڈبلیو اے: کس چیز نے آپ کو روبین فراری ڈیزائن اور آن لائن جیولری کے کاروبار کا آغاز کرنے کے لیئے متاثر کیا؟

آر ایف: روبین فراری ڈیزائن بہت عضویاتی طور پر شروع کیا گیا۔ ڈیزائننگ اور تخلیق کرنے کا کام ایسا تھا جس کو میں اس وقت کرچکی تھی جب میں ایک بچی تھی۔ میں نے ہمیشہ اطمینان حاصل کیا ان چیزوں کو بنا کر جن کا میں نےتصور کیا۔ ایک بالغہ کے طور پر میں نے اپنے شوہر کی شادی کا بینڈ بنانے کا فیصلہ کیا انہیں کچھ خاص دل سے دینے کے لیئے۔ جب میرے بچپن کی دلچسپی میرے شوق میں تبدیل ہوئی میں نے اپنی ذات کے لیئے جیولری بنانا شروع کردی۔ اس شوق نے ایک کاروبار میں نشو ونما پائی جب اجنبی میری جیولری جو کہ میں نے پہنی ہوتی تھی کو خریدنا چاہتے تھے۔ میں نے محسوس کیا کہ مجھے ایک ایسی جگہ تخلیق کرنے کی ضرورت ہے جہاں میں اپنے کام کو دکھا سکوں اور اس کو فروخت کر سکوں، جیسا کہ وہاں اس کی ڈٰیمانڈ تھی۔ میری پیشہ ورانہ زندگی اس نکتہ پر تھی اکیلی ادارہ اور گلوکارہ اور اگرچہ یہ ایک قدرتی تخلیقی اضافہ تھا، یہ پرجوش اور خوف زدہ کرنے والا تھا کیونکہ یہ غیر مانوس تھا۔ میں نے روبین فراری ڈٰیزائن کو ایک آن لائن شاپ کے طور پر اٹسی ڈاٹ کام پر ایک تجربے کے طور پر شروع کیا اور میری جیولری نے فروخت ہونا شروع کردیا۔ اس فروخت کے پوائنٹ سے روبین فراری ڈیزائن نے نشوونما پائی۔ میں اپنے کام کو اٹسی پر فروخت کرنا جاری رکھے ہوئے ہوں اور اس کے ساتھ ساتھ بوتیکس پر بھی اور ذاتی طور پر نیو یارک کے علاقوں میں بھی فروخت جاری رکھے ہوئے ہوں۔

ڈبلیو اے: اپنے ذاتی تجربے کی بناء پر ایک آن لائن کاروبار کو تعمیر کرتے ہوئے آپ ان افغان خواتین کو کیا مشورہ دیں گی جو کہ اپنی مصنوعات تخلیق کرنا چاہتی ہیں اور اپنی مالی خود انحصاری تعمیر کرنا چاہتی ہیں؟

آر ایف: انٹر نیٹ تک رسائی رکھتے ہوئے اور انٹر نیٹ کو چلانے اور اس سے استفادہ حاصل کرنے کا علم رکھتے ہوئے ایک مارکیٹ پلیس کے طور پر بہت روشن تھا میرے کاروبار کو شروع کرنے میں۔ کام جو کہ وومنز انیکس فاؤنڈیشن کر رہی ہے یہ ہبہت اہم ہے کیونکہ یہ اہم آؒلات مہیا کرتی ہے خواتین کو کچھ با معنی چیزیں تخلیق کرنے میں خود مختار بنانے کے لیئے اور ان کی اور ان کے خاندانوں کی مدد کرتی ہے۔

 

میرا مشورہ ان افغان خواتین کے لیئے جو کہ ایک کاروبار تعمیر کرنا چاہتی ہیں اور مالی خود مختاری حاصل کرنا چاہتی ہیں یہ ہے کہ وہ اپنی طاقت کے ساتھ کام کریں اور اپنی اندرونی طاقت پر بھروسہ کریں ۔ میرے خٰیال میں پہلا قدم یہ ہے کہ اپنی ذات سے پوچھیں کہ آُ پ کس چیز کے متعلق پرجوش ہیں اور آُ پ کس سے لطف اندوز ہوتی ہیں۔ اس معلومات کو استعمال کرتے ہوئے ، کون سے چیز /خدمت/علم کا آُپ دوسروں کے ساتھ اشتراک کر سکتی ہیں جو کہ ان کی زندگیوں کو بہتر بنا سکے اور/یا آسان ؟ تب، آپ کے گاہک لوگ ہوں گے جو آُ پ کی چیز/خدمت/علم سے فائدہ حاصل کر سکیں۔ اب آُ کے پاس سب سے مؤثر پلیٹ فارم کو منتخب کرنے کا علم ہو جو کہ آپ جو کچھ کرتے ہیں اس کی ستائش کرے اور آُپ کی ٹارگٹ مارکیٹ کی اور آُپ کے کاروبار کی نشاندہی کرے اور اسے نمودار کرنا شروع کرے ان لائن متوقع کلائنٹس کے لیئے۔

ایک کاروبار تعمیر کرنا اور وہاں اپنی ذات کو لگانا خوفزدہ کرنے والا ہے مگر یہ پر لطف ہے اور میں نے اس مدد گار پایا ہے اجنبی تک رسائی حاصل کرنے میں ایک صحتمند احساس کے ساتھ اور رضامندی کے ساتھ کہ تجربہ حاصل کیا جائےاور غلطیاں کی جائیں۔ اسطرح سے آپ سیکھ سکتی ہیں نشوونما دے سکتی ہیں اور تعمیر کر سکتی ہیں ایک ایسا کاروبار جس پر آپ فخر کر سکیں۔

 

فرشتے فروغ فلم انیکس سینیئر ایڈٰیٹر

برائے مہربانی فلم انیکس پر میرے ذاتی پیج پر آئیں اور سبسکرائب کریں۔ برائے مہربانی وومنز انیکس پر بھی آئیں اور سبسکرائب کریں اسے اپ ڈٰیٹس ،مضامین اور وڈیوز کے لیئے



About the author

syedahmad

My name is Syed Ahmad.I am a free Lancer. I have worked in different fields like {administration,Finance,Accounts,Procurement,Marketing,And HR}.It was my wish to do some thing for women education and women empowerment .Now i am a part of a good team which is working hard for this purpose..

Subscribe 3477
160