دوائیں بچوں سے دور رکھیں

Posted on at


دوائیں بچوں سے دور رکھیں


 


 



 


 


ہم نے نوٹ کیا ہو گا کہ  ہر ایک دوائی پر چاہے وہ بوتل میں ہو یا ڈبیہ میں اس پر لکھا ہوتا ہے کہ دوا بچوں سے دور رکھیں لیکن پھر بھی بہت سارے ایسے واقعات پیش آ جاتے ہیں جن سے ہماری لاپرواہی ظاہر ہوتی ہے کہ بچے نے دوائی کھا لی جس سے اس کی موت واقع ہو گئی یا اس سے اس کو اور اس کے والدین کو پریشانی اٹھانی پڑ گئی۔


آج اسی طرح کا ایک واقعہ میری دوست کے ساتھ پیش آیا کہ اس کے بچے نے دراز میں سے اپنی دادی کی دوائی کھا لی ہے اب اللہ جانے وہ کس چیز کی تھی مطلب کس بیماری کی تھی اور وہ عجیب طرح کا ری ایکٹ کر رہا تھا وقت پر پتہ چلنے پرڈاکٹر پر لے گئے ڈاکٹر نے اس کا معدہ صاف کیا اور وہ اب کچھ بہتر ہے بچے سے پوچھا کہ اس نے ایسا کیوں کیا تھا تو اس نے بتایا کہ وہ بنٹی کی طرح کی تھی اور اس نے کہا کہ ماما مجھے اس کا رنگ بھی بہت پسند ہے بچہ تھا نہ اس کو جیسا لگا اس نے بتا دیا۔


 


 



 


 


اس نے مجھے کہا کہ دیکھو نہ دوائیں بنانے والی کمپنی کی یہ غلطی ہے اسے اس طرح کی رنگ برنگی دوائیں نہیں بنانی چائیے جسے دیکھ کر بچے کو جستجو ہو کہ وہ اسے دیکھے یا اسے کھانے کی کوشش کرے اس بات میں بھی پوائنٹ تھا لیکن وہ ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں احتیاط ہماری ذمہ داری ہے انہوں نے اسی وجہ سے ہر دوائی اور ڈبے پر یہ لازمی لکھا ہوتا ہے کہ دوا بچوں سے دور رکھیں ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں اور دوائیں اس جگہ رکھ کر جہاں بچوں کا ہاتھ پہنچتا ہو نقصان اٹھا لیتے ہیں اور اپنی غلطی کو ماننے کی بجائے دوسروإ میں سے خامیاں نکلانا شروع کر دیتے ہیں۔


میرا بلوگ لکھنے کا یہ مقصد تھا کہ ہمیں کسی پر تنقید کرنے کی بجائے خود احتیاط کرنی چائیے بچے اللہ کی بہت بڑی نعمت


ہیں ہماری تھوڑی سی لاپرواہی ان کی جان لے سکتی ہے۔


 


 



 


 


بعض دفعہ ایسا بھی میں نے دیکھا ہے کہ ہم لوگ اکثر بچوں کو کھیلنے کے لیے دوا کی ڈبیہ پکڑا دیتے ہیں کہ چلو اس کی آواز سے یہ خوش ہا گا ہمیں ایسا نہیں کرنا چائیے اور یہ سوچنا چائیے کہ اگر وہ اسے کھول کر کھا لے یا کسی بھی طریقے سے یہ کھل جائے اور وہ اسے کھا لے تو بچے کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے اس لیے ہر خال میں ہمیں دوائیں بچوں کی پہنچ سے دور ہی رکھنی چائیں۔



About the author

mian320

I sm mr.

Subscribe 1515
160