لفافہ صحافت

Posted on at


صحافت ایک مقدس پیشہ ہوتا ہے . صحافی کا کام معاشرے میں پائی جانے والی خوبیوں اور خامیوں کو منظر عام لانے اور ارباب اقتدار کو انکے حل پر مجبور کرنا ہوتا ہے . مگر پاکستان میں لفافہ صحافت پر آغاز ١٩٨٨ سے ہوا جب اس وقت کے وزیر اعلی پنجاب میاں نواز شریف نے صحافیوں میں لاکھوں روپے تقسیم کے تاکے وفاق میں بینظر بٹھو کی حکومت کے خلاف اخبارات میں رائے عامہ ہموار کی جا سکے اور اس وقت لفافہ صحافیوں نے بینظر کی بدعنوانی کی کئی سچی جھوٹی داستانیں پھیلائیں . 

                                             

                                             
مگر جب ١٩٩٣ آیا تو یہ ہی کام بینظر بٹھو نے کیا اور صحافیوں میں پیسے تقسیم کیے اور صحافی اخبارات اور کالموں میں میاں نواز شریف کی بدعنوانی پر قلم کسنے لگے . مگر یہ بات مدنظر ہونی چاہیے کے صحافت میں بھی کئی با ضمیر صحافی ہوتے ہیں اور ان لفافہ صحافیوں کے بارے میں کھلے اور دبے لفظوں میں اظھار کرتے ہیں .جب جنرل مشرف برسراقتدار آیا تو اس نے یہ کم کیا اور لفافہ صحافیوں کو میاں برادران ،بینظر بٹھو اور خاص طور اس وقت کے معزول چیف جسٹس افتخار چودھری کے خلاف استعمال کیا .

                                 
٢٠٠٨ میں لفافہ صحافیوں کے دو گروپ بن گے زرداری گروپ اور میاں برادران گروپ مگر کھاتا اس وقت پلٹا جب پاکستان کے سیاسی افق پر ٣٠ اکتوبر ٢٠١١ کو ایک پارٹی تحریک انصاف کے نام سے ابھری جس نے دہائیوں بعد پنجاب میں شہباز شریف کو چیلنج کیا تو اس وقت لفافہ صحافیوں کے وارے نیارے ہو گۓ کیوں ایلکٹرونک میڈیا کے آنے سے صحافیوں بہت طاقت ور ہو گۓ خاص طور پر اینکر پرسنز کی تو چاندی ہو گئی جن کے نام پراپرٹی تائکو ن ملک ریاض نے دبے لفظوں میں لیۓ .  

                       
اب پھر چند روز پہلے سرکاری ٹی وی کے اندر وزیر اطلاعت نے کروڑوں روپے صحافیوں میں بانٹے تاکے ان دہرنے والوں کے خلاف ان کو استعمال کیا جا سکے .

                          



About the author

160