فلم کا جائزہ: گاڈز پاکٹ- یہ ایلویس کوسٹیلو کا گیت نہیں؟

Posted on at

This post is also available in:

موازنہ اور مقابلہ: کرسٹینا ہینڈرکس گاڈز پاکٹ 2014 میں اور باربرا ہیرشی پیرس ٹراؤٹ (1991) میں، دونوں ناول پیٹی ڈیکسٹر سے ماخوذ ہیں۔ میں فنکار فلپ سیمور ہوزمین کو نہیں دیکھ سکتا اس کے پوسٹ ھیومسلی جاری کام اور ہوجانا بند۔ وہ قبل از وقت مرگیا منشیات کے خلاف ایک مہم میں لیکن میں انکار کرتا ہوں ایسے لکھاریوں میں شامل ہونے سے جو اپنی انتہائی کارکردگی کو پورٹنٹ کے ساتھ شامل کرتے ہیں ۔ وہ موت کی دہلیز پر تھا فلم بناتے ہوئے( عنوان شامل کریں) ملاحظہ کیجیئے تکلیف دہ اداسی جو وہ پہنچتا ہے۔ اگر کوئی اس طرح کی شطر لکھتا ہے تو یہ جھوٹ ہے

یقیناََ وہ اداس اور شراب پیئے ہوئے تھا۔ وہ فنکاری کر رہا ہے۔ اپنے اگلے کردار میں، شاید وہ خوشحال انکل یا ناکیسیت پسند یو بی ای آر بدمعاش۔ جب میں نے گاڈز پاکٹ دیکھی جس میں اس نے اپنا آخری سکرین پلے کردار ادا کیا، میں نے اپنے آپ کو اس کی موت کا سببس بننے والے حالات سے پھیر لیا ہے جیسے میں اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتا۔ یہ بہت آسان تھا کیونکہ اب میں اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتا جو اس کے پیشہ ورانہ کامیابیوں سے آگے ہے۔ستارے ہم سمجھتے ہیں کہ ہم جانتے ہیں لیکن فنکار پر اسرار ہوتے ہیں اور ایسا کیوں نہ ہو؟ ہم ستاروں کو جاننا چاہتے ہیں لیکن یہ ان کے جوش کا حصہ ہے بت ہم جسے قدرتی خلا تصور کرتے ہیں فنکار وہ لوگ ہیں جن کے کام کی ہم داد دیتے ہیں جنہیں ہم ذاتی طور پر ادارے کے پروگراموں میں دیکھتے ہیں۔ ایکس وائی کے ساتھ ہے- جو ڈائنا مائیٹ کا کیمیائی فارمو لا ہے۔ میں آپ کو بتانا چاہوں گا کہ گاڈز پاکٹ پیٹی ڈیکسٹر کے ایک ناول سے ماخوذ ہے جس کے فن پارے پیرس ٹراؤٹ اور دی پیپر بوائے پر ماضی میں سٹیفن جیلین ہال اور لی ڈینیئل نے فلمیں بنائیں جو قابل قدر ایپی ٹف ہوف مین کے لیئے دراصل میں نہیں جانتا کہ اس کا مطلب کیا ہے۔ہوف مین نے بہت تھوڑی فلمو ں میں کام کیا سوائے غالباََ کیپوٹ کے۔ وہ معروف ہے بطور کردار ایکٹر۔ س کا مطلب ہے کہ اس نے ہیرو کے کردار پر زیادہ تجربے نہیں کیئے۔ ہوف مین یہاں تنہا اپنے آپ کو نمایاں کرتا ہے

جس طرح ممتاز امریکی کلاسک، جس طرح اس موقع پر ایکٹر سے زیادہ ڈائریکٹر سے بننے والا جون سلیسٹری۔ میں سلیسٹر ی کے کام سے واقف نہیں ہوں طویل ٹی وی سیریل میڈ مین پر- کچھ شو ہیں جو آپ نہیں دیکھتے ۔ اگر آپ شروع سے انہیں نہیں دیکھتے اور کرداروں کو پہلے سے نہیں داد دیتے لیکن میں سمجھتا ہوں وہ ایک ڈیل ہے میڈ مین 1960 میں دکھایا گیا گاڈز پاکٹ ایک اور شہری ڈرامہ لیکن جہاں تک اشتہارات کی دنیا سے ہٹایا گیا جیسے آپ تصور کر سکیں – اور میں اپنے آپ کو سٹار وارز کا حوالہ دیتے ہوئے۔ میں کچھ حد تک تصور کر سکتا ہوں – غالباََ تیار ہے عشرہ یا نصف بعد میں پاپ کلچر کے حوالہ جات آپ کے رہنمائی کے لیئے نہیں ہیں۔ آپ نے غور کیا کہ کسی کے پاس سیل فون نہیں اور یہ کہ ایک اچھی کیس کٹ کی مالیت 5995 ڈالر ہے۔ لیکن یہ اتنی اہمیت نہیں رکھتا ۔ غریب ، نظر انداز شدہ پڑوس۔ آخرکار وہ ہیں موویز میں۔ تبدیلیوں کو کثرت سے دعوت نہ دو۔ پیرس ان ٹراؤٹ اور دی پیپر بوائے کی طرح گاڈز پاکٹ کی نمایاں خصوصیت جڑواں ڈروائیور ز ہیں نسل پرستی اور خواہش کے۔ ان فلموں کے برعکس ، یہ جنوب میں سیٹ نہیں کی گئی، بجائے ایک آئرش پڑوس فلاڈیلفیا میں۔ لیون ( کیلپ لانڈری جونز) ایک جوان ، ریزرویلڈنگ ڈے مزدور کو ایک بڑا افریقی امریکی مزدور قتل کرتا ہے جسے یہ وقفے کے دوران اشتعال دلاتا ہے۔ اس کے ساتھ کام کرنے والے اور اس کا باس چھپاتے ہیں یہ ایک حادثہ تھا۔ ایک چین اس پر گری تھی اس کی ماں جینی(کرسٹینا ہینڈرکس) اس بات کو نہیں مانتی۔ وہ اپنے دسورے شوہر مکی(ہوف مین) سے کہتی ہے جو کہ اس کے جنازے کے لیئے رقم جمع کر رہا ہوتا ہے۔ وہ اپنے دوست سے رابطہ کرتا ہے ۔ آرتھر (جوہن ٹرٹورو) جو بیس سالوں سے ایک گینگسٹر کا احسان مند ہےاور اسے کہے کہ وہ اس کی دیکھ بھال کرے۔ وہ اپنے چند ایک مسائل اپنے باس سے ذکر کرنے کے لیئے بتاتا ہے، غیر متوقع نتائج کے ساتھ۔ اسی اثناء میں ایک اخبار کا شرابی کالم نگار رچرڈ شیل برن(رچرڈ جینکز)کو غمزدہ ماں کی طرف گرنے والی کہانی کی کھوج کے لیئے بھیجا جاتا ہے۔ وہ اسے ملک میں اپنا گھر دکھانا چاہتا ہے۔ اشارہ کچھ چیز مساوی طور پر غیر متوقع۔ ایڈی مارسن کا کردار ایک بے رحم جنازہ ڈائریکٹر کا ہے۔ کتنا بے رحم؟ کوشش کرتا ہے اسے بتانے کی تم 1400 ڈالرز سے 6000 ڈالرز غلط جگہ لگا چکے ہو(ٹرننگ لیف) دیکھیں کہ وہ کیسے رد عمل کرتا ہے۔ جیسا کہ پیپر بوائے کے ساتھ گاڈز پاکٹ حقیقت میں کوئی رہنما نہیں رکھتی کسی کو ہم بنیاد بناتے ہیں چیزوں کو ٹھیک کرنے کے لیئے۔مکی ہوف مین کا آلہ کار، برا اور قریبی لیکن فلم نہیں ہے جیسا کہ وہ کہتے ہیں اس کے نقطہ نظر سےہم ایک دفوہ مستغرق ہوچکے ہیں اس میں اور کمیونٹی کے باہر جو کہ اس کو اپنے اصولوں کے مطابق چلاتا ہے۔یقیناَ ایک کردار رشوت لے سکتا ہے لیکن سوال نہیں پوچھتا ورنہ ہر سینے پر ایک بوجھ ہوگا۔ شاید کوئی بحث کرے کہ جینی فلم کی جان ہے وہ کالم نگار رچرڈ کو اور کسی کو بھی اپنے اوپر نظر رکھنے سے منع نہیں کرتی حیرت انگیز طور پر خوبصورت اگرچہ پراعتماد ہے ایک مستقل پرفارمنس دینے کے لیئے۔ہینڈرکس ، باربرا ہرشی کے لیئے ایک رنگر ہے۔ خاتون سٹار پیرس ٹراؤٹ کی۔ رچرڈ ہمیں بتاتا ہے کہ گاڈز پاکٹ میں لوگ ایک دوسرے سے چھپاتے ہیں اور ایک دوسرے کے گھر وں کو برباد کرتے ہیں مگر اجتماعی طور پر باہر کے لوگوں کو دوبارہ بھیجتے ہیں۔یہاں پر کچھ حیرت انگیز نتائج ہیں۔فلم کا حقیقی سٹار ہوف مین نہیں بلکہ جائس وین پیٹن ہے جو کہ آرتھر کی آنٹی صوفی سے کھیلتا ہے۔ وہ دھمکی کو معمولی نہیں لیتی۔ مکی ایک اداس ہار اہوا شخص ہے۔ کبھی بھی دور نہیں ایک بیئر کے ڈیڑھ پاؤ کے پیمانے اور مایوس فیصلے سے۔ لیکن وہ ایک ایپی فینی کے ساتھ کردار میں نہیں ۔ اور عروج میں وہ بہتر کام کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن وہ ایک ہیرو نہیں۔وہ ایک طرف کھڑا ہوتا ہے جسے دوسر ا دیکھتا ہے، یہ جانتا ہے کہ اس کی زندگی کا ایک با ب بند ہو چکا ہے۔فائنل سین میں ، کردار اپنی ذات کو سنبھالتے ہیں بد تر کے لیئے تیار کرتے ہیں۔ زور و شور سے اور اڑے ہوئے ہیں، آرام کے بہت نزدیک۔ جائزہ لیا گیا سوہو سکریننگ روم میں، ڈی اریلے سٹریٹ، لندن بدھ 30 جولائی 2014، 18:30 میڈیا سکریننگ

 



About the author

syedahmad

My name is Syed Ahmad.I am a free Lancer. I have worked in different fields like {administration,Finance,Accounts,Procurement,Marketing,And HR}.It was my wish to do some thing for women education and women empowerment .Now i am a part of a good team which is working hard for this purpose..

Subscribe 3477
160