نکسیر پھوٹنے کے اسباب

Posted on at


نکسیر گرم علاقوں کا ایک عام مرض ہے. اس مرض میں ناک کی باریک اور چھوٹی نالوں پر دباؤ بڑھ جانے سے اوپر والی جھلی پھٹ کر خون بہنا شروع ہو جاتا ہے. زبان طب میں اسے 'رعاف' کہتے ہیں. یہ خون کبھی قطروں کبھی دھار کی صورت میں بہتا ہے. موسم گرما میں یہ تکلیف زیادہ ہوتی ہے تاہم موسم سرما میں بھی ہو جاتی ہے. نکسیر کی وجوہ خواہ کچھ بھی ہوں مگر اس میں خون بہتا ہے جس سے مریض اور اس کے لواحقین پریشان ہو جاتے ہیں. تاہم یہ کوئی سنگین مسئلہ نہیں ہے، البتہ زیادہ خون کا بہنا مسائل پیدا کر سکتا ہے. مردوں میں نکسیر پھوٹنے کے واقعات ٥٧ فیصد جبکہ خواتین میں ٤٢ فیصد ہوتے ہیں. ایک اندازے کے مطابق چھوٹی عمر کے بچے اس کا زیادہ شکار ہوتے ہیں

نکسیر پھوٹنے کے اسباب

عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ نکسیر کا سبب گرنا اور چوٹ لگنا ہے، مگر اس کے علاوہ بھی اسباب ہو سکتے ہیں جو مندرجہ ذیل ہیں

 ناک کی جھلی میں خارش ہونا اور اسے کھجانے کے دوران ناک سے خون کا آ جانا

 ناک میں سوزش کی وجہ سے پیدا ہونے والے امراض

 ناک میں کسی بیرونی چیز کا چلے جانا

 ناک میں نمی کا ہونا

موسم گرما میں دموی مزاج کے لوگوں میں گرم اشیا کھانے کے باعث

 سر میں خشکی و گرمی

 تیز بخار کا ہونا

 زیادہ تیز دھوپ میں چلنا پھرنا

بچوں میں یہ مرض زیادہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ جب سر کی رگوں میں خون کی زیادہ مقدار جمع  ہو جاتی ہے تو یا خون کا دوران سر کی جانب زیادہ ہو جاتا ہے تو اس عمل میں رگیں پھول جاتی ہیں اور اس میں اس قدر  تناؤ اور دباؤ ہو جاتا ہے کہ اس کے باعث ناک کی رگ یا ورید جو ناک کو دو حصوں میں تقسیم کرتی ہیں اس کا دہانہ کھل جاتا ہے، یا اس میں شگاف ہو جاتا ہے اور خون بہنے لگتا ہے. چوں کے بچوں کی رگیں نرم اور نازک ہوتی ہیں اور عام انسانوں کے مقابلہ میں خون کا دوران تیز ہوتا اس سبب سے یہ مرض بچوں میں زیادہ ہوتا ہے

نکسیر پھوٹنے سے پیدا ہونے والی پیچیدگیاں

زیادہ خون بہنے کی صورت میں وہ سانس کی نالی میں جا کر سانس بند کر سکتا ہے

 زیادہ خون بہنے پر اگر مریض کو اگر بروقت فوری طبی امداد نہ ملے تو وو بے ہوش ہو سکتا ہے

بچاؤ کی تدابیر

 نکسیر کے مریض کو گرم اشیا کھانے سے پرہیز کرنا چاہیے  اسے چاہیے کے وہ گرم مسالوں اور مرچ کم کھاۓ. گوشت، مچھلی اور انڈے کھانے سے بھی پرہیز کرے

 رس دار پھل دودھ، دہی اور پانی والی ٹھنڈی ترکاریاں جیسے لوکی شلجم اور مولی وغیرہ کھاۓ

گرم پانی کے ساتھ غسل نہ کرے

 ناک کے ساتھ زیادہ چھیڑ خانی نہ کی جائے

 گرمی کے اوقات میں باہر نہ نکلے. صبح شام کے وقت میں باہر نکلے

 چھوٹے بچے جو سکول جاتے ہیں وہ اسکول سے واپسی پر گیلا کپڑا سر پر رکھیں

اگر چھینک آۓ تو منہ کھول کر چھینکنا چاہیے

 موسم گرما میں ٹھنڈے مشروبات پئیں. شربت انجبار پینا مفید ہے

 نکسیر پھوٹنے کی صورت میں انگلی اور شہادت کی انگلی سے ناک کے نتھنوں کو دونوں طرف سے ٥ سے ١٠ منٹ تک دبا کر بند کر دیں. اگر ایک بار ایسا کرنے سے خون بند نہ ہو تو دو تین بار اسی طرح کریں. سر اور ماتھے پر برف رکھیں

 ٹھنڈے پانی میں پٹیاں بھگو کر نتھنوں میں رکھیے. روئی سے بھی نتھنوں کو بند کیا جا سکتا ہے. یہ خیال رہے کہ روئی یا پٹیاں نتھنوں سے اوپر نہ جایئں. افاقہ نہ ہونے پر کسی مستند معالج سے رجوع کریں

 



About the author

RoshanSitara

Its my hobby

Subscribe 1673
160