افغانستان کی معیشت اور انسانی حقوق ، حکومت اور قیادت میں عورتوں کی ترقی

Posted on at


افغانستان سمیت ہر ملک کو 4بڑے حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے جہاں مردوں اور عورتوں کو مل جل کر اپنی اپنی زمہ داریاں نبھانا ہوتی ہیں زیادہ ترقی یافتہ معاشرے امن پسند ملک عورتوں اور مردوں کے مابین ایک متوازن رشتے اور تعاون سے فائدہ اٹھاتے ہیں یہ چار شعبے یہ ہیں

1۔    معیشت

2۔    انسانی حقوق

3۔    حکومت

4۔    قیام 

افغان او روسطی جنوبی ایشیا کے دوسرے ممالک بنگلہ دیش بھوٹان انڈیا کرغستان ، قازقستان، مالدیپ ، نیپال پاکستان، سری لنکا، تاجکستان، ترکمستان اور ازبکستان میں صحت مندنشونما کے ضروری ہے درج بالا شعبوں میں عورتوں کو ترقی دی جائے اس کے لیے وقت اور سرمایہ کاری درکار ہے ان چاروں شعبوں میں ایک قد ر مشترک ہے ۔ میں اسے سوفٹ وئیر اور الیکڑانک میڈیا کی ترقی کہتا ہوں

تصویر کے لیے اینجیلا شا کا شکریہ۔ 

 

سوفٹ وئیر سوشل میڈیا آن لائن اشتہار بازی، آن لائن ویڈیو وغیرہ پر مشتمل معشیت ایک ایسا میدان جہاں عورتیں مردانہ حاکمیت والے کاروبار کی طرف اسانی سے کم مخالفت اور زیادہ تعاون کی بنا ء پر آسانی سے مالی کنٹرول حاصل اور قائم رکھ سکتی ہیں ۔ یہ بالکل آریاناہفنگ کے خبروں اور میڈیا کی صنعت جو ایک مردانہ حاکمیت والی صنعت ہے میں اپنے قیادت منوانے کے مترادف ہے اور ایسے ہی جیسے ٹینا براؤن نیوز ویک (پرانی معشیت)اور ڈیلی بیسٹ(نئی معیشت) کے ختم ہونے کی ذمہ دار ہے ۔

فلم اینکس نے ویمینز اینکس اور افغان ترقی منصوبہ درج زیل مقاص حاصل کرنے کے لیے قائم کیا۔ 

1۔    1,60,000بچوں کو ہرات کے سکولوں میں 40انٹرنیٹ کلاس رومز کے زریعے نیٹ سے منسلک کیا جائے ۔

 

2۔    افغان سکولوںمیں ایگزامر اور مائیکرو وظیفوں کا نظام شروع کر کے بہترین طلباء کو موبائل ادائیگی سسٹم کے ذریعے نوازا جائے 

3۔    اس منصوبے کو وسطی اور جنوبی ایشیاء بنگلہ دیش ، بھوٹان ، انڈیا، کرغستان، قازقستان، مالدیپ، نیپال ، پاکستان، سری لنکا، ترکمانستان اور ازبکستان تک پھیلا جائے۔ 

4۔     فلم اینکس کے پاس ٹیکنا لوجی اور ایک تصور موجود ہے لیکن ہم دوسرے بین الاقوامی اداروں اور نجی کمپنیوں کی مالی اور رسدی اعانت کو استعمال کر کے اپنے منصوبوں کو ہرات کی سرحدوں کے قومی یا بین الاقوامی سطح پر لے جا سکتے ہیں ۔ 

ہمارا خیال تصور یہ ہے :۔

۔    سوفٹ وئیر عورتوں کے لیے ہے۔

۔    ہارڈوئیر مردوں کے لیے ہے

آدمی کمپیوٹر جوڑتے ہیں اور فٹ بال سٹیڈیم تعمیر کرتے ہیں، عورتیں سوفٹ وئیر ہوسٹنگ، ڈسٹری بیوشن اور ڈیجیٹیل مواد سے حاصل ہونے والے آمدنی کا انتظام سنبھالتی ہیں، ہوسٹنگ ترقی یافتہ ممالک میں ہوتی ہے جن کے پاس ٹیکنالوجی ہوتی ہے اور وہ محفوظ ہیں اشتہاری بازی کسی منصوبے کی معاشی پائیداری کو برقرار رکھنے کے لیے ایندھن کا کام دیتی ہے آمدنی کو ترقی یافتہ ممالک کے اداروں میں رکھا جا سکتا ہے معاشی تحفظ برقرار رہے ۔ جتنا زیادہ سوفٹ وئیر انسٹال ہوتا ہے اتنا عورتوں کی طاقت میں اضافہ ہوتاہے ۔ زیادہ ڈیٹا کا مطلب ہے کم کرپشن اس طرح روایتی کاروباروں کو اس بات سے پیش نظر کاروبار مرد چلاتا ہے یا عورت !زیادہ خدمات فراہم کی جاسکتی ہیں ۔ نتیجہ دونوں قسم کے کاروبارییوں کی جیت ہے یہ ایک منظرنامہ ہے برائے مہربانی استقلال کابل فٹ بال کی ٹریننگ اور نمائشی کھیل کی یہ ویڈیو دیکھیںاس ویڈیو میں یہ کون لوگ ہیں ؟

مرد سوکر کے کھلاڑی 

مرد کوچ اور مالکان 

مرد مداح

مرد سینما ٹوگرافرز

اس ویڈیو کو ایک خاتون کی چلائی ہوئی ہوسٹنگ سروس ، ڈسٹری بیوشن اور اشتہاری خدمات والے سوفٹ وئیر پر خاتون منتظم کے بلاگ اور ویڈیو ڈسٹری بیوشن پلیٹ فارم کے ذریعے اپ لوڈ کیا گیا نتیجہ ایک خاتون کے ذیر انتظام اشتہاری سپانسرشپ ریونیو کا نظام اور خواتین کے ذیر انتظام ادائیگیوں کا نظام ہے زیادہ ویڈیوز اور تحریری موادزیادہ خواتین انتظامیہ 

خواتین کے لیے زیادہ مواقعے۔

جیسا کہ آ پ دیکھ سکتے ہیں کہ اس منصوبے کا دماغ اور مالی انجن ایک افغان خاتون ہے جو افغانستان میں اپنے گھر سے یا دنیا میں کہیں سے بھی کام کر سکتی ہے خواتین کامیابی کے کی وررڈ کو مینیج کرتی ہے

 

عورتوں کو رابطہ کے ہنر ،سوشل میڈیا اور ڈیٹا کے تبادلے میں کو ئی مات نہیں دے سکتا ۔آدمی اپنی سبقت دکھانے میں زیادہ محو ہوتے ہیں بہ نسبت معلومات اور مواد کے تبادلے کے ۔آن لائن کاروبار میں ڈیٹا کے تبادلے کی مقدار آپکی طاقت اور آمدنی کا یقین کرتی ہے جبکہ روائیتی کاروبار کی درجہ بندی کی محض نسبتی اہمیت ہوتی ہے ۔

یہ ہیں کچھ سوالوں کے جواب :

 

1۔    ہم نے سٹاڈل اور نیویارک کیوں قائم کیا ؟

افغانستان وسطی اور جنوبی ایشیا کی کاروباری خواتین کو وہی ہتھیارفراہم کرنے کے لیے جو ترقی یافتہ ممالک کی بزنس خواتین کو میسر ہیں، مع ایک شفاف اور محفوظ بینکنگ سسٹم کے :۔

۔    ان کے سرمایہ کاری تک ایک محفوظ رسائی مہیا کرنے کے لیے جس میں آن لائن لاگ ۔ ان اور کریڈٹ کارڈ بھی سامل ہیں 

۔    محفوظ ، مستحکم اور ترقی یافتہ معاشی ماحول میں آمدنی رکھنے کےلئے، تاکہ ترقی پذیر ملکوں میں موجود مالی خطرات سے بچا جائے ۔ 


۔    تاکہ ماہرین اور فکری قائدین اپنی رائے کا اظہار کر یں اور اعانت کا عہد کریں ۔ 

۔    اضافی ویڈیو کے مواد اور آن لائن دنیا کے زریعے آمدنی حاصل کرنے کے لیے ۔ 

۔    بڑے اشتہاری نیٹ ورکس اور ٹیکنا لوجی والی کمپنیوں کو بغیر افغانستان ، بنگلہ دیش بھوٹان انڈیا کرغستان ، قازقستان، مالدیپ ،         نیپال پاکستان، سری لنکا، تاجکستان، ترکمستان اور ازبکستان تک سفر بغیر انٹرنیٹ کلاس روم کی تعمیر میںملوث کرنے کےلئے ۔

3۔    اگزامر تعلیمی سوفٹ وئیر کیا ہے

 

۔    افغان عورتوں کا بنایا ہوا ایک مفت آن لائن تعلیمی سوفٹ وئیر 

۔    ایسی جگہ جہاں ہم بہترین طلباء کی سرپرستی کر سکتے ہیں اور انھیں''بیٹر دین کیش الائنس'' (USAIDکا تجویز کردہ)جیسے موبائل ادائیگی سسٹم کے ذریعے چھوٹے وظیفے دے کر انعام دیا جا سکتا ہے ۔

 

۔    ایسا پلیٹ فارم جہاں افغان طلبہ کو سوشل میڈیا کی تعلیم دے کر آن لائن لا جا سکتا ہے ۔

۔    فلم اینکس کے لیے لکھاریوں، ڈویلپروںاور ایسے فلم سازوںکی خدما ت حاصل کرنے کا نقطہ آغاز جنہیں فلم اینکس اور دوسرے بین الاقوامی کمپنیوں والے بائر کریںگے ۔

افغان لکھاریوں کو انہیں قوائد و ضوابط مالی قدروں پر اجرت دی جاتی ہے جو ترقی یافتہ ملکوں میں اختیار کیے جاتے ہیں ۔ افغان خواتین کا زیادہ بز سکور ہوتا ہے کیونکہ وہا پنا زیادہ وقت گھروں میں گزارتی ہیں سو وہ ہمیشہ سوشل میڈیا پر زیادہ متحرک ہوتی ہیں۔ 

مندرجہ بالا بائیں افغان خواتین کو اپنی سوفٹ وئیر اور ڈیجیٹیل میڈیا کی خدمات کو افغان سرحدوں کے باہر وسطی اور جنوبی ایشیا کے دوسرے ممالک میں بھی پہنچانے کا موقع دیتی ہے یہاں تک کہ وہ بھارت کے ساتھ مقابلہ کر سکتی ہے

 

زویا محبوب اور فرشتے فرخ جیسی کاروباری خواتین بہترین تاجران ہیں جن کے ساتھ میں نے کام کیا ہے ان کی خواتین ڈویپلرز کا تیار کردہ سافٹ وئیر USAIDاور دوسری بین الاقوامی تنظیموں کے لیے پہلا قدم ہے

 

افغان خواتین کی ترقی اور خودمختاری کے منصوبے میں سرمایہ کاری کے لیے

پچھلے 5مہینے میں زویا محبوب اور اسکی ٹیم نے 5سکولوں اور 20,000سے زیادہ طلباء کو ہرات کے انٹرنیٹ سے منسلک کیا۔ اسکی ٹیم ہر طالب علم کی آن لائن رجسٹریشن بھی کر رہی ہے۔ جس کی شروعات فیس بک اور ٹویٹر جیسے سوشل میڈیا نیٹورک سے کی گئی ہے ان کے ای میل ایڈریس بنائے جا رہے ہیں اور فلم اینکس جیسے پلیٹ فارم پر ویڈیوز اور بلاگ بھی اپ لوڈ کئے جاتے ہیں (کیونکہ یوٹیوب افغانستان میں بند ہے)

 

ذویا محبوب ، علایا محبوب اور فرشتے فرخ نے ایگزامر تعلیمی سوفٹ وئیر پلیٹ فارم کا خیال سوچا۔ ہمارے اطالوی ڈویلپروں کی مدد سے وہ اس سوفٹ وئیر کا تیسرا ورژن (نسل)بنا رہے ہیں۔ جو افغانستان اور باقی دنیا سے کروڑوں طلباء اور استاتذہ کو مفت تعلیم اور مواد تک آسان رسای دے گا۔ 


انجیلا شا دوبئی میں مقیم ایک فری لانس صحافی ہے دوسری اشاعتوں کے ساتھ ساتھ اس نے دی نیو یارک ٹائمز ، ٹائم میگزین، نیوزویک، اور انسٹی ٹیوشنل انوسٹر میگزین کے لیے بھی لکھا ہے ، انجیلا افغانستان میں زویا محبوب لڑکیوں کو کمپیوٹر کے ساتھ منسلک کرتی ہے کی مصنفہ ہے ۔


About the author

zakertanha

Zaker was born in Kabul Afghanistan on Thursday 02/21 AM 1992/06/09. he attended to Habibia high school. for studding knowledge. when war start in Afghanistan he went to Pakistan with his family. he studied computer programs and English language at kout institute in Pakistan. also he attended to TEAKWONDO club…

Subscribe 108
160