ملالہ یوسف زئی کی خواتین امپاورمنٹ کےلئیے ایک فنڈ کا قیام

Posted on at

This post is also available in:

طالبان شدت پسند کے ہاتھوں گولی لگنےکےبعد ملالہ یوسفزئی نے لڑکیوں کےتعلیم سےمتعلق کام کو جاری رکھے ہو ئےہےـ کامیاب سرجری کےبعد برمنگھم میں کچھ عرصہ قیام کےبعد ادھر ہی رہنے کا فیصلہ کیاـ کچھ ہفتوں بعد انہوں نےسکول جانابھی شروع کیاـ چھ ماہ قبل اس کےساتھ جو پیش آیا ان کےلئیےنئےمیں قدم رکھنا تکلیف دہ امرتھاـ شدت پسندوں نےان کو تعلم کی پاداش میں چپ کرانے کی سوجھی ـ تاہم اس میں وہ بری طرح ناکام ہوئے اس حملےمیں دومزید بچیاں بھی زخمی ہوئی اور ملالہ کوعالمی شناخت حاصل ہوئی ـ اس کے بعد پاکستان سمیت دنیا بھر میں زبردست ردعمل دیکھنے کوملاـ یہ ایک جزباتی منظر تھاـ طالبان کی اس فعل کی عالمی سطح پر مذمت کی گئی ـ

حال ہی میں ملالہ نے اپنی کتاب کےلیئےتین میلن ڈالر کا معاہدہ کیاـ کتاب کا عنوان Malala signed a book deal worth 3 million US dollars ” I am Malala”  ہوکا جس میں وہ اپنے زندگی سے متعلق واقعات پر مبنی ہوگی ـ اپنی زندگی کی کہانی بیان کرتے ہوتے دوسری لڑکیوں کو امید دلانا چاہتی ہےجس کو اسی قسم کی مصا ئب کا سمنا ہوتا ہےـ وہ چاہتی ہےکہ وہ تمام خواتین جو تعلیم سےلگاو رکھتی ہےاور اس کےلئے آوازبلند کرنا چاہتی ہےملالہ کی زندگی اور آواز میں اطمینان پائینگےـ اس کی خواہشں ہے کہ اسےمزید عالمی پذیرائی ملے تاکہ ان خواتین کی مزید مدد ممکن ہو سکےـ

ان کی کتاب سےملنے والےآمدن ان کی قا ئم کردہ ملالہ فنڈ کو مزید دوام بخشے گی جو انہوں خواتین کو بااخیتار اور ان کی تعلیم کےحصول کو ممکن بنانے کےلئےبنا ئی تھی ـ اپنی حالیا ایک انڑویو میں ملالہ نےبتایا "میں اپنی کہانی کےساتھ ان 61 ملین بچوں کی کہانی بھی بتانا چاہتی ہوں جوکہ تعلم سے محروم ہےـ میں اس مہم کا جصہ بننا چاہتی ہوں جاں پر بچہ بچی سکول جاسکےـ یہ ان کا بنیادی حق ہےـ 45000 ہزار ڈالر سوات کی لڑکیوں کی تعلم کےلئےمختص کئےگئےہے $45.000 US dollars have already been allocated for girls education ـ ملالہ کےمطابق وہ چالیس خواتین کو پڑھانا چاہتی ہےاور سب سے اپیل کرتی ہےکہ ملالہ فنڈ میں اپنا حصہ ڈالیے اور 40 لڑکیوں سے 40 ملین بنا ئیےـ

افغانستان کی کئی جوان عورتوں کو انہی قسم کےحالات کا سامناہےـ دیہاتی علاقوں میں اب بھی طالبان کا اثر کافی حد تک  ہونےکےباعث لڑکیوں کو سکول جانےسےشدید خوف محسوس ہوتا ہےـ کیونکہ چہروں پرتیزاب پھینکنےکے واقعات، پانی میں زہر ملانا اور سکول کو اگ لگانے جیسے واقعات عام ہےـ افغانستان  کا تعلمی نظام خواتین کی تعلیم کی حوصلہ افزا ئی کرتا ہےمگر ان کو سیکورٹی فراہم نہیں کر سکتےـ ملالہ کی زندگی افغانیوں کےلئےحوصلہ افزا بات ہےـ مگر اس کےلیئےمزید  فنڈر کی ضرورت ہےـ آج بھی خواتین کےحقوق کی پامالی ہو تی ہےـ ملالہ فنڈ کا مقصد ان نا انصافیوں کو ختم کرنا ہےـ خوش ا ئند پہلو یہ ہےکہ افغانستان کےسکولوں کی حالت بین الاقوامی کمپنیوں کی فنڈز کی بدولت بہتر ہورہی ہےجیسےکہFilm Annex  کےہرات میں چالیس انڑنیٹ سکول کا قیام ـ opening Internet classrooms in 40 schools in Herat افغان سماج میں خواتین کو وہ مقام حاصل نہیں اور اسےضمن میں کئی کام ہو رہی ہےمگر ان کو بے شمار رکاوٹوں کا سامنا ہےـ تاہم بین لا قوامی اداروں اور سوشل میڈیاکی بدولت خواتین کی آزادی ممکن ہونے لگتی ہےـ

 

اپنی حوصلہ اوردلیری کےسبب دنیا بھر کے ستاروں کو ملالہ کی پشت پناہی  حاصل ہو ئی ہےـ مثلا انجیلناجولی کےحال یی میں ملالہ فنڈکے چارج کو سنھبالنےکی خواہش ظاھر کی ہے Angelina Jolie just recently announced that she will be in charge of the Malala Fund ـ اداکارہ نے دولاکھ ڈالر عطیہ کا اعلان کیاہےـ یہ سن کرمجھے نہایت خوشی محسوس ہو ئی ـ پندرہ سال کی عمرسےہی ملالہ لاکھوں خواتین کےلئےرول ماڈل بن گئی ہےـ وہ ابھی بھی ایک کم سن بچی ہے اورمجھے امید ہےکہ ان کی فیملی ان کو آگے جانے میں مدد فراہم کریگی ـ  صرف سکول دوبارہ  جانےکےقابل ہونےکا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ وہ مکمل صحت یاب ہوگئی ہےـ وہ اب بھی ایک کان سےسننےسےقاصر ہےاور سر میںTitanium  لگا ہواہےـ یہ اچھی بات ہے کہ انہوں نے اپنے سفر کو جاری رکھے ہواہےمگر ہمیں بھولنا نہیں چاہیئےکہ وہ پندرہ سالہ بچی ہی ہےاور ان کی ذہنی پختگی میں ابھی بہت وقت درکار ہےـ

 

Giacomo Cresti

http://www.filmannex.com/webtv/giacomo

follow me @ @giacomocresti76



About the author

AFSalehi

A F Salehi graduated from Political Science department of International Relation Kateb University Kabul Afghanistan and has about more than 8 years of experience working in UN projects and Other International Organization Currently He is preparing for Master degree in one Swedish University.

Subscribe 200
160