افغانستان میں افغان-امریکہ کے ٹی وی شخصیت ڈاکٹرفیریڈ یونوس جنسی برابری، اسلامی جمہوریہ اور سوشل میڈیا کے تعلیم پر

Posted on at

This post is also available in:

 

تعارف: ڈاکٹرفریدیونوس امریکہ میں ایک ٹیلی وژن کے شاعر اور ایک پروفیسر ہے اور بین الاقوامی افغان ڈیاسپورا میں نمائیاں شخصیت والی رُکن ہے۔ NOOOR-TV پر " The Dr. Younos Show" اور " تیس مینٹس" میں ایک میزبان کیطور پر بہت سے لوگ اُنہیں افغان-امریکہ کمیونیٹی میں زیادہ باثر کہنے والوں اور ازادانہ مفکروں میں سے ایک تصور کرتےہیں۔ وہ اسلام میں خواتین کے حقوق اور اُن کے اختیار کے ایک مضبوط وکیل ہے۔ اسلامی دنیا اور افغانستان میں سیاست پر اُن کے نظریات سینکڑوں ہزاروں پڑھنے والے اور دکھانے والے اپنے طرف متوجہ کرتے ہیں۔


       

   

ڈاکٹریونوس ایک ثمردار بولنے والا اور شاعر ہے اُنہیں امریکہ، کینیڈیا میں اور بین لاقوامی سطح پر کارنفرنسوں میں ایک مہمان لیکچرر کے حیثیت سے اکثر مدعوکیا جاتاہے۔ اُن کے کتابیں " جینڈر ایکویلٹی اِن اسلام"(2002) " ڈیموکریٹیک ایمپیریلزم: ڈیموکریٹیزیشین ورسس اسلامیزیشن" (2008) اور " پرنسپلزاف اسلامک سوشیالوجی" (2011) پر مشتمل ہیں۔ اُن کے انے والا نیا کتاب " اسلامک کلچر: اے سٹڈی اف کلچرل انتروپولوجی" 2013 گرمیوں میں اشاعت کیلۓ جدول کیا گیا ہے۔ وہ کیلی فورنیا سٹیٹ کے University-East Bay میں ایک پروفیسر بھی ہے جہاں پر وہ خواتین کے مطالعات اور انسانی ترقی میں پرھاتے ہے۔

  میڈیا شخصیت کیطور پر ڈاکٹریونوس نے کۓ اعلیٰ اخباروں بشمولیت New York Times، Los Angeles Times، Washington Post، San Francisco Chronicle، San Jose Mercury News اور Associated Press کے ذریعے افغانستان اور اسلامی مسائل پر گفتگو کیا ہوا ہے۔ اُس نے ریڈیو کے ایک قسم  بشمولیت وائس اف امریکہ، فریڈم ریڈیو(پراگو)، سی این این اور این پی ار پر بھی اِس گفتگو کے موجودگی کو ممکن بنادیا ہے۔

 

 

     

ڈاکٹریونوس مقامی، قومی اور بین الاقوامی افغان کمیونیٹیوں میں بہت عملی ہے اور بہت سے اِنعامات اور عزت حاصل کیے ہیں۔ وہ Afghan Domestic Violence Prevention کے بانی ہے جوکہ Afghan Coalition کو خطے میں سان فرانسیسکو کے کیساتھ منسلک ایک خیراتی اور خدمتی ادارہ ہے۔ اُس کو" Peace at Home" ایوارڈ سے بھی نوزا گیا ہے۔ یہ انعام ڈومیسٹیک وایولینس کے خلاف کیلی فورنیا سٹیٹ سینَٹ اور سٹینڈ سے مشہور رولی مولِن ایوارڈ کیطرف سے دیا گیا۔ 2010 کو آمن اور اِنصاف کے بین الاقوامی اسلامی کانفرنس نے ائرلینڈ کے ڈوبلِن میں اسلام کے ڈیسٹینگویشڈ ایمبیسسڈر اور آمن ایوارڈ کے ویژنری انعاموں سے بھی نوازا گیا ہے۔

 

جولائی 2010 میں اُنہوں نے U.S. House of Representatives کو اپنا افغان آمن اور زمانہ شناس کے لڑائیوں کے حل تلاش کرنے کا منصوبہ پیش کیا۔ اُنہوں نے یہ منصوبہ مجلس میں شریک Denis Kucinich (D-Ohio)  سے پوچھنے کے بعد پیش کیا تاکہ افغانستان کیلۓ اسلامی سیاسی نظام پر مجلسی کمیٹی سے پہلے ازمائی جاۓ۔ ابھی ابھی فروری 2013 میں" اسلام اور سیاست" پر اُنہوں نے میڈریڈ میں" افغانستان کے ایکسپرٹ کونسل" کے قیام پر ایک بین الاقوامی کانفرنس کیا ہے تاکہ افغانستان میں جنگ کے خاتمے اور اَمن اور ازسر نو تعمیر کے حاجت میں مدد کریں۔

 

ڈاکٹرفریدیونوس " زربُل مسالحہ: 151 دلبرافغانی محاورے" کے شاعر اور امریکہ بحری فوج کے کیپٹن ایڈورڈ زیلم کے ساتھ کہتے ہے۔

 

فلم انیکس:-  ڈاکٹریونوس آپ افغانی ڈیاسپورا میں ایک سوچ والے رہنما ہے اور آپ نے کۓ قومی اور بین الاقوامی کانفرنسوں میں مجلس سے پہلے باتیں کی ہیں اور NOOR-TV پراپکا ایک ہفتہ وار ٹاک شو ہوتی ہے۔ افغانستان میں بُحران ختم کرنے کے بارے میں اپکے خیالات کیا ہیں جو کچھ افغانی تکراری پاتے ہیں؟

 

ڈاکٹرفرید یونوس:-  جیسا کہ میں نے ابھی Madrid میں ایک بین الاقوامی کانفرنس پر کہا کہ ہر تاریخی دور اور ہر صدی کا اپنا مطالبات اور توقعات ہوتے ہیں۔ ایک عالمی دنیا میں ھم جمہوری خیالات کیساتھ مساوات اور حرکت کرنے کے ازمائش کررہے ہیں۔ یہ جنسیات اور نسلوں، دماغ کے ازادی اور اَسلوب بیان اور سیاسی طاقت کے اشتراک کے درمیان مساوات عائد کرتی ہے۔ میں کوئی بھی چیز تکراری نہیں دیکھتا۔ بہرحال افغانستان کے بُحران خطے میں ہونے کیساتھ ساتھ گھریلو بھی ہے۔ خطے کا مسائل حل کرنے کیلۓ میرا سوچ یہ کہ ایران اور پاکستان کے ساتھ تعلقات قائم کرکہ امن کا ایک تکون بناۓ۔ بدقسمتی سے گھریلو مسائل پر ہمارے ساتھ تین مسئلے ہیں جو حقیقت میں ملک کو مصیبت میں لاتاہے وہ ہیں قبائلی تنظیم، جنسی معاملات اور جنسی غیر مساوات اور عادتی مسائل( جیسا کہ" بچہ بازی" یا لڑکوں سے جنسی ملاپ) ہیں۔ اس قسم کے مسائل کو حل کرنے کیلۓ ھم قوانین کو نافذ کررہے ہیں اور عوام کو تعلیم دے رہے ہیں۔

افغانستان میں ناخواندگی کے سطح 85 فیصد سے تجاوز کر گئی ہے۔ میرے مخالفین یہ مانتے ہیں کہ ھم قبائیلی تنظیم یا جنسی خواہشات کے مسائل پر توجہ نہیں دیتے کیونکہ اِن میں سے پہلا ایک افغان ثقافت کے ساخت کا ایک حصہ ہے اور دوسرا اسلامی قانون کو چھونے کا مسئلہ ہے جسکو میرے مخالفین بدعتی اور ناقابل قبول تصور کرتے ہیں۔ میں جو کہتا ہوں وہ یہ ہے کہ اسلام قانون سے بالاتر جنس، قبائل، مذہب، تعلقات اور اقتصادی حالات کے نقطۃ نظر میں ہر شخص کےلیے برابر ہے۔ مساوات اور شہریت کے بغیر ھم ایک تہذیب یافتہ معاشرہ نہیں بنا سکتے۔  جیسا کہ میں نے پچھلے ارٹیکل میں کہا کہ ابھی تک افغانستان میں سیاسی طور پر حقیقی شہریت نہیں ہے مطلب ابھی تک قانون کے سامنے لوگوں کے درمیان مساوات نہیں ہیں۔

 

فیلم انیکس:- آپ نے ایک کتاب لکھا ہے جسے "اسلام میں جنسی مساوات" کہتے ہے۔ مہربانی کرکہ ھمیں افغانستان میں عورتوں کے اختیار مندی کے بارے میں اپنے نظریات بتاۓ اور عورتوں کے اختیار کیوں اھم ہے؟

 

ڈاکٹرفریدیونوس:-  شک کے طورپر میں جانتا ہوں کہ آپ محاورں سے پیار کرتے ہو اور اپ نے افغانی محاوروں پر ایک خوبصورت کتاب لکھا ہے پس مجھے ایک محاورہ کہنے دیجۓ۔ افغانی کہتے ہیں" زن بلا است و خدا هیچ خانه را بی بلا نکنه" یقیناً یہ ایک مزاحیہ اور تکراری محاورہ ہے جیسا کہ اِس کا ترجمہ ہے " کہ عورت ایک بھوت ہے اور خدا بھوت کے بغیر گھر نہیں بناتا۔" مغرب میں Desiderius Erasmus نے ایک مختلف محاورہ کہا تھا اور وہ ایک مشہور تمثیل نگار محاورہ ہے جو کہ تقریباً اِس قسم کے چیز کو ظاہر کرتی ہے۔ " عورت: آپ اُن کے ساتھ نہیں رہ سکتی اور آپ اُن کے بغیر نہیں رہ سکتی۔" ایک دھیمے سے مزاحیہ طریقے میں، ربط والے مغرب اور مشرق کے یہ دو محاورے  تمام معاشروں میں عورتوں کے خدا کے سامنے مکمل اہمیت اور مساوات کو خط کشیدہ کرتے ہیں۔ مرد اور خواتین اپنے اپ پر بھی تھوڑا سا ہنسنے کے قابل ضرور ہوجائنگے۔

      

میرا تحقیق دکھاتا ہے کہ اسلام کے نقطئہ نظر میں مرد اور خواتین برابر ہیں۔ میرا کتاب صاف بیان کرتا ہے کہ یہ دونوں تخلیق میں، خاندان میں اور معاشرے میں برابر ہیں۔ عورتوں کے اختیار معاشی- اقتصادی اور سیاسی دونوں سطحوں سے اھم ہے اور افغانستان کے دوبارہ تعمیر اور ترقی میں ایک زندہ اہمیت رکھتا ہے۔ متین اعداد وشمار کے علم کیوجہ سے افغانستان میں عورتوں کے اختیار حیاتی ہے جو افغانستان میں عورتوں کے موجود حقوق پر بشمولیت ادبی/ تعلیم کے شرح، صحت تک رسائی، وقت سے پہلے یا زبردستی سے شادی کے شرح اور مادرانہ موت کے شرح پر دھیان دے رہے ہیں۔

               

   Gender Equality in Islam (2002)        Afghan women at a midwives' course

    

افغانستان میں بہت سے خواتین خاص کر دیہاتی علاقوں میں بنیادی انسانی حقوق اور ساتھ میں تعلیم اور صحت کے سہولیت سے بے خبر ہوتے ہیں۔ جبکہ یہاں اھم رکاوٹیں ہیں جو عورتوں کے اختیار میں موجو ہیں اور بہت سے حاصلات بھی اگۓ ہیں لیکن  وہ حوصلہ افزائی جاری رکھیں گے۔ عورتوں کے اختیار کے علاوہ ملک ترقی نہیں کرے گا۔ عورتوں کے زندگیوں کے ترقی کا نذرونیاز اپنے موجودگی کیلۓ حیاتی ہے۔

 فلم انیکس:-  کسطرح انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا افغانستان میں عورتوں اور نوجوانوں کے زندگیوں کو سُدھار سکتے ہیں؟

 ڈاکٹرفریدیونوس:-  جیسا کہ آپ اور میں گواہ ہیں کہ وسطی ایشیا میں معلوماتی نظاموں نے سیاسے تحریکیں تخلیق کی ہیں جسے بعض لوگ " اسلامی بیداری" یا "عرب کا بہار" یا " عرب کے بیداری کہتے" ہیں۔ معلوماتی نظاموں خاص کر انٹرنیٹ، فیس بُک اور ٹویٹر نے عالمی دنیا کو بہت چھوٹی اور رسد کے قابِل بنائی ہے۔ یقین کرو یا نا لوگ میرے خیالات کو افغانستان کے دور ودراز علاقوں میں پڑھ رہے ہیں۔ ایک سال پہلے میں نے بدخشان میں ٹیلفون کیا تھا کہ بدخشان میں لوگ انٹرنیٹ کے ذریعے میرے شو دیکھ رہے ہیں۔  وہ میرے اِس کام کے تعریف کرتے ہیں کہ میں دنیا کے دور کونے سے افغانستان کیلۓ کیا کرہاہوں۔ ایک لفظ اھم ہے اور وہ لفظ" رسد" ہے۔

 

A classroom built and supported by Film Annex's Afghan Development Project

      فلم انیکس کے افغان ترقی منصوبہ نے کلاس روم تعمیر کیا اور اُس کو سہارہ دیا ہے۔

 سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کے ذرائع اور مواقع نے عورتوں، نوجوانوں اور اس قسم کے ہر بندے کو اِن مواقع اور ذرائع کو استعمال کرنے کا اختیار دیتے ہیں جن کو کھبی بھی اُن کے رسد نہ ہوئی ہو۔  اور وہ لوگوں کے درمیان ترسیل اور نظریات کے متبادلے کیلۓ ایک نکاس کیطرح کام کرتے ہیں جسکو اُنہوں نے کھبی ظاہر نہیں کی۔ اِس رسد کا مطلب صرف دنیا کے بارے میں سیکھنے کے نہیں ہے بلکہ یہ لوگوں کے حرکت کو رسد فراہم کرتا ہے تاکہ لوگ دنیا میں تبدیلے لائیں۔ عمل کے علاوہ سوچ کیلۓ اچھا کیا ہوتا ہے؟  

 

ھم نے حال ہی میں مصر اور ٹیونیشیا کیطرح دو جگہوں میں ایک ڈرامے پر  اِن دو قوتوں کے مقدار کا ثبوت دیکھ لیا ہے جہاں عرب سپرینگ کیطرح واقعات کو سوشل میڈیا نے بہت مقدار میں ایندھن دیا ہے۔ میں سوچھتا ہوں کہ یہ کہنا محفوظ ہوگا کہ سوشل میڈیا کے امد کے بغیر یہ واقعات زیادہ تر نہیں اتے۔ یہ دروازہ معاشرے کے ترقی اور تعلیم تک رسائی کیلۓ اھم جُز فراہم کرتا ہے۔ Mr. Nelson Mandela کہتے ہے کہ تعلیم بہت طاقتور ھتیار ہے جو آپ دنیا کو تبدلنے کیلۓ استعمال کرسکتے ہیں۔

فلم انیکس:-  آپ نے کہا اور لکھا ہے کہ آپ امریکہ میں ایک افغانی  شخص کا زیادہ عہدوں پر فائز ہونے سے سیکھیں گے۔ اِن سے اپکا مطلب کیا ہے؟

ڈاکٹرفریدیونوس:- اچھا میں ایک افغان امریکی باشندہ ہوں۔ میں ایک مسلمان ہوں۔ میں گھر پر فارسی اور کام پر انگلش بولتاہوں۔ میں بِنا کسی خوف اورفھم کے ازادانہ اپنے مذہب پر عمل کرتا ہوں۔ میں وہ لکھتا ہوں جو میں لکھنا پسند کرتا ہوں۔ یہ میرے لیۓ کوئی بات نہیں ہے کہ معاشرہ وہ قبول کرے یا نہ لیکن قانون نے مجھے یہ موقع دیا ہے کہ میں کیا ہوں۔ امریکہ کے اِس ملک میں میں اِس حقیقت سے نفرت کرتا ہوں کہ میں مشرقی وسطہ میں امریکہ کے خارجہ پالیسی کیساتھ راضی نہیں ہوں، ہر شخص اسکے علاوہ ہر طرف سے اتا ہے اور ھم ساری دنیا سے منتقل ہو گۓ ہیں۔ عام طور پر ہر شخص اپنے ثقافتی فسادات، مذہبی اسم، سیاسی نظریات، شخصی نمونوں اور قیمتوں کیساتھ ایک دوسرے کو بِنا کسی تکلیف کے قبول کرتے ہیں۔

 

1950 میں کابل کے ایک ریکاڈسٹور پر

 افغانستان میں ھم دو مختلف قبائل ہیں، خیا ل کے دو بڑے سکول ہیں اور بہت سے زبانیں ہیں۔ وہ کون سے افغانی ہیں جو ایک دوسرے کو ایک دوسرے کے اُوپر دیکھتے ہیں۔ خدا کے حکم کے نیچھے افغانی ایک قوم بھی ہے۔ افغانی امریکہ کے زیادہ عہدوں پر فائز ہونے سے سیکھیں گے کہ آپ کون ہوسکے گا اور آپ کیا چاہینگے لیکن آپ آپنے قبائل، مذہبی اور جنسی تعلقات کے سامنے ایک جیسے ہیں۔ افغانی ایک دوسرے کے عزت اور ایک دوسرے کے نظریات سیکھیں گے۔

 جب میں نے ڈیورنڈ لائن کے خلاف لکھا ہے کہ یہ افغانستان کیلۓ اور زیادہ فائدے کیلۓ نہیں ہے تو دنیا بھر سے میرے اردگرد لوگ تھے اور میں ایک غدار تھا۔ میں ایک غدار نہیں ہوں، میں نے صرف اپنے خیال کو ظاہر کیا ہے کہ ڈیورنڈ لائن پر کیا ہوا خرچہ ھم واپس نہیں کرسکتے۔ قبائلی نظام ترقی اور تہذیب یافتہ معاشرہ بننے کیلۓ مزاہمت نہیں ہے 

             

   افغانستان کا قومی ایلبم اور ڈیورنڈ لائن۔

 فلم انیکس:- اگر آپ صبح اُٹھے اور اپنے اپکو افغانستان کے صدر پائیں تو افغانستان کو ایک اچھا جگہ بنانے کیلۓ آپ کے اول تین ابتدائی کام کونسے ہونگے، اور کیوں ہونگے؟

 ڈاکٹرفریدیونوس:- ہنستے ہوۓ یہاں آپ دوبارہ جاؤ۔ آپ مجھے ایک اور محاورہ بولنے پر مجبور کرنا چاہتے ہے؟ ایک تھوڑی سی مزاحیہ محاورہ ہے اچھا یہ اُس مذاق کیطرح نہیں ہے لیکن یہ خوش مذاق ہے ھم افغانی کہتے ہیں" مُردہ گوز نہ می زنہ و اگہ گوز زد، کفن را پارہ می کنہ" ( ایک مردہ شخص ریاح خارج نہیں کرتا۔ اگر وہ ایسا کرتا ہے تو کفن چھیر کہ کھول دیں) اس کا مطلب یہ ہے کہ کچھ چیزیں واقع نہیں ہورہے ہیں۔

                       

Principles of Islamic Sociology (2011)             Democratic Imperialism (2008)

      میں جانتا ہوں کہ میں افغانستان کا صدر نہیں بن سکتا۔ لیکن اگر ایک صبح میں صدر کے حثیت سے اُٹھ گیا تو میں کہوں گا۔ ھم نے تاریخ میں گواہ دیا ہے کہ بادشاہی ناکام ہوگئ ہے اور قبائلی نظام، خاص کر پشتونی قبائلی نظام ناکام ہوگئ ہے؛ جمہوریت چٹھے بار ناکام ہوگئ ہے، مساواتی نظام اور اسلامی انتھا پسندی کا نظام ناکام ہوگئ ہے۔

 

With the University of South Florida's Dr. Mohsen Milani

     پرنسپلز اف اسلامک سوشیالوجی(2011)    جمہوری برطانہ کے پالیسے(2008)

 جو چیز رہ گئ ہے وہ ہے افغانیوں کے سیاسی سوچ کیساتھ بیدار ہونا ہے جو ہمارے قیمتیں، قواعد اور ثقافتی اُصولوں کو ٹھیک کرتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں اُن سب کو " ایک نۓ کوکی کو پکنے" کے اور میرے راۓ کیمطابق اسلامی جہوریت کے ضرورت ہے۔ اِس جمہوریت میں قانون سے بالاتر کوئی نہیں ہے، ایک عورت سے کوئی بھی برتر نہیں ہے، قدرتی وسیلے لوگوں کیلۓ ہیں، ہر شخص قدرتی وسیلوں کے استعمال سے ملک کو دوبارہ تعمیر میں ایک دوسرے کیساتھ مدد کرتے ہیں اور اھم مقصد غربت، جھل، جانب داری، جنسی ملاپ اور قبائلی نظام کے خاتمہ کرتا ہے۔

 

Zainab, a female officer of the Afghan National Police (ANP), at a police recruiting event

جامع سوتھ فلوریڈا کے پرفیسر ڈاکٹر محسن میلانی کیساتھ۔

 پہلے خطے میں امن لاؤ، میں ایران، پاکستان، روس، چائنہ، فرانس، سلطنت برطانیہ، سعودی عرب، انڈیا، جرمن اور امریکہ کیساتھ ایک ملاقت کرونگا تاکہ افغانستان سے فوجی قوتیں نکالیں۔ افغانستان کیلۓ نہ فوج کی ضرورت ہے نہ ھتیار خریدنے، نہ ھتیار درآمدادی یا برآمدادی کی ضرورت ہے اور جسطرح رہو جسطرح یورپ میں سویزرلینڈ ہے پس پھر لوگ افغانستان کو ایشیا کے سویزرلینڈ کہیں گے۔

 ھمیں قانون اور حکم کے حفاظت کیلۓ ایک مضبوط حفاظتی قوت کی ضرورت ہے لیکن اپنے ملک کو فوجی زمرے میں لانا نہیں چاہتے۔ فوجی طاقت اور جذبہ افغانستان میں بالکل فائدہ مند نہیں ہے۔ دوسرا میں قانون جاری کرونگا تاکہ اسلامی اُصولوں کے بنیاد پربہت کافی معلومات پھیلائیں جائیں۔ جسکا مطلب یہ ہے کہ اگر ایک افغانی باپ اپنے بیٹی کو سکول جانے سے منع کرتا ہے" تب حضرت محمدﷺ فرماتے ہے کہ علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے" پھر اِن کو سزا دی جائیگی۔ اخر میں اپنے قدرتی ذرائعوں اور تعلیم کیلۓ وسیع کثیر اخراجات میں چھید کرجاؤنگا جو اسلامی اور افغانی قیمتوں کیساتھ ثقافت کے بنیاد پر ہے تاکہ اقتصاد کا حمایت کریں۔ تمام قدرتی ذرائع لوگوں سے تعلق رکھتے ہیں اور لوگوں کے مدد کیلۓ استعمال کئیں جائینگے۔

 پولیس کے نۓ بھرتی کے حادثات پر زینب افغانی قومی پولیس کا ایک خاتون افسر ہے۔

 فلم انیکس:- افغان ڈیاسپورا میں افغان- امریکی ٹیلی وژن کے شخصیت اورناموری کیطورپر، افغانستان سے باہر رہنے والے افغانیوں کو اپکا کیا نصیحت ہے کہ وہ کسطرح اپنے ملک میں امن اور ترقی لاسکتے ہیں؟


           

Afghan Proverbs author Edward Zellem was interviewed live on "The Dr Younos Show

ڈاکٹرفریدیونوس:- افغانی جو افغانستان کے باہر رہتے ہیں وہ تفریق کے علاوہ ثقافت اور اسلامی قیمتوں کے حفاظت کیلۓ تعاؤن کرنے کے ضرورت ہے ۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص شمالی خطوں سے جنوبی خطے کے ایک شخص کے مدد کریگا اور جنوبی خطے سے ایک شخص شمالی خطے میں۔ افغانیوں کو اسلامی اوصاف کے ذریعے اتحاد اور مدد کے تعلیم دینے کی ضرورت ہے۔

 

افغانی محاوروں کے شاعر ایڈورڈ زیلم نے " ڈاکٹریونوس شو" پرفلم انیکس کیساتھ براہ راست ملاقات کی۔

 

فلم انیکس:- آپ اپنے ہفتہ وار شو نوور- ٹی وی، "ڈاکٹر یونوس شو" پر انے والے فون کے حصے کا ایک براہ راست دکھانے والا ہے۔ یہ دلیری کا کام ہے جس کو وضاحت کرنے کیلۓ تکراری موضوعات دی جاتے ہیں۔ کیا آپ چند زیادہ دلچسپ فون کرنے والوں کے بارے میں بیان کرسکتے ہیں اور وہ کس کے متعلق بات کرنا چاہتے ہیں۔

 ڈاکٹرفریدیونوس:- زیادہ دیکھنے والے، عورتوں کے حقوق کے بارے میں بات کرتے ہے اور وہ جانتے ہیں کہ میں عورتوں کے حقوق کا ایک مضبوط وکیل ہوں۔ تمام قبائیلوں کے درمیان قومی مساوات کیوجہ سے غیرپشتون زیادہ تر میرے شو کے تعریف کرتے ہیں۔ دوسرا تکراری مسئلہ یہ ہے کہ کچھ افغانی حتیٰ کہ ایک تعلیم یافتہ دائرے کیساتھ ساتھ ہندوؤں اور عیسائی کو کافر سمجھتے ہیں اور میں کہتا ہوں نہیں وہ کافر نہیں ہیں لیکن اہلِ کتاب ہیں جن کا احترام کیا جاۓ گا۔ آپکے معلومات کیلۓ میں نے ابھی اہل کتاب مطلب ہندوؤں اور عیسائیوں پر دوسرے شاعر پروفیسرعبداللہ سمندرغورینی کیساتھ  فارسی زبان میں ایک تحقیقی پیپر شائع کیا ہے۔ ڈاکٹرغورینی کابل کے یونیورسٹی میں اسلامک لاء کے سابقہ پروفیسر ہے اور دنیا میں اعلیٰ عقل مند افغانیوں میں سے ایک ہے۔ اُس کو ایک نۓ تحقیقی پیپر پر میرے ساتھ مصنفی میں شامل کیا ہے جس کا عنوان " اہل کتاب کیساتھ Muslims’ Symbiosis " ہے۔ میں دوبارہ کہتا ہوں کہ وہ کافر نہیں ہیں لیکن مذہبی لوگ ہیں جن کا احترام کیا جاۓ گا۔ 

 آپکا بہت شکریہ اور میں کیلی فورنیا میں چند اوقات اپکو دیکھنے کا اُمید رکھتا ہوں۔

ایف اے: ڈاکٹریونوس اپکا شکریہ زندہ باشین (خدا تمہیں لمبی زندگی دے)

 "افغان – امریکی عمل میں" ایڈورڈزیلم کیساتھ ملاقات کا ایک سلسلہ ہے جو افغان – امریکی کمیونیٹی میں رہنماؤں، شخصیات اور ابتدائی کاروائیوں کے نکاتی سوچ کے خصوصیات بیان کرتے ہیں۔

-----

“Afghan-Americans in Action” is an interview series with Edward Zellem that features key thought leaders, personalities and initiatives in the Afghan-American community.  Look for the next interview on Film Annex’s The Annex Press.

 



About the author

AFSalehi

A F Salehi graduated from Political Science department of International Relation Kateb University Kabul Afghanistan and has about more than 8 years of experience working in UN projects and Other International Organization Currently He is preparing for Master degree in one Swedish University.

Subscribe 200
160