افغانستان میں فلم سازی کیساتھ عورتوں کے اختیار کیلۓ ہرات بین الاقوامی عورتوں کے فلمی تہوار۔

Posted on at

This post is also available in:

بین الاقوامی خواتین کا دن اصل میں بین الاقوامی خواتین کے کام کے دن سے اخذ کیا گیا ہے، جو 8 مارچ پر ہے ، اس وقت سے بہت خواتین نے ادمیوں کیطرح ایک جیسے اقتصادی، تعلیمی، معاشی اور سیاسی سرگرمیوں تک پہنچنے کیلۓ کوشش شروع کی ہے۔

 

انٹرنیشنل وومن ڈے 2013 کیلۓ یونائیٹڈ نیشن کا موضوع " وعدہ ایک وعدہ ہے" ہے۔ یہ عورتوں کے خلاف تشدد کے خاتمے کا وقت ہے" جبکہ جنسی اجنڈا " حرکت میں انا" ہے۔

یہ دن کسی قوم سے تعلق نہیں رکھتی۔ یہ ان تمام عورتوں کیلۓ ایک بین الاقوامی جشن ہے جو ایک دوسرے کے شانہ بہ شانہ کھڑے ہوجاتی ہیں اور دوسروں کیلۓ بہترین ماحول حاصل کرنے کیلۓ قربانیاں دیتی ہیں۔ عورتوں نے افغانستان میں دورطالبان میں اپنا تاریک وقت گزارا ہے جب انہیں سکول جانے کی اجازت نہیں تھا اور تعلیمی نظام تک رسد نہیں تھا اور ایک گھر میں ایک مرد ساتھی کے بغیر رہنے پر پابندی تھی۔

 یہ تقریباً ایک عشرے پہلے کی بات سے اس وقت تک جب افغانستان میں طالبان کیساتھ جھڑپ ہوگیا اور عورتوں نے سخت محنت شروع کی تاکہ اپنے حقوق حاصل کریں۔ بہت سے خواتین مارے گئیں ہیں۔ اُن کے ساتھ غلط سلوک ہوگیا ہے اور خاص کر عورتوں کیلۓ اُن کے حقدار سرگرمیوں کیوجہ سے اُسے چھپ رکھی گئیں۔

 لیکن کوئی بھی طاقت اسے اپنے مقاصد سے نہیں روک سکتا اور وہ اس مقصد کو حاصل کرنے کیلۓ تمام قربانیاں قبول کرتی ہیں۔ اُنہوں نے اپنا کوشش اور سہارا برقرار رکھا ہے۔

 بالکل اب افغانستان میں درجنوں ادارے سیمیناروں، ورک شاپوں اور تجرباتی مضمونوں کے ذریعے عورتوں کے حقوق کیلۓ کام کررہے ہیں تاکہ ان کے حوفصلہ افزائی کریں اور ایک گھر کی بیوی اور بچوں کی صحت کا خیال رکھنے اور بیرونی کام سے اُن کے واقفیت میں اضافہ کریں۔  

ہر دن ھم سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل میڈیا اور وہ زندگیوں کو کس طرح مائل کردیتے ہیں کے بارے میں سنتے ہیں۔ اج کے زندگی میں اور اس تصور میں کہ کس طرح رابطے اور اپنے خود کے نیٹ ورک کے تعمیر، نظریات کو پھیلانے کیلۓ انٹرنیٹ کا استعمال ایک طاقتور واسطہ ہے خاص کر عورتوں کیلۓ ایک ضروری الہ استعمال کرتا ہے۔

 

عورتوں کیلۓ تاکہ وہ اپنے اوازیں اُٹھائیں اور روزمرہ زندگیوں کے مسائل اور مقابلوں کیلۓ فنون کے انجامی اور خاص کر فلم سازی ایک دوسرا طاقتور سوشل اور ڈیجیٹل میڈیا کے ھتیار ہیں۔ یہ اس لیۓ ہرات بین الاقوامی عورتوں کے فلمی تہوار عورتوں کو تمام دنیا سے پکارنے کا موقع لیتا ہے اور فلموں کے ذریعے پیغامات کو دکھاتا ہے۔

اس فلمی تہوار کیلۓ ابتدائیوں میں سے ایک رویا سادات ہے۔ یہ ایک خاتون فلم ساز اور رویا فلم ہاؤس کے ڈائریکٹر ہے۔ وہ تہوار کے اعلیٰ ڈائریکٹر بھی ہے۔

خواتین فلم ساز افغانستان، ایران، پاکستان، چائنہ، تھائی لینڈ، جاپان، انڈیا، ترکی، بنگلہ دیش، اسٹریلیا، وینی زولہ، فرانس، کینیڈا اور تاجکستان کے طرح کۓ ممالک سے ہیں۔

 

وومن انیکس ایک تعاملاتی پلیٹ فارم ہے جو ویڈیو، ہدایاتی پروگراموں اور تعلیم کے متعلق بلاگ کہانیوں، فنون، کاروباروں، کھیلوں اور دوسرے قسم کے موضوعات کے ذریعے عورتوں کے اختیار کو سہارا دیتا ہے۔ یہ ہرات میں فلمی تہوار اور وومن انیکس کے درمیان ایک بڑا شرکت ہوگا جو پلیٹ فارم کے ذریعے اُن کے فلمیں اور تجربات کو اسانی سے ترقی دے سکتا ہے۔ میں اگے قابل خواتین فلم سازوں کے ساتھ ملاقاتوں کیلۓ دیکھ رہا ہوں اور دنیا کو دکھانا چاہتا ہوں کہ افغانی خواتین قابل، مفکر رہنما اور تخلیقی ہیں حتیٰ کہ دباؤ اور محدود سہولیات کے موجودگی میں وہ اچھی ہیں۔

روز جهانی زن به عنوان نمادی از فداکاری ها، مبارزات و تلاش های بی وقفه زنانی است که به خاطر داشتن حقوقی مساوی در جامعه، تحصیلات، سیاست و حقوق اجتماعی خود به مبارزه آغاز کردند. زنان تاریکترین دوران خود را در افغانستان در زمان حکومترانی طالبان سپری کردند. آنها از هیچگونه حقوق اجتماعی و مدنی برخودار نبودند. گرچه پس از سپری نمودن یک دهه از فروپاشی طالبان زنان هنوز هم مورد شکنجه و آزار روحی و جسمی قرار میگیرند و به عنوان جنس دوم به آنها نگاه میشود. امروزه رسانه های اجتماعی نقش به سزایی را در ایجاد ارتباطات و گسترش فعالیت های اجتماعی افراد بازی میکند. همانطور که برای اولین بار نخستین جشنواره بین المللی فیلم  زنان در هرات امسال در روز زن آغاز به کار میکند. رویا سادات یک فیلم ساز زن و رئیس خانه فیلم رویا یکی از گردانندگان این جشنواره میباشد. در واقع هنر فیلمسازی یکی از بهترین رسانه های به منظور رساندی پیام به سایر افراد در سرتاسر دنیا میباشد و این همان موردی است که فیلم انکس با به راه اندازی پلت فرم زنان انکس خواهان رسیدن به آن است



About the author

AFSalehi

A F Salehi graduated from Political Science department of International Relation Kateb University Kabul Afghanistan and has about more than 8 years of experience working in UN projects and Other International Organization Currently He is preparing for Master degree in one Swedish University.

Subscribe 200
160