ناجیہ خان: افغانستان میری روح میں ہے۔

Posted on at

This post is also available in:

 


     


تعارف ؛ ناجیہ خان کے پرستاروں کا کہنا ہیکہ ان کا چہرہ ایک فرشتے کے چہرے جیسا ہے۔چونکہ میں نے ابھی تک فرشتہ نھیں دیکھا اس لیۓ مجھے نھیں پتا کہ وہ سچ کہتے ھیں یا نھیں ،لیکن افغان برطانوی اداکارہ ناجیہ خان  کے انٹرویو کے بعد جو کہ مصنف ،ماڈل اور سوشلائٹ ہیں مجھے یہ معلوم ہوا کہ ان میں ایک بلکل افغان روح ہے۔


ناجیہ خان افغانستان کے شمالی شہر مزارشریف میں پیدا ہویئں ،وہ بہت چھوٹی تھیں جب افغانستان پر سویت یونین نے حمل کیا اس وجہ سے انہیں مجبور ہو کر پاکستان ھجرت کرنا پڑی ۔وہ ۱۹۹۰ میں لندن میں اباد ہوگۓ تھے،نوجوان ناجیہ ایک لندن  کے سکول کے طور پر پلی بڑھی اور وہ دونوں افغان اور برطانوی رہن سہن سے متاثر تھیاور اکثر ان کا اختاف جنگ  کی صورت پکڑ لیتا تھا۔ وہ ایک منفرد مصور اور مفکر کے طور پر ابھر کر  سامنے آیئ اسکو بہت پہلے ہی گہری خوشی اور زاتی درد دونوں کا تجربہ ہو چکا تھا۔


ایک اداکارہ کے طور پر ناجیہ خان نے افغانی ، بالیووڈ ، اور برطانوی فلموں میں اداکاری کی ہے۔حال ہی میں وہ ایک بری راھبہ کے روپ میں ابھریں ھیں ایک آزاد برطانوی فلم ۔۔۔،،کریپٹ میں


          


۔۔۔،،جو کہ برطانوی ڈایئریئکٹر مارک مرفی کی پہلی فلم ہے ،اسے ۲۰۱۲  کے اواخر میں فلمایا گیا اسی چرچ میں جہاں ،،،لیس مزریبل ۔۔۔کی شوٹنگ کی گئ تھی۔اس کو بہت عمدہ سٹائل اور فوٹیج سے فلمایا گیا ھے،اور ایک روایتی ڈراؤنی کہانی کو دو مخالف نقطہ نظر سے بتایا گیا ہے۔


ناجیہ خان یورپی سماجی منظر پر بہت فعال ہیں ۔انہیں دنیا کی کئ مشہور  شخصیات سے ملنے کے مواقع ملے جنمیں سابق امریکی صدر بل کلنٹن،برطانوی شہزادہ اینڈریو،بالیوڈ اور ھالیووڈ کے سپر سٹار جیسے سلمان خان ،شاہ رخ خان،سیف علی خان،کرینہ کپور،مکی رورکی اور لیونل رچی،اور بینالاقوامی سپر ماڈل ٹایئسون بیکفورڈ مشہور کھلاڑیوں جیسے فا کونڈو پییئرزاور گلوبل انڑرپرینیور کیرو اورسینی سے ملاواتیں کی ۔ یہ فہرست لمبی ہے لییکن خان سے یہ سب مشہور نام نکلوانے بڑا مشکل کام تھا ۔وہ اپنے بہت سے زاتی اور پروفیشنل رابطوں کے بارے میں زیادہ حساس ہیں اور وہ اپنا نام بنانا نہیں چاہتییں ۔


   


ناجیہ خان کے بارے میں اور  بھی بھت کچھ ہے،وہ ایک بہت بہادر کے نام سے جانی جاتی ہیں،اور یہ بہت سی افغان خواتین کی بہادری کی ایک مثال ہے۔


ناجیہ نے طیاروں کی پرواز اور موٹر سایئکل چلانا سیکھی۔وہ پولو بھی کھیلتی ہیں،


اور شارک کیساتھ بھی کھیلتی ھیں۔اور ایک  دفعہ تو شمالی فرانس میں سب سے اونچے پہاڑ سے پیرا گلایئڈنگ بھی کی۔۔ناجیہ خان اپنے ان شوقوں کو اپنی لکھایئ اور اداکاری میں لیکر آتی ہیں۔اور وہ یہ کہتی ہیں کہ یہ سب ایک قدرتی عمل ہےجو مجھے اپنے کیئریئر کے علاوہ یہ کام کرنے کا  کہتا ہے،اور ان سب باتوں کا خلاصہ یہ بات کہہ کر میری زیادہ توجہ زندگی پر ہے کیوںکہ یہ ایک خوبصورت تحفہ ھے۔


ایک افغان برطانوی خاون ہونیکی وجہ سے ناجیہ خان افغان ضربالامثال اور ثقافت کی پرستار ہیں ۔


انہوں نے امریکی بحریہ کے کیپٹن ایڈورڈ زیلم کوایک خصوصی انٹرویو  دیا اور ایڈورڈ زیلم ۔۔افغان ضرب المثلھا کے مصنف ہیں ۔


ایف اے: ناجیہ جان آُپ سے بات کرنا باعث خوشی ھے۔لگتا ہے کہ آپ کی زندگی کافی دلچسپ رھی ہے۔؟


ناجیہ خان ؛شکریہ ایڈورڈ جان افغان ضربالمثل پر آپ کے کام کو دیکھ کر یہ نہین لگتا کہ آپ  بھی زیادہ برا  ٹئم نہیں گزار رھے۔یہ انٹرویو بھی ایک دلچسپ ایڈونچر سے کم نہیں ہے،میں زندگی میں ہر چیز کو ایک ایڈونچر کے طور پر لیتی ہوں چاہے وہ ایک چھوٹی چیز ہی کیوں نہ ہو،



ایف اے:آپ نے اداکارہ کیطور پر بھارتی  بالیووڈ کی کئ فلموں میں کام کیا  آپ نے کیسے اپنا کیریئر شروع کیا ؟اور کیا افغٓن فلم انڈسٹری بالیووڈ سے سیکھ سکتے ہیں؟


ناجیہ خان :اداکاری میرے لۓ ایک فطرتی چناؤ تھا   زندگی کے بارے میں سب کچھ بہت خوبصورت ہے، اور میں نے اسے کھوجنے  کی کوشش کی ھے،


ایک اداکارہ کے طور پر یہ میرے لیۓ یہ ایک اچھا موقع تھا  کہ میں اپنی زندگئؤی میں مختلف انسانوں کا روپ دھار سکوں۔ میں نے اس بارے میں معلوم کرنے کی کوشش کی کیسے ایک کہانی یا ایک صورتحال میں لوگ جیتے ہیں ار یہ بہت شاندار ہے



    میری پہلی بالیووڈ فلم شادی کا لڈو میں میرا کام بہت کم تھا۔۔حالانکہ یہ ایک بہت کم کام تھا مگر پھر بھی فلم انڈسٹری کے لوگوں نے مجھے نوٹس کر لیا تھا اور اسکے بعد اداکاری کیلۓ مزید پیشکشیں ہویئں ۔میں نے ایک کردار اندین ٹی وی کے ڈرامے ایسا دیس ھے میرا کیلۓ قبول کرلیا تھا۔اور پھیر ایک کردار بھارتی فلم دھن دھنا دھن گول میں قبول کیا جسمیں بالیووڈ کے سپر سٹار جان ابراھم اور بپاشا باسو نے مرکزی کردار ادا کیۓ۔اس نے ایک اکاونٹنٹ ہونے کی حکمت عملی کی تھی اور یہی پڑھا تھا۔لیکن ایک بھت مختلف راستہ چنا جب ۱۷ سال کی عمر میں فورڈ ماڈلز میں سپر ماڈل آف دی ورلڈ منتخب ہویئں۔ میں نے بالیووڈ میں اپنا ہر ایک لمحہ بہت محبت سے گزارا۔ بھارتی فلم انڈسٹری میں کئ لوگ بہت دلچسپ ہیں



   


لیکن اسکے بعد میں نے کچھ زاتی وجوہات کی وجہ سے یہ کام بند کیا کر دیا تھا۔


بھارتی فلم انڈسٹری بہت دلچسپ اور رنگین  ہے۔اور اسکے ساتھ ساتھ اسمیں بہت شدت بھی ھے۔اپنے آپ کو اس میں کھو دینا بہت آسان کام ہے۔لیکن میرے اور بھی پلان تھے،میں نے ایک افغان فلم آیندہ کو قبول کیا جسکو یوسف روویان ڈایےؤئریکٹ کر رھے تھے۔، ھم نے لندن کے ارد گرد اس کی فلمبندی کی تھی اور اسمیں بڑا مزا آیا۔مجھے لگتا  ہیکہ افغان فلم انڈسی بالیووڈ سے کافی کچھ سیکھ سکتے ہین ۔صرف ایک اچھی کہانی ھی کافی نہیں ھوتی۔اسے  اصل میں ایک مضبوط ڈایئریکٹر کا ہونا  ضروری ہوتا ھے جو کہ فلمسازی اور سینیما کے فن کو سمجھتا ہو، سب سے اہم بات یہ ھیکہ آپ کے پاس  ایک  بہت اچھا گروپ ہونا چاھۓ اور سب متھد ہو کر کام کریں ۔فلم بنانا ایک مضبوط گھرانے کی مانند ھے،


 



ایف اے:  اپنی نئ فلم کریپٹ کے بارے میں بتایئں ۔؟


بالیووڈ میں تجربے کے بعد چند سال کیلۓ میں واپس لندن آگئ تھی۔میں نے سوچا کہ پھر ایک فلم میں کام کرنا دلچسپ ہوگا۔پس میں نے ایک آزاد برطانوی فلم کریہپٹ میں کام قبول کیا ۔یہ مارک مرفی کی ایک ڈراؤنی فلم ھے۔اور میں نے ایک بُری نن کے کردار سے بہت لطف اٹھایا۔ہم نے پچھلے سال اسکی فلمبندی کی ھےاور جلد ہی یہ پیش کر دی جایئگی،اس لیۓ میں اسکے بارے میں زیادہ معلومات نہیں دے سکتی۔ ابھی صرف یہ کہہ سکتی ہوں کہ اسمیں ایک ٹیم کی کہانی ہے جو ایک کیتھولک چرچ میں ایک  کانونٹ کریپٹ میں نوجوانوں کی اموات کے  بارے میں جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔یہ بہت پر لطف تھا اور میں فلموں کے سیٹپر ایک نئ زندگی محسوس کرتی ہوں ،جب ڈایئریکٹر ایکشن کہتا ہے تو میں ایک نئ دنیا میں داخل ہو جاتی ہوں جہاں میں کچھ اور بن جاتی ہوں ،مجھے نہیں پتا کہ مجھے ایک اور فلم میں کام کرنا چاہیۓ یا نھیں۔ میں بھت سے چیزوں کی کوشش کرنا چاھتی ہوں ۔لیکن ابھی  میں کویئ کام کرنے کیلۓ تیار نہیں ہوں۔


جیسا کہ آپ کی عظیم کتاب ضربالمثلھا میں لکھا ہے۔۔،سر زندہ باشہ ،کلا بسیار است،،،،اسکا مطلب ہیکہ اگر آپ کے سر مٰ  زندگی ہے تو پہننے کیلۓ ٹوپیاں بھت ہیں ۔یہ میرے لۓ بلکل صحیح ضرب المثل ہے،۔مجھے  بھی بھت زیادہ کام کرنے کو شوق ہیں ۔میں یہ کہنا چاھتی ہوں کہ آپ سب کو مختلف ٹوپیوں کی کوشش کرنی چاہۓ۔آپ کو پتا نھیں کہ کونسی آپ کیلۓ اچھی ہوگی۔میں ہمیشہ افغان ضرب المثل استعمال کرتی ہوں


 


ایف اے : آیۓ چند منٹ تک ضربالمثل کے بارے میں بات کرتے ہیں ۔آپ یورپین سوشل سرکٹ میں کافی سارے مشہور لوگوں سے ملی ہیں ،کسی مشہور شخصیت سے ہونے والی دلاچسپ ملاقات کے بارے میں بتیئں ۔؟


ناجیہ خان ۔۔نے ہنستے ہوۓ کہا مجھے کہانی سنانا بہت پسند ہے۔لیکن میری سب سے دلچسپ کہانی ۵ سال پہلے لندن کی ایک سوسایئٹی ایونٹ میں پیش ایئ۔اندین فلموں کے سب سے بڑے ستارے شاہ رخ کان وہاں موجود تھے۔وہ جنوبیاور وسطی ایشیا میں بھت مشہور ہیں اور لوگ عمومی طعر پر انکو ایس آر کے ،،کے نام سے جانتے ہیں ۔تو اس  سے معلوم ہوتا ھے کہ وہ کتنے مشہور ہیں،بہر حال ایس آر کے بالیووڈ سینیما کی تاریخ کے ایک بہت بڑا ستارہ ہیں اور ان کو سب سے زیادہ بار بہتریں ایکٹر کےایوارڈ سے نوازا گیا ھے۔میگزین لاس اینجلس ٹائم میں دنیا کا ایک بہت بڑا فلمی ستارہ کہا گیا ہے،اور انکے مداحون کی تعداد بلین میں ھے،انڈین میڈیا انکو بالیووڈ کا بادشاہ کہتا ہےاور نیوزویک  میگزین کے مطابق دنیا کے ۵۰ طاقتور ترین لوگوں میں شامل ہیں ۔جیسا کہ یہ لوگ کہتے ہیں وہ اس صنعت کا ایک بہت بڑا نام ہیں



   


ایس آر کے لندن کی اس تقریب میں اپنے فن کا مظاہرہ کر رہے تھے۔اسکو انڈیا کے سب سے بڑے  بینک نے منعقد کیا تھا۔اور وہان پر کئ پیارے لوگ تھے۔،قصہ مختصر ایس آر  کے نے مجھے کئ لوگوں کے سامنے بلایا اور ہم نے ایک دوسرے کیساتھ مزاق شروع کیا۔ ایک موقع پر وہ ہنسے اور مجھے کہا کہ ۔۔۔،،تم اپنے آپ کو ایک افغان کہتی ہو تو صرف دری بولتی ہو پشتو کیوں نہیں۔؟


ایس آر کے ،کے دادا جنوبی افغانستان سے تھے اور اکژر اپنے آپ کو پٹھان کا بچہ کہتے ہیں ۔


ایس آرکے نے کچھ الفاظ پشتو مین کہے۔ایک لمحے کیلۓ مجھے تعجب ہوا کہ میں ان کے تمام الفاظ کو سمجھ  گئ تھی۔ تب میں نے ہنسنا شروع کیا مجھے پتا چل گیا تھا کہ وہ پشتو نہیں دری مین بات کر رھے تھے۔اب سارا مزاق ان پر تھا۔بہت شرم کی بات ہے میں نے ان سے کہا،آپ اپنے آپ کو پٹھان کہتے ہیں لیکن آپ دری اور پشتو کا فرق  نہیں بتا سکتے۔


سامعین زور سے ہنسے !وہ اور بھی زور سے ہنسے جب ایس آر کے نے جواب دیا۔۔۔۔،،،یہ مناسب نھیں ہے،،ان تمام سالوں میں سب نے مجھ سے کہا کہ آپ پشتو بول رہے ہیں۔ بہرحال یہ بہت لطف اندوز تھا ۔سامعین کے سامنے کچھ دیر تک  مزاق کرتے رھے اور پھر ایک گانے درد ڈسکو پر رقص کر کے  محفل کا خاتمہ کیا اور اس  سے تمام  ناضرین بہت پر جوش ہو گۓ تھے۔اور اسکو بہت پسند کیا، 



    اسکے  بعد  مجھے کچھ حیرت ہویئ کہ میں ایک عالمی سپر سٹار کیساتھ کچھ زیادہ دلیری کیاستھ  بالتی رھی اور لیکن میں زیادہ تر سے نہیں ڈرتی اور مین کئ لوگوں سے مل چکی ہوں جنمیں شہزادہ اینڈریو ،بل کلنٹن ،مناکو کے شہزادے البرٹ،األو کوئلہو،ٹائسن بیک فورڈ ،فاکنڈو پیئرز،میکی رورکے،ارماند اسانتے،جین کلاڈے وین ڈیم،پیرس ہلٹن ،سلمان خان،ارجن رامپال،جرمین جیکسن،لیونل رچی ،اور کئ مشہور لوگوں سے،کچھ تو تھوڑی دیر پہلے آپ نے ذکر کیۓ،،،،لیکن آخر ہم سب لوگ ہیں،،اس لیۓ مین اس بارے  میں فکر نہیں کرتی



ایف اے:کسطرح فلم انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے زریعے نوجوانوں اور افغان عورتوں کی مدد کر سکتے ہیں ۔؟


ناجیہ خان :  یہ میڈیا بہت طاقتور ہے اور یہ معاشرے میں تبدیلی لا سکتا ہے۔اور یہ اس کو مزید بہتر بھی کر سکتے ہیں اور اسکو بہت برا بھی بناسکتے ہیں۔ہر ایک کو اس بارے میں زاتی  طور پر حصہ لینا چاھیۓ چاھے وہ اسکا خالق ہو یا ایک صارف ہو۔ خاص طور پر فلمیں جو کہ لوگ زیادہ دیکھتے ہیں ،اور لطف اٹھاتے ہیں اور پھر بھول جاتے ہیں۔،لیکن یہ اور بھی اچھا ھو جاتا اگر لوگ اسکو آنکھوں سے نا بلکہ دماغ سے دیکھیں۔بہت سی فلموں میں ایک پیغام ہوتا ہےجو کہ آپ کو ایک بہتر انسان بنا سکتا ھے اور ان فلموں میں طاقت ہے جو کہ کئ ملین لوگوں تک پہنچ سکتی ہیں اور انکو متاثر کر سکتی ہیں


 


سوشل میڈیا کو اگر مناسب طریقے سے استعمال کیا جاۓ تو بہت مفید ہے۔یہ ان خاندانوں اور دوستوں کو اکٹھا کرتا ھے اور ان کی زندگی میں بہتری لاتا ہے جو ایک دوسرے سے جدا ھو گۓ ہوتے ہیں، مثال کے طور پر میں افغانستان میں اپنی کسی کزن سے نہیں ملی مگر میں ان کے ساتھ فیس بک ،وایئبر اور سکائپ کے زریعے رابطے میں ہوں،


سوشل میڈیا تعلیم کو پھیلانے کا ایک اہم االہ ہے، کئ سارے لوگ دنیا کے بہت دور دراز کونوں میں رھتے ہیں اور اساتذہ چونکہ وھاں نہیں پہنچ سکتے۔لیکن سکائپ کے زریعے آنلایئن ہو کر کہیں بھی جا سکتے ہیں ۔اور تعلیمی سافٹ ویئر جیسے کہ فلم اینکس کا ایکزامز سافٹ ویئر مقامی لوگوں کو بہت آسانی سے  خواندہ بنا سکتا ھے۔دنیا سچ میں ایک بہت چھوٹی سی جگہ ہو گئ ہے۔


ایف اے۔:اگر آپ ایک افغان ہیرو یا ہیرویئن  پر فلم بنانا چاھتے ہوں تو تو آپ کا سب سے پہلا انتخاب کون ہو گا اور کیوں؟



ناجیہ خان ۔: احمد ظاہر میرے نمبر ایک ہیرو ہیں اور میں ایک فلم کے زریعے انکی موسیقی کو واپس زندہ کرنا چاھتی ہوں اور کئ افغان لوگ احمد ظاہر کو افغان میوزک کا بادشاہ کہتے ہیں اور وہ واقعی میں ایک ثقافتی شخصیت ہیں ،انہوں نے زیادہ تر پاپ اور راک میوزک پیش کیا ایلوس پریسلے کے انداز میں ۔اسکے گانوں میں خوبصورت موسیقی اور لیریکس ہوتے ہیں اور اسکی موسیقی مجھ پر بہت اثر انداز ہوتی تھی۔اور تقریبا ہر افغان پر۔:


انکی بے وقت اور المناک موت تمام افغانوں کیلۓ ایک بہت دکھ کی بات تھی۔ میں تو یہاں تک کہوں گی کہ زندگی کے ایک موڑپر احمد ظاہر کی موسیقی نے میری زندگی بچایئ،مجھے ایسا لگا کہ میں ایک گہری کھایئ میں گر رہی ہوں اور انکی موسیقی نے مجھے اوپر اٹھایا اور مجھے مزید جینے کا حوصلہ دیا۔


میں جب آنسو بہا رہی تھی تو انکی موسیقی نے مجھ مسکرانے میں مدد دی اور جب میں پستی  میں تھی تو مجے بلند کرنے میں میری مدد کی۔ آپ کو اسکے کچھ بہترین گانے سننے چاھہیئں یہ ،یہ اور یہ۔۔۔۔۔:




     


لیکن واقعی  میں تمام افغان بھنیں اور بھایئ میرے ہیرو اور ہیرویئنیں ہیں۔اور عام افغانوں کے بارے میں یہ ایک فلم بنانا ایک اعزاز کی بات ہو گی۔انکی زندگی کا ہر روز بہت مشکل اور جدوجہد سے گزرتا ہے،اور زیدہ تر خوش و خرم رھتے ہیں ۔


اور میرے خیال میں یہ عام لوگ فلمی ستاروں اور فنکاروں سے کہیں زیادہ بہادر ہیں جنکو فلموں میں ہیرو کہا جاتا ہے،اداکار اور فنکار حقیقی زندگی کی نقل کرتے ہیں ۔اگر ان لوگوں کو ہیرو تصور کیا جاتا ھے تو اصل اور جو لوگ حقیقت میں یہ کام کرتےہیں  تو وہ ان سے کہیں زیادہ ۔کیا آپ کو ایسا نہیں لگتا



ہم نے سنا ہیکہ آپ ایک کتاب لکھ رھی ہیں براہ مہربانی ہمیں اسکے بارے میں بتایئں ؟


ناجیہ : جی ھاں میں ایک کتاب لکھ رھی ہوں اور ایسے بچوں کے بارے میں ہیں جنکو جنسی ،زہنی اور جسمانی طور پر با اختیار بنانا ہے جنکو ایک بہت چھوٹی عمر میں ھراساں کیا جاتا ھے اور کبھی کبھی دو سال سے بھی کم عمر میں! یہ کتاب حقیقی کہانیوں پر مبنی ہےاور ایسے غیر انسانی فعل کے خلاف لوگوں کو کھڑا ہونیکی ضرورت ہے۔ معاف کیجیۓ گا میں اس بارے  میں آپ کو مزید نھیں بتا سکتی آپ کو اس بارے میں بعد میں معلومات دونگی۔:


میں اس کتاب کے بارے میں بہت پر جوش ہوں اور یہ ایک اہم موضوع  پر ہے۔؛


اگر فلم اینکس اور ویمنز کی کسی خاتون کو اپنی کہانی کے اشتراک میں دلچسپی ھو تو میرے ساتھ اس موضوع پر رابطہ کریں مجھے ان کی کہانیاں سن کر خوشی ھوگی۔ اور اسکیلۓ:najiakhaan@gmail.com پر


رابطہ کریں !میں انسے مکمل ہمدردی اور رازداری کا وعدہ کرتی  ہوں۔:دیکھیں میں خود بھی اس مرحلے سے گزر چکی ہوں جب میں بہت کم عمر تھی۔یہ کہانیاں ضرور بتانی چا ہیئں، ایک ایسے انداز میں یہ بتانا چاھیۓ تا کہ اچھے لوگوں کی تعداد زیادہ ھو جاۓاور وہ اس قسم کے کام کی اطلاع پر کھڑے ھوں اور ان  کی حوصلہ افزایئ ہو،


تمام لوگوں کو ایک دوسرے سے محبت ،احترام اور دیکھ بھال  کرنا سیکھنا چاھیۓ۔ ایسا کرنے  کا طریقہ ایک دوسر ے سے  میل جول بڑھانے سے  ھے۔،جب  میں یہ لوگوں سے کہتی ہوں تو ان کو یہ سب ڈر اور کوف کی وجہ سے نہیں کرنا چاھیۓ۔لوگوں کو یہ ضرور کرنا چاھیۓ کیوں کہ وہ یہ کرنا چاھتے ہیں۔محبت کرنا بہادری ی بات ھے۔بزدل لوگ نفرت کرتے ہیں۔ لوگوں کو یہ یاد رکھنا چاھیۓ اور انہیں ایک اور متحد ہونا چاہیۓ


میں اپنے تمام افغان بہن ،بھایئوں سے التجا کرتی ہوں کہ ایک دوسرے کی قدر اور ایک دوسرے کو سنیں اور ایک دوسرے کے درد کو سمجھیں ۔۔اصل میں یہ پیغام افغان ضرب المظل کے بارے میں سمجنھے میں مدد کر سکتے ہیں ۔میری سب سے پسندیدہ ضرب المثل جو کہ ایسے متاثرین کیلۓ ایک اہم پیغام ہے،


ماهی را هر وقت از آب بگیری، تازه است


اور انگلش میں اسکا ترجمہ ایسا ہیکہ ،:پانی سے جب بھی مچھلی پکڑیں گے تازہ ہی ہو گی:


یہ کہاوت زاتی طور پر میرے لیۓ ایک گہرا معنی رکھتی ھے


اور ہر اس شخص کیلۓ جس نے زندگی میں درد محسوس کیا ھو۔اسکا مطلب یہ ہیکہ ہر ایک کو ایک تازہ اور اچھی زندگی شروع کرنے کے امکانات ملتے ہیں چاھے اس نے بہت زیادہ تکالیف برداشت کی ھوں



ایف اے :ہمیں خوشی ہویئ کہ آپ کے پاس افغان کہاوتیں ہیں اور اپ انکو استعمال کرتی ہیں ناجیہ جان آپ کے اور مشاغل کیا کیا ہیں  ؟


ناجیہ خان:میں افغان کہاوتوں سے محبت کرتی ہوں:اور آپ کا دو لسانی مجموعہ بہت عمدہ ہیں اور اب میں بہت زیادہ پر تجسس ہوں کیوں کہ یہ یورپ کی ۷ زبانوں میں ہے۔


افغان کہاوتوں میں بہت حکمت ہے ۔اور مجھے امید ھے کے مزید لوگ بھی ان کو سیکھیں گے۔یہ بہت کارآمد ہیں ۔جیسا کہ یہ آپ اچھے طریقے سے جانتے ہیں ۔افغانستان میں ہر چیز کیلۓ ایک کہاوت ہے


یہ زندگی  کو بہت عمدہ اور پیارے طریقے سے پیش کرتی ہیں۔افغان کہاوتیں تعلیمی اور فلسفینہ ہیں ۔کچھ کہاوتیں بہت مشہور کابلی کہاوتیں ہیں ان کے گہرے معنی اور کافی مضحکہ خیز ہیں۔


دور نرو که گرگ می خورید ، نزدیک نیا که دیده ندارم


اسکا مطلب  ہیکہ دور مت جاؤ بھیڑیا کھا جایئگا۔ اور نزدیک مت آؤ کیونکہ میں تمکو پسند نہیں کرتا۔


میں  یہ قاریئن کیلۓ چھوڑتاہوں کہ وہ اسکی تشریح کریں۔مجھے یہ زاتی طور پر پسند ہے۔


خارپشتک میگه بخمل بچیم


اور ساہی کا کہنا ہیکہ میرا بیٹا مخمل ہے۔ تم نے دیکھا ہیکہ افغان کپڑا بخمل مخمل کی طرح نرم ہے۔


اس کہاوت کا مطلب یہ ھیکہ تمام والدین کو اپنے بچوں کی صحیح سایئڈ ہی نظر آتی ھےمگر بہت کم کو بُری سایئڈ نظر آتی ھے



ایف اے :مستقبل میں کیا ارادے ہیں ؟


ناجیہ خان:میرے لیۓ یہ جواب دینا بہت مشکل ہے۔کیوں کہ میں کبھی پلان نہیں بناتی۔میں اپنی زندگی کا ہر لمحہ مکمل لطف اندوزی کیساتھ گزارتی ہوں کسکو پتا ھے کہ اس کا وقت کب پورا ہو چکا ہے۔؟


لیکن میں نے اھداف رکھے ہوۓ ہیں میں اپنی کتاب مکمل کرنا اور اسکو پبلش کرنا چاھتی ہوں اور اسکا پیغام ساری دنیا کو دینا چاھتی ہوں ،مجھے یقین ہیکہ ہر کام اسکے مقررہ وقت پر واقع ہے۔اس سب کیلۓ محنت اور مثبت سوچ کی ضرورت ہے جیسا کہ کہتے ہیں کہ ایک چھوٹے بیج سے ایک بڑا درخت بن جاۓ گا۔


ایڈورڈ جان اب میں آپ کو ایک راز کی بات بتاتی ہوں ، اُپ کو یاد ہے کہ میں نے آپ کو بتایا کہ شاہ رخ خان نے کییسے مجھے پشتو نہ سمجھنے کی وجہ سے تنگ کیا۔؟


اور حقیقت میں مجھے پشتو کی چند کہاوتیں آتی ہیں (پشتو متلونہ) اور میں نے سنا ہیکہ آپ اپنی اگلی کتاب کیلۓ ان کو اکٹھا کر رھے ہیں۔تو میتے پاس ایک ہے جو زندگی تک میری رسایئ کو بیان کرتی ہے۔


لعل په ايرو کښې نه پټيږي


  اسکا مطلب ہیکہ ایک جوہر چھایئ میں نہیں چھپ سکتا،،،میرے  لۓ اسکا مطلب یہ ہیکہ زندگی ایک سادہ کینوس ہے اسلۓ اپنی مرضی کے رنگ اس میں بھریں۔لوگوں کو وہ کرنا چاھیۓ جو انکا دل کہتا ہے۔اس سے اس کام کی قدرتی خوبصورتی ظاہر ہو جاتی ہے۔میں ظاہری خوبصورتی کی بات نہیں کر رہی۔ میں روح اور دل کی خوبصورتی کی بات کر رھی ہوں۔


میں اس بارے میں ٹویٹر پر بات کرتی رہوں گی،اور جو کہاوتیں مجھے پسند ہیں ان کاآپ کیساتھ اشتراک کرونگی۔ مجھے امید ہیکہ فلم اینکس کے قاریئن مجھے فالو کریں گے


  پر @NajiaKhaan   


میں ٹویئٹر پر نئ ہوں مجھے امید ہیکہ دوست مجھے برداشت کریں گے اور میری مدد کریں گے جب تک میں یہ سیکھ نہ لوں مجھے آپ سے اور بھی باتیں شیئر کرنی ہیں


 


    


اس سے مجھے کویئ فرق نہیں پڑتا کہ میں دنیا میں کہیں بھی جاؤں دل سے میں افغان ہی رھوں گی۔جب میں ۱۱ سال کی تھی تو ایک فیملی فرینڈ نے مجھے دختر انگلیسی یعنی انگریز کی بچی کہا،میں اُس  پر بہت غصہ ہویئ اور اس سے کویئ فرق نہیں پڑتا کہ میں کہاں ہوں یا کہاں بڑی ہویئ  ہوں ،میں افغانستان میں پیدا ہویئ تھی اور مجھے اپنے مزاری (مزار شریف)ہونے پر فخر ہے۔


افغانستان کیلۓ میرا جذبہ دیکھ کر وہ عورت بہت متعجب ہویئ ،کیونکہ مین بچپن سے وھاں نہیں تھی۔لیکن میرا جواب یہ تھا ،تو کیا ہوا؟افغانستان میری روح میں ہے۔


ایف اے :تشکر ناجیہ جان۔ہم اُپ کے مستقبل کے بارے میں آپ کے اگلے  انٹرویو  سے جانیں گے


ناجیہ خان: خوشی کیساتھ ایڈورڈ جان۔میں اسکی منتظر رہوں گی۔جب تک ہم آیندہ میں بات کریں گے اس  کے لۓ ایک کہاوت دوں ۔           (یار زندہ صحبت باقی) مطلب اگر دوستی رہیگی تو ہم آپس میں باتیں کرتے رھیں گے۔


ایدورڈ زیلم


 


-----



ایڈورڈ زیلم کے افغان شخصیات کیساتھ مزید  انٹرویو جلد ہی ویمنز اینکس پر ہوں گے۔


نۓ انڑرویو سے باخبر رھنے کیلۓبراہ مہربانی یہاں پر کلک کریں سبز سبسکرایئب والے بٹن پر کلک کریں



About the author

syedahmad

My name is Syed Ahmad.I am a free Lancer. I have worked in different fields like {administration,Finance,Accounts,Procurement,Marketing,And HR}.It was my wish to do some thing for women education and women empowerment .Now i am a part of a good team which is working hard for this purpose..

Subscribe 3478
160