وینیکس ڈونولا۔سینیئر رپورٹر اور صحافی کی ڈیجیٹل لیٹریسی اور سوشل میڈیا پر بات چیت

Posted on at

This post is also available in:


وینیکس ڈونولا ریکارڈ ٹی وی کے سابق نامہ نگار اور سینیئر صحافی ہیں۔  ریو ۔مندرجہ زیل میں ایک انٹرویو ھے جسمیں  ترقی پذیر ممالک خاص طور پر افغانستان میں ڈیجیٹل لیٹریسی کے بارے میں بتایا گیا ہے۔


ایف اے : کیا  آپ ہمیں مخٹصر طور پر اپنے اور اپنے پس منظر کے بارے میں بتا سکتے ہیں؟


ڈونولا:میں ایک برازیلین ٹی وی کیلۓ  ۱۹۸۷ سے ایک رپورٹر کیطور پر کام کر رھا ھوں۔ ۱۶ سال تک میں نے گلوبو


ٹی وی کیلۓ کام کیا ھے جنوبی افریقہ کا سب سے بڑا نیٹورک ہے۔اجکل میں ریکارڈ ٹی وی کیلۓ کام کر رھا ھوں ایک صحافی کیطور پر۔برازیل کا دوسرا بڑا ٹی وی سٹیشن ھے ،


 


پچھلے ۲۶ سالوں سے میں نے ا۸ ملکوں کی صورتحال اور واقعات کا احاطہ کر رھا ہوں جسمیں کینیڈا،میکسیکو ،یوکے ،فرانس ،روس،جنوبی افریقہ ،ارجینٹینا ،چلی،ایکواڈور، ھونڈوراس ،باھاماس، اور دو سال تک نیو یارک میں ریکارڈ ٹی وی کا نام نگار رھا ھوں۔


کہانیوں ،تصاویر ،اورمیرے نصوص کیلۓ  آپ میری ویب سایئٹ پر جا یئں ۔


ایف اے : آپ کونسے موضوعات پر لکھتے اور احاطہ کرتے ہیں اور کیوں؟


ڈونولا: میں زیادہ تر خصوصی سیریز پر کام کرتا ہوں ۔اور تمام برازیلین ناظرین کیلۓ مختصر فلمیں پیش کرتا ہوں تمام کہانیاں پرتگالی زبان میں بنایئ جاتی ہین اور پھر برازیلی  کمیونیٹیز کو بھیج دیا جاتاھے،(۱۵۰ ملکوں میں)


میرے پیشے کی شروعات میں روزانہ کے نۓ شوز کیلۓ حقائق کا احاطہ کرتا تھا ۔جیسے ہی مجھے تجربہ اور اعتماد حاصل ہوا۔میں نے سلسلہ  وار  اور دستا ویزی کام شروع کیا تحقیقات اور ماحولیاتی مسائل پر 



ایف اے : ایک پیشہ ور مصنف اور بلاگر کیطور پر آپ افغانستان میں بلا گر طلباء کو کیا مشورہ دیں گے۔؟


ڈونولا : آپ کو حقیقت کے بارے میں حساس اور ھوشیار رہنا چاھیۓ


مقمی ثقافت اور معمول کے کاموں پر اپنے اوپر حاوی مت ہونے دیں ۔


عا لمی سطح پر سوچیں ۔


ایسے شخص کیلۓ لکھو جو آپ کے ملک کے بارے میں نا جانتا ہو۔


اپنی لکھایئ اور اشاعت کیلۓ آپ خود زمہ دار ہوں ۔


اپنی اشعت کے اثرات کو ضائع مت کریں


ایک موضوع کو گلے لگاؤاور اسکے لیۓ کھڑے ہو جاؤ۔


ایف اے:آپ کیا سمجھتے ہیں کہ افغانستان جیسے ترقی پذیر ملک میں سوشل اور ڈیجیٹل میڈیا مواد کی اشاعت کیلۓ کونسا اہم کردار ادا کرسکتے ہیں؟


ڈونولا : سوشل اور ڈیجیٹل میڈیا  اہم ٹولز ہیں اپنی جمہوریت اور اپنی اقدار کا دفاع کرنے کیلۓ۔


مواصلات کے زریعے روزگار کے مواقع برابر پیش ہوتے ہیں ۔سوشل میڈیا نے ہمیں ایک ایسا طریقہ بتایا ہیکہ جسکے زریعے ہم اپنی کہانیاں پیش کرتے ہیں۔ اور ایک ایسا طریقہ جس سے ہم اپنے معاشرے میں موثر طریقے سے تبدیلی لا سکتے ہیں۔


لہروں پر چلیں!


ایف اے : کسطرح ہم ترقی پذیر ممالک میں نوجوانو کو بااختیار بنانے کیلے۷ بلاگز اور مضامین لکھ کر ان کی مدد کر سکتے ہیں؟


ڈونولا :مضامین اور بلاگز کے اہم پلیٹفارم بن چکے ہیں اور نوجوانون کی طرف سے تیار کردہ مواد ان کے حق میں بہت بہتر ہے۔جیسا کہ ہم برازیل میں دیکھ سکتے ہیں۔ کچھ نوجوان لکھاریوں اور بلاگرز کی بہت زیادہ تاثیر ہے اور ان کے کافی سارے سامعین ہیں اور ٹویئٹر ،انسٹا گرام ،فیس بک کے اکاؤنٹ یہ ثابت کرتے ہیں۔



برونا مارکویزین ؛ایک اٹھارہ سالہ اداکارہ ہیں ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا پر طاقت ور ہونیکی ایک مثال ہیں انکےانسٹا گرم کے اکاونٹ کے ۱۔۶ ملین پیروکار ہیں اور آج صبح  یعنی ۲۶ ستمبر کو  ایک تصویر اپ لوڈ کی جسکو ۳۱۸۶۷ لایئکس اور ۵۹۸ تبصرے ملےیہ اسکے پریمی اور مشہور فٹ بال کھلاڑی نیمار کی تھی جو کہ اکیس سال کی عمر میں بڑے اعداد و شمار پیش کرتے ہیں ان کے ۲۔۶ ملین پیروکار ہیں


لہذا آپ کو صرف ایک تصویر ،ایک مختصر متن ایک سکرپٹ یا ایک پوری رومانوی کہانی اپلوڈ کر سکتے ہیں ۔اور اس  سے بڑھ کر یہ کہ آپ اسکو ڈاؤنلوڈ بھی کر سکتے ہیں ۔یہ معلومات کا آزاد بہاؤ کہلاتاہے۔


ایف اے : آپ کا جنوبی ایشیا ء اورافغانستان میں ڈیجیٹل لیٹریسی  کے کردار میں ویمنز اینکس کے بارے میں کیا کھتے ہیں ۔؟


ڈونولا: میں ویمنز اینکس منصوبے کا شروع ہی سے پیروی کر رھا ھوں۔اور  مین واقعی اس  سے متاثر ہوں ۔اور  آپ لوگ بھت تیزی سے اپنی زندگیوں میں اصلاحات لا رھے ہیں اور اپنا اثر و رسوخ بڑھا رھے ہیں۔


کچھ عرصہ پہلے اس  کو ایک خواب کہا جا سکتا تھا۔لیکن ویمنز اینکس ایک ایسا خواب ہے جو سچ ہو رھا ھے۔


آپ نے سوچا اور یہ ہو جاتاھے۔امید ھے آپ ااگے بڑھتے رہینگے۔اور ایک فاصلے سے میں آپ کی حوصلہ افزایئ کرتا رھوں گا۔  



فرشتہ فروغ


میرے بلاگز اور ویمنز اینکس پر سبسکرایئب کریں تا کہ آپ کو میرے آنیوالے بلاگز بھی مل سکیں



About the author

syedahmad

My name is Syed Ahmad.I am a free Lancer. I have worked in different fields like {administration,Finance,Accounts,Procurement,Marketing,And HR}.It was my wish to do some thing for women education and women empowerment .Now i am a part of a good team which is working hard for this purpose..

Subscribe 0
160