افغانستان میں خواتین امپاورمنٹ اور بلڈنگ انٹرنیٹ کلاس روم

Posted on at

This post is also available in:

آج کا دن افغانستان کے لئے بہت عظیم دن ہےخاص کر خواتین کے لئے ۔ٹائم میگزین نے دنیا کے سو ۱۰۰ با اثر لوگوں کا فہرست شائع کیا ہے۔

آج  roya maboobکو اس لسٹ میں دیکھ سکتے ہے۔ میں اُسے کئی سالوں سے جانتا ہو،ہم نے ھرات  یونیورسٹی  کے کمپیوٹر سائنس ڈیپارٹمنٹ  ایک ساتھ پڑھا ہے۔وہ تخلیقی ذہین کے ساتھ ایک تیز لڑکی تھی۔ جب وہ کسی چیز کے بارے سوچھتی تھی، تو پھر وہ اُس کو عملی شکل بھی دیتی تھی۔وہ اسکا فکر نہیں کرتی کہ یہ کتنا وقت لے گا یا یہ کہ جسکو کرنے میں کتنی مشکل پیش آئے گی۔میں نے ہمیشہ اُسکی نہ ختم ہونے والی کوششوں کی تعریف کی ہے خاص طور پر اُسکی افغان لڑکیوں اور خواتین کے لئے گئے کوششوں کو۔

 

وہ نہ صرف میری ایک عظیم کلاس فیلوتھی بلکہ ایک کاروباری ساتھی بھی۔ہم نے ۲۰۱۰ میں افغانی  citadel software companyشروع کی تھی جو کہ افغانستان میں کسی خاتون کے پہلی کمپنی تھی۔

 

اب Roya mehboob new yark based fim  partner Annex کے ساتھ افغانستان میں انٹرنیٹ بیس کلاس روم کھولنا چاہتی ہے۔یہ سیکھنے کا ایک نئا طریقہ ہے افغانی سکول میں جس میں ھرات کے ۴۰۰ سکولوں اور افغانستان کا ۱۶۰۰۰۰ بچے سوشل میڈیا کے زریعے یورپ اور امریکہ کے سکولوں سے منسلک ہوگی۔

 

افغانdevelopment project کی افتتاح سے  Roya Mahboob اور فلم انیکس اس پروجیکٹ کو افغانستان سے south asia اورcentral asia کو بھی extend کریں گے،ایک آن لائن ایجوکیشن سافٹ وئیر Examer کے زریعے جسکی  زریعے سٹوڈنٹ کو سوشل اور ڈیجیٹل نصاب مہیا کریں گے۔یہ ترقی پزیر ممالک میں ایک عظیم طریقہ ہے ایک نئے تعلیمی سسٹم کو شروع کرنے کا جس میں 

سٹوڈنٹ آن لائن سیکھنے سے مزہ لیں گےاور اپنے خیالات کو دنیا کے لوگوں کے ساتھ شئیر بھی کرسکےگے

 

 



About the author

AFSalehi

A F Salehi graduated from Political Science department of International Relation Kateb University Kabul Afghanistan and has about more than 8 years of experience working in UN projects and Other International Organization Currently He is preparing for Master degree in one Swedish University.

Subscribe 200
160