فرشتہ فروغ نیو یارک میں ٹیڈ کے سٹیج پر ڈیجیٹل شہریت اور بغیر سرحدات کے رابطوں پر بات چیت کرتے ہوۓ

Posted on at

This post is also available in:

میں انٹرنیٹ سے جڑی ہوئی تھی۔ بہت بار اتفاقاَ میں نے مختلف موضوعات پر دلچسپ ویڈیوزٹیڈ میں پایئں۔ میں ہمیشہ لوگوں کے ترکیبوں کو پیش کرنے کے طریقہ سے حیران ہوتی تھی اور کس قدر قابل تعریف تھا وہ کام جو وہ کر رہے تھے۔ بعض نقاط پر میں اپنی ذات سے پوچھتی تھی ۔کیا یہ ممکن ہوگا میری زندگی میں میرے لیئے کہ میں کبھی ٹیڈ کے سٹیج پر ہوں؟

یہ دنیا پریشان ہونے کیلۓ بہت چھوٹی ہے۔آٹھ اکتوبر دو ہزار تیرہ کو میری خواہش پوری ہوئی اور مجھے نیویارک سٹی میں جو کے پب میں ٹیڈ میں بولنے کا موقع ملا

 

افغانستان، بہت سے مختلف چہروں کے تاثرات کی آپ لوگوں سے توقع رکھ سکتے ہیں جب کبھی آپ کہتے ہیں کہ آپ اس ملک سے ہیں۔ تو میرا یہ تجربہ ہے کہ ان کے ذہنوں میں جو پہلی تصویر آتی ہے وہ جنگ، تباہی، بم پھٹنا، خواتین کو گھروں تک رکھنا، ناخواندگی اور بہت سی اور تصاویر ہیں جو کہ ناخوشگوار ہیں۔ لیکن وہ دن جس دن ٹیڈمیں جانے کے لیئے میرا انتخاب ہوا۔ میں نے اپنی ذات کو بتایا کہ افغانستان ایک بہت حیران کن جگہ ہے، جسکی ایک عظیم تاریخ ہے اور بہت سی مثبت اور متاثر کرنے والی کہانیاں ہیں جو کہ اس کے متعلق کبھی کسی نے نہیں سنیں، اور میں نہیں جانتی کہ اس اچھی خبر کو نہ بتانے کے لیئے کس کو الزام دیا جائے۔

لہذٰ ا میں نے یہ فیصلہ کیا کہ اپنی زندگی کی کہانی کو افغان لڑکی کے طور پر بیان کیا جائے اورافغانستان کا دوسرارخ پیش کیا جائے۔میں نے اایران کی طرف سے اپنی زندگی کے پہلے سترہ سال مہاجر کے طور پر بغیر کسی رسمی شناخت کے گزارے ایک ملک جہاں میں پیدا ہوئی اور رہی یا افغانستان ایک ملک جہاں سے میرے آباء؍نسب کا تعلق تھالیکن جنگ کی وجہ سے میں کبھی نہیں جاسکی تھی
۔ 2001 میں طالبان کے خاتمے کے بعد میں ہرات ،افغانستان گئی 2002 میں عبوری حکومت کے دور میں۔ ہرات ایک خوبصورت شہر ہے ایران کی سرحد کے نزدیک اور خوبصورت پہاڑوں میں گھرا ہوا ہے

میں مختلف جگہوں پر تھی: ایران ،افغانستان، جرمنی، اٹلی،پرتگال ،امریکہ میرے لیئے اور اتار چڑھاؤجنکا میں نے زندگی میں سامنا کیانہ صرف افغان لڑکی کی حیثیت سے حتٰی کہ ذاتی حیثیت سے ۔میں دو چیزوں کی تنقیدی قدر سمجھتی ہوں۔
تعلیم جمع سماجی اور ڈیجیٹل میڈیابرابر ہے ڈیجیٹل خواندگی کے، رابطہ سرحدوں اور ڈیجیٹل شہریت کے بغیر

یہ بنیادی الفاظہین جو کہ مجھے فرشتہ فروغ کے طور پر پیش کرتے ہیں ۔افغانستان کے سکولوں میں وومن اینکس فاؤنڈیشن کی طرف سے کمپیوٹر میڈیا لیب کی تعمیر میرے لیئے ایک قیمتی اور خوشگوار تجربہ تھا ۔ میں نے متاثر کن لوگوں کے ساتھ کام کیا جن کے تعاون اور رائے کے بغیر یہ نا ممکن ہو سکتا تھا۔ حتیٰ کہ میرا خاندان افغانستان میں ہے لیکن میں شکر گذار ہوں کہ انہوں نے مجھے میرا اپنا خاندان ہونے کا ہی تاثر دیا۔

 

اگر میں افغان طلباء خاص طور پر لڑکیوں کو سکولوں میں نئی ٹیکنالوجی کے ذریعے مدد کرنے کے خیال کا خلاصہ کروں تو اس کے اہم نکات درج ذیل ہیں۔
ڈیجیٹل خواندگی۔ افغان طلباء کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ ڈیجیٹل میڈیا کو استعمال کرتے ہوئے معلومات بنائیں اور اسے تبدیل کریں۔
مستحکم تعلیم ۔ افغانستان کے سکولوں میں ایک مستحکم تعلیم کا ڈھانچہ تیار کرنا
ڈیجیٹل کہانیاں سنانا۔ افغان طلباء کو موقع فراہم کرنا کہ وہ سماجی نیٹ ورکنگ پلیٹ فارمز کو استعمال کرتے ہوئے ایک دوسرے سے اپنی کہانیاں بیان کرنا
ڈیجیٹل شہریت۔ اپنا ڈیجیٹل ملک بنانا’’ کوئی سیاست نہیں صرف انٹرنیٹ‘‘
سرحدوں کے بغیر رابطہ۔ ایک سیکنڈ میں دنیا میں پاسپورٹ کی ضرورت کے بغیر کہیں بھی جانا
یہ سفر شروع ہو چکا ہے اور ہم آگے بہت سے طلباء کو ٹیڈ کی سٹیج پر دیکھ رہے ہیں، اپنی دلچسپ کہانیوں کے متعلق باتیں کرتے ہوئے جیسا کہ ان میں سے ہم پہلے ہی کچھ حاصل کر چکے ہیں

 

فرشتہ فروغ

وومن اینکس اور میرے بلاگز کو سبسکرایئب کریں تا کہ آپ سے میرے بلاگ رہ نہ جایئں۔



About the author

syedahmad

My name is Syed Ahmad.I am a free Lancer. I have worked in different fields like {administration,Finance,Accounts,Procurement,Marketing,And HR}.It was my wish to do some thing for women education and women empowerment .Now i am a part of a good team which is working hard for this purpose..

Subscribe 0
160