بے خوابی اور اس کا علاج

Posted on at


 

بے خوابی جدید تہذیب کے تحائف میں سے ایک تحفہ ہے۔ بھاگ دوڑ کی زندگی، اعصابی دباؤ، ذہنی کھچاؤ، پریشانیاں، مسائل، خوف، الجھن، غم و غصہ۔ الغرض لا تعداد اسباب شمار کۓ جا سکتے ہیں جو خوابی کا سبب بن سکتے ہیں۔ نیند قدرت کا ایک پراسرار عمل ہے۔

 

 

 

 دنیا بھر میں ہونے والی تحقیقات سے ابھی تک جو کچھ معلوم ہو سکا ہے وہ یہ ہے کہ نیند ہمارے لۓ اس قدر ضروری ہے جتنی ہوا اور غزا۔ تجربات سے معلوم ہوا ہے کہ جو لوگ کئی دن کئی راتیں جاگتے رہیں ہیں آخر کار شدید ذہنی اختلال کا شکار ہو گۓ  اور ان کو معمول پر آنے میں کئی دن لگے۔ یہاں یہ امر بھی دلچسپی کا حال ہے کہ آپ اپنی نیند کس وجہ سے پوری نہ کر سکے۔

 

 

 

 کوئی بیماری جو سانس سے متعلق ہو جیسے نزلہ، زکام، دمہ، غیر آرام دہ ماحول، ناپسندیدہ افراد کی موجودگی، شریک حیات سے ناراضگی، خواتین کے مخصوص ایام کی تکلیف، الغرض اس سلسلے میں جو بھی بنیادی امر ہو، اس کو دور کۓ بغیر اچھی نیند نہیں آسکتی۔  بعض افراد خواب آور ادویات کا استعمال کرتے ہیں لیکن ان کا استعمال معالج کے مشورے اور رہنمائی کے بغیر قطعی نہیں کرنا چاہیۓ۔

 

 

 

 اچھی نیند کیلۓ خواب گاہ میں موسم کی مناسبت سے بستر استعمال کریں۔ نیم گرم پانی سے غسل کر لینا بھی ایک بہت موزوں اور کارآمد طریقہ ہے۔ خواب گاہ میں تازہ ہوا کی آمدو رفت کا مناسب اہتمام کیا جاۓ اور سونے سے پہلے چاۓ، کافی، اور اس قسم کی اشیاء قطعی استعمال نہ کی جائیں۔ اکثر لوگ سونے سے پہلے دودھ پیتے ہیں۔ جو بالکل غلط ہے۔ سونے سے کم از کم دو گھنٹے پہلے کھانا، پینا چاہیے۔ تاکہ سونے تک سب ہضم ہو جاۓ۔ اور آپ پر سکون نیند سے لطف اندوز ہو سکیں۔



About the author

160