سرمایہ سر پرستی کے کرشمے

Posted on at


 


دیکھا جائے تو زندگی کے ہر شعبے میں انقلابی اصطلاحات کی ضرورت ہے اگر چہ اس دور میں آم آدمی ان اصطلاحات کو ایک فریب ہی سمجھا جاتا ہے لیکن موجودہ سرمایہ دارانہ نظام میں یہ وقتکی ضرورت بھی ہے اور تقاضا بھی۔ جس طرح غریبی دور کرنے کے افسانے سنائے جاتے ہیں سماجی برائیوں کی خاتمے کی بات کی جاتی ہے اور سرمایہ دارانہ ںظام کے استحکام کے لیے غریبی دور کرنے کے نام پر دنیا کے غریب ممالک کو زبردستی سرمایہ دارانہ نظام کے سرکل میں داخل کیا جائے گا۔



سرمایہ دارانہ نظام انسانوں کو ایسے حال پر رکھتا ہے کہ دیکھنے میں وہ معزز انسان اںر آئے لیکن اندر سے کھوکھلا ہو چنانچہ اس سلسلے میں وقتا فوقتا غریبی دور کرنے کے اعلانات بھی ہوتے رہتے ہیں لیکن عملی اقدامات سے عموما گریز کیا جاتا ہے اور یہ اعلانات اپنی جگہ صحیح ہیں کہ غربت کی وجہ سے انسان کے جسم میں خون ہی نہ رہا تو اسے چوسا کس طرح جائےگا؟ لہذا ظاہری طور پر غریبی دور کرنے کے اعلانات اور ہمارے سیاسی لیڈروں اور حکومتی اعلانات وغیرہ سب عالمی سرمایہ دارانہ نظام کا حصہ معلوم ہوتا ہے اور ایسی پالیسیاں بنائی جاتی ہیں کہ عام آدمی اپنی معاشی ضروریات اور اخراجات پورا کرنے کے لیے جانوروں کی طرح محنت کرتا ہے  اور وہ خوشحالی کی چمک حاصل کرنے کےلیے اپنی زندگی کے انتہائی قیمتی لمحات کچھ ایسے طرقے سے ضائع کرتا رہے کہ وہ سوچنے اور شعور حاصل کرنے کے لمحات کو بھی اپنے پاس نہیں پاتا ہے جس کے نتیجے میں میا اور بیوی کے درمیان بھی خلیج کا واقعہ ہونا کوئی انہونی نہیں ہے۔



کیاوت ہے کہ زندگی زندہ دلی کا نام ہے، اس کہاوت کی صداقت کے لحاظ سے انکار بھی نہیں کیا جا سکتا ہے کیونکہ یہ حقیقت ہے کہ زندگی ایک بار ملتی ہے اسلیے اس کا لطف اٹھانا چاہیے اور کامیاب لوگ بھی وہ ہوتے ہیں جو بھرپور انداز میں زندگی گزارنے کا ہنر بھی جانتے ہیں جیسے ہمارے لیڈر اور جو سیاست میں ہیں جن کے پاس دولت بھی ہوتی ہے اور شہرت بھی، زندگی کی حقیقت ان میں بھرپور نظر آتی ہے اور یہ ذہین اور فطین بھی ہوتے ہیں ان کا دماغ کمپیوٹر کی طرح کام کرتا ہے اور الیکشن کے دنوں میں ان کو عوام کی بھیڑ اچھی لگتی ہے یہ موقع شناس ہوتے ہیں اور اپنی زبان و بیان سے عام آدمی کو اپنا گریدہ بنا لیتے ہیں اور معاملہ فیمی اور روشن دماغ کی وجہ سے مشہور ہوتے ہیں جبکہ عام آدمی بے چارہ تو ہمیشہ دھکے اور سرمیہ داروں کے مکے کھاتا ہے اور ووٹ کا حق استعمال کرتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر سرمایہ داروں کی کال پر سڑکوں پر نکلتے ہیں اوراس نشے میں بعض اوقات خود کش بمبار کا نشانہ بنکر ان کے پر خچے بھی اٹھ جاتے ہیں۔



سرمایہ  دار جیسے کمر شلزم کا نام دیا جاتا ہے اس نے عام آدمی کے لیے خوش مزاجی اور زندہ دلی کو معدوم جنس بنا دیا ہے، بس اب تو نفسا نفسی ہے اور افرا تفری ہے اور ہنگامہ خیزی ہے اور تیز رفتار زندگی نے اکثریت کےلیے خوش دلی نایاب اور کامیاب بنا دیا ہے اور سرمیہ دار کی قسمت میں کامیابی ہی کامیابی ہے۔ 




About the author

sss-khan

my name is sss khan

Subscribe 0
160