پاکستانی سینیما کا عروج اور زوال

Posted on at


ایک وقت تھا جب پاکستانی سینیما اپنے عروج پر تھا اور ایسا وقت جب لوگ سٹوڈیو میں جانے کے لیے اور شوٹنگ دیکھنے کے لیے بڑی بڑی سفارشوں کاسہارا لیتے تھے۔لوگ ہماری فلمیں پوری دنیا میں دیکھتے تھے اور فلموں کی سلور، گولڈن اور پلاٹینم جبلیاں مناتے تھے۔

تاہم، اب وہ وقت نہیں رہا۔  واپس فرسٹ کلاس فلموں کی پیداوار اور سینیما جانے والوں کا تھیٹر میں جمع ہو جانا ایک اچھی یاد لگتا ہے۔ 1960 اور 1970 میں ابھرنے والی انڈسٹری اب بمشکل سانس لے رہی ہے۔ بہت سے سینیماز بند ہو گئے ہیں اور باقی جو رہ گئے ہیں وہ بہت بھاری ٹیکسز ادا کر رہے ہیں۔ اتنی ان کی آمدنی نہیں ہوتی جتنا ان سے ٹیکس لیا جاتا ہے۔ کچھ کو تو کمرشل فنکشنز کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

پورے ملک میں اسکولوں سے نوجوان فلم ساز ابھر رہے ہیں۔

"ہمارے پاس نئے فلمسازی کے اسکولوں کی بنیاد رکھی جا رہی ہے اور یہ سب سے زیادہ مثبت علامت ہے"۔ شہید زوالفقار علی بھٹو انسٹیٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ، نیشنل کالج آف آرٹس، اقراء یونیورسٹی اور کراچی یونیورسٹی اب یہ سب ادارے فلمسازی اور پروڈکشن کی ڈگری پیش کر رہے ہیں۔

فلم انڈسٹری کو بحالی کی سخت ضرورت ہے جو کہ صرف اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب حکومت ہماری مدد کرے گی اور اس سلسلے میں سنجیدگی کا اظہار کرے گی۔ 



About the author

shakirjan

i am shakir.i have done BS (HONORS) in chemistry from pakistan.i know english,pashto and urdu.I love to write blogs.

Subscribe 0
160