رونا

Posted on at


لفظ رونا چار حروف کا مرکب ہے اور انسانی زندگی کو چاروں طرف سے گھیرے ہوۓ ہے۔ یوں لگتا ہے کہ جیسے اکثر انسان صرف رونے کے لیئے ہی پیدا ہوۓ ہیں۔جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو روتا ہے،جب تک وہ باتیں نہیں کر سکتا رونے کو ذریعہ اظہار بناتا ہے۔جب باتیں کرنے لگتا ہے تب بھی اپنی بات منوانے کے لیئے روتا ہے۔ اس دور میں ہر شخص رو رہا ہے

۔شوہر،بیوی کی اور بیوی،شوہر کی ذیادتیوں پر روتی ہے۔مریض بے چارے ڈاکٹروں کی فیس اور ادویات کی قیمتوں پر دل کھول کر روتے ہیں۔مسافر آۓ روز کرایوں میں اضافے اور ڈرایئور،کنڈیکٹر کی زیادتیوں پر روتے نظر آتے ہیں۔تھانے اور کچہریوں میں غریبوں کو انصاف نہ ملنے پر اکثر روتے دیکھا گیا ہے۔دودھ فروش اتنی ملاوٹ کرتے ہیں کہ بچے تو بچے بڑے بھی رو پڑتے ہیں۔

موجودہ دور میں ۱۸ کروڑ عوام مہنگائی،بے روزگاری اور لوڈشیڈنگ پر رو رہے ہیں۔ہمارے سیاسی لیڈروں کو ہر دم قوم کا غم کھاۓ جاتا ہے۔وہ سارا سارا دن قوم کے غم میں روتے ہیں۔ ان کو چپ کرانے کے لیئے اقتدار کی کرسی دی جاتی ہے۔کچھ عرصہ بعد جب اقتدار سے اتارے جاتے ہیں۔قوم ان کے کارناموں پر خوب آنسو بہاتی ہے۔ جن والدین کی اولادیں ہیروئن کی عادی ہو جاتی ہیں، تو نہ صرف ان کی شخصیت اس سے متاثر ہوتی ہے

بلکہ ان کا پورا خاندان بھی اس کا شکار ہو جاتاہے۔ جب میں تنہا ہوتا ہوں،کوئی میرے غم کو اپنا نہیں سمجھتا تو میری آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں۔مجھے تو خیر گردش حالات پر رونا آیاتمہں کس بات پر رونا آیا



About the author

hadilove

i am syed hidayatullah.i have done msc in mathematics from pakistan.And now i am a bloger at filmannex.and feeling great

Subscribe 0
160