اللہ کی چاہت کو ( علم ) کہتے ہیں

Posted on at


 

فن وہ ہے ،جو مرنے پر فنا ہو جائے اور علم وہ ہے جس کے بارے میں مرنے کے بعد سوال قیامت میں ہوگا علم اسے کہتے ہیں کہ جس کا تعلق قبر کے تین سوالات سے ہے علم اور ذکر کا خلاصہ ہے اللہ کی اور اسکے رسول کی اطاعت کی جائے یہی اصل میں علم ہے اور علم وہ ہے کہ ہم اللہ کے بتائے ہوئے راستے پر چلیں اور اسکے بغیر جو ہم کریں وہ ہماری ضرورت اور فن ہے جسکا آخرت سے کوئی تعلق ہے

علم کی بھی دو قسمیں ہے جو علم ہم حاصل کررہے ہیں وہ علم دین ہے اور حدیث میں بھی آتا ہے کہ علم دو قسم کا ہے ایک زبان کا علم ہے اور دوسرا علم دل کا ہے دل کا علم وہ علمہے جو علم اطاعت پیدا کرتا ہے یہ علم انسان میں تقوی پیدا کرتا ہے آجکل ہم اسکو عالم کہتے ہین جو دین کے بارے میں تھوڑی بہت معلومات رکھتا ہے

لیکن اصل میں وہ عالم ہے جو اللہ سے سب سے زیادہ ڈرنے والا ہو اور اللہ کو سبسے زیادہ جاننے والا ہو تقوی دار ہو علم تو تقوی ہی کا نام ہے صحابہ کرام ؓ کے اقوال ہیں وہ( جاہل جو علم نہ رکھے اور وہ عالم جو عمل نہ کرے دونوں برابر ہیں دین صرف دین کی معلومات کو ہی نہیں کہتے بلکہ دین تو زندگی کے تمام شعبوں میں چوبیس گھنٹے اللہ تعالی کے حکموں کا پابند ہو کر چلنے کا نام ہے دین ہم کو ہر برائی سے روکتا ہے اور نیک کام کرنے کی دعوت دیتا ہے اور یہ تب ہی ممکن ہے کہ جب ہم صراط مستقیم پر چلیں گے ۔

    



About the author

sss-khan

my name is sss khan

Subscribe 0
160