اردو ہے جس کا نام

Posted on at


اردو پاکستان کی قومی زبان ہے- یہ مختلف صوبوں، خطوں اور علاقوں کے درمیان رابطے کا کام کرتی ہے- یہ نا آشناؤں کے درمیان آشنائی کے روابط مستحکم کرتی ہے- یہی وہ زبان ہے جو دلوں کے درمیان محبت کے جذبات ابھارتی ہے اور ٹوٹے ہوئے دلوں کو جوڑتی اور بکھرے دانوں کو یکجا کرتی ہے- اسی لیے اسے قومی زبان ہونے کا شرف حاصل ہے-حق یہ ہے کہ قومی زبان کسی ملک کی عزت و توقیر کا باعث ہوتی ہے اور زندہ قومیں اسے نفرت کی نژر سے نہیں دیکھا کرتی ہیں بلکہ اس پر فخروناز کرتی ہیں-


عربی  اور فارسی کے بعد اردو ایک ایسی زبان ہے جس میں سب سے ذیادہ اسلامی روح موجود ہے-اسی بنیاد پر بھارت اردو کی مخالفت کرتا اور اسے مسلمانوں کی زبان قرار دیتاہے حالانکہ یہ مختلف قومون کے میل جول کا ایک فطری نتیجہ ہے- یہ مختلف زبانوں کی  ایک ملی جلی شکل ہے یا دو دوسرے لفظوں مین ایک ترقی یافتہ صورت ہے


برصغیر پاکوہند کی جدوجہد میں اردو ہی ایک رابطے کی زبان رہی ہے۔سیاست دان اسی زبان کو زریعہ اظہار بناتے رہے مقرنین اسی زبان سے لوگوں کے دلوں کوگرماتے اور جزبات بھڑکاتے رہے، مفسرین اسی زبان میں قرآن پاک کی تفسیر لکھتے رہے۔ادبا اور شعرا اسی زبان کے زریعے غلام دلوں میں آزادی کا ولولہ پیدا کرتے رہے۔ گاندھی سے لے کر نہرو تک ،ابوالکلام سے لے کر مولانا شبیر احمد عثمانی تک سبھی نے اسی زبان کو اپنایا۔قائداعظم کی بصیرت نے اسی لیے  اردو کو پاکستان کی قومی زبان قراردیا کیونکہ وہ خوب سمجھتے تھے کہ جب تک کسی قوم کا الگ تشخص نہ ہو۔اس وقت تک ان کے کیالات میں انفرادیت نہیں آیا کرتی اور نہ اس کی سوچ قومی سطع پر نکھر سکتی ہے۔


بطور ایک آزاد قوم ہمیں اپنی قومی زبان اردو کو ذریعہ تعلیم بنانا ہے اور دفتری زبان بھی۔ اردو اسلامی فکرونظر کی حامل ہے۔ یہ ہماری تہذیب اور ثقافت کی عکاس ہے۔آج کل اس پر انگریزی زبان مسلط ہے اس غیر ملکی اور غیر اسلامی زبان نے ہمارے فکری اور تہذیبی سانچے کو توڑ پھوڑ ڈالا ہے۔ طلبہ نظریاتی اعتبار سے الجھ گئے ہیں۔حقیقت یہی ہے کہ جس قوم نے بھی غیروں کی روایات اور تہذیبوں کو اپنایا  وہ ٹوٹ پھوٹ گئی اور غیروں ہی کی محکوم  ہو کر رہ گئی۔انگریزی بین الاقوامی  زبان ہے اسے وہی پڑھیں جو اس کو خواہشمند ہیں ۔


پاکستان میں ارباب اختیار اردو کی اہمیت کو سمجھنے لگ گئے ہیں اور اس کے بارے میں مختلف اقدامات بھی ہو رہے ہیں مگر انتہائی سستی اور بے دلی کے ساتھ۔ہم اس قدراحساس کمتری میںمبتلا ہیں کہ قومی زبان کی طرف طبیعت آمادہ نہیں ہوتی ۔ورنہ کیا ہے جو ہماری زبان میں موجود نہیں ہے،الفاظ وترکیب کا سرمایہ بھی ہے،اصطلاحات و اعلامات کی فروانی بھی ہے اور اظہار بیان کی شگفتگی بھی۔اردو کو اس کا جائز مقام دینے کے لیے ایک جرات مندانہ فیصلے کی ضرورت ہے اور جرات مندانہ اقدام ہی قوموں کو درودیوار کا رنگ و روغن بدلا ہے۔ جرات غیرت سے پیدا ہوتی ہے اور غیرت کے لیے دل میں قومی وقار کا کماحقہ ، احساس ضروری ہے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ احساس یقین کے سانچے میں ڈھل جائے ۔اگر قومی وقار اور ملی تشخص کا احساس یقین بن کر ہمارے دلوں کا حصہ نی بنا تو اردو قومی زبان ہوتے ہوئے بھی پسماندہ اور یتیم رہے گی,  



About the author

shahzad-ahmed-6415

I am a student of Bsc Agricultural scinece .I am from Pakistan. I belong to Haripur.

Subscribe 0
160