قرار دادپاکستان کی حقیقت اور مینارے پاکستان

Posted on at


مارچ ١٩٤٠-مسلم لیگ ،پاکستان اور برے صغیر کے مسلمانوں کا سنہری دن اس روز برے صغیر کے کونے کونے سے ایک لاکھ سے بی زیادہ مسلمانوں نے اپنے قائد محمد علی جناح کی قیادت میں مسلم لیگ کے ٣٤ویں سالانہ اجلاس کے موقع پر مسلمانوں کی آزادی اور الگ وطن کے قیام کے لئے قراداد منظور کی -جسے قرارداد لاہور یہ قرارداد پاکستان کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ،جو ١٩٤١میں نہ صرف مسلم لیگ کے آئین کا حصہ بنی بلکہ اس کی بنیاد پر ٧ سال بعد ١٤ اگست ١٩٤٧کو پاکستان مہارزے وجود میں آیا -                                     

                                                                                                                                                 

ال انڈیا مسلم لیگ کا ٣٤وان سالانہ اجلاس ٢٢سے ٢٤مارچ ١٩٤٢کو منٹو پارک میں منعقد ہوا -جسے آج کل اقبال پارک کہا جاتا ہے ،قائد عظم محمد علی جناح نے اجلاس کی صدارت کی جس میں نواب سر شاہ نواز ممدوٹ نے استقبالیہ خطبہ دیا ،اور اے فضل الحق نے تاریخی ساز قرارداد لاہور پیش کی ،اجلاس سے خطاب کرتے ہوے قائدے آزم نے کہا ،ہندوستان کا مسلہ فرقہ وارانہ نوعیت کا نہیں بلکہ بینالاقوامی ہے ،اور اس کو اسی لحاظ سے کرنا چاہیی -جب تک اس کی اساسی اور بنیادی حقیقت کو پیش ے نظر نہیں رکھا جائیگا ،جو دستور بی بنایا جائیگا وو چل نہیں سکیگا اور نہ صرف مسلمانوں بلکہ ہندوں اور انگریزوں کے لئے بی تباہ کن اور مضر ثابت ہوگا -؛                                            

                                              

قائدے عازم نے کہا -لفظ قوم کی ہر تعریف سے مسلمان ایک علیدہ قوم ہیں ،اور اس لہٰذ سے انکا اپنا وطن اپنا علاقہ اور اپنی مملقت ہونی چایئے -تاکہ آزاد اور خودمختار قوم کی حیثیت سے اپنے ہمسایوں کے ساتھ امن اور ہم آہنگی کے ساتھ زندگی بسر کریں ،اور اپنی روحانی ،ثقافتی ،مہاشی ،مہاشرتی اور سیاسی زندگی اس طریق پر زیادہ سے زیادہ ترقی دیں جو ہمارے نزدیک بہترین ہو اور ہمارے نصب العین کے ہم آہنگ ہو ،    

 

قیام پاکستان کے ١٣ سال بعد قرارداد لاہور کی یاد میں منٹو پارک میں ایک یاد گار بنانے کا فیصلہ کیا گیا -مغربی پاکستان کے گوورنر اختر حسین نے آزادی کی اس یادگار ،مینارے پاکستان کی سنگ بنیاد ٢٣مارچ ١٩٦٠کو ایک سادہ سی تقریب میں ٹھیک اسی جگہ جہاں ١٩٤٠میں مسلمانوں کے لئے علیدہ وطن کا مطالبہ کیا گیا تھا ،                                                                                                          

                                 

منار کی تعمیر کا کام پہلے دو سالوں میں فنڈز کی کمی کی وجہ سے کافی سست رفتاری کا شکار رہا تاہم ،١٩٦٥میں صوبائی حکومت سینما اور ریس ٹیکس بھرا کر یہ مسلہ بی حل کر دیا ،اور ٢٢مارچ ١٩٦٨کو مینار کی تعمیر مکمل ہوئی -جس پر قل ٥لکھ کی لاگت آیی ،مینار کے ڈیزائن کا کام ایک ترک مراعات خان کو سونپا گیا ،جس نے آزادی کی اس ٦٢میٹر بلند یادگار کو زمین سے ٢ میٹر انچے چبوترے پر ڈیزائن کیا ،مینار کے چاروں اطراف پھول کی کھلی پتوں جیسے ٩میٹر انچے ١٠سٹر رکچر مینار کے گرد سرخ اور سبز پتھر سے بناے گئے ٢چند نما تالاب ٥کونی ستارے سے مشابہ چبوترا اور چاروں اطراف پھیلے سبز باغیچے مینار کو چار چاند لگاتے ہیں ،مینار کا قطر تریباً سادھے ٩٧میٹر ہے ،جس کے درمیان مینار پر چرنے کے لئے سیڑھیاں اور لفٹ نصب کی گی ہیں                                     

                             

مینار کی تعمیر میں کنکریٹ ،اور سنگے مر مر کا استمال کیا گیا ہے ،مینار کا اگلا حصہ بادشاہی مسجد کی طرف ہے ،جس کے اطراف چار چبوترے بناے گئے ہیں،-پہلا چبوترا بغیر تراشے سنگ ٹیکس لا سے بنایا گیا ہے ،جو آزادی کی جدوجہد کو ظاہر کرتا ہے ،دوسرا چبوترا ہتھوڑی سے تراشا ناہموار پتھر سے اور تیسرا ہموار پتھر سے جبکہ چوتھا پولشد سفید پتھر سے بنایا گیا ہے جو تحریک پاکستان کی کامیابی کی علامت ہے ،مینار کے نیچے محرابی سٹرکچر میں سفید سنگ مر مر پر قرارداد لاہور اور قرارداد دہلی کی عبارت اردو انگریزی اور بنگالی زبان میں موجود ہے -     

اس کے علاوہ اللہ کے ٩٩صفاتی نام اور عربی کیلی گرافی ،علامہ اقبال کے چند اشعار اور پاکستان کا قومی ترانہ بی سفید سنگ مر مر پر کندہ کیا گیا ہے ،آج سے ٦٨برس قبل اسی جگہ قائدے ازم نے برے صغیر کے مسلمانوں کے لئے ایک علیدہ وطن کا تصور پیش کیا تھا -جس کے نتیجہ میں ہمارا پیارا وطن پاکستان مہرزے وجود میں آیا  آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سب کو مل کر اس سر زمین کو قائد کا پاکستان بنانے کے لئے مل کر بھرپور کوشش کرنی چاہے -

 



About the author

abid-khan

I am Abid Khan. I am currently studying at 11th Grade and I love to make short movies and write blogs. Subscribe me to see more from me.

Subscribe 8680
160