بچوں کے بگڑنے کی وجوہات اور اساتذہ

Posted on at


 

ہمارے معاشرے میں بچے ننے پھولوں کی طرح ہوتے ہیں ان کو ابتدائی عمر میں اگر اچھی عادات و اخلاق کا پابند بنانے کی کوشش نہ کی جائے تو بچے خود ہی اپنے تجربات کر کے یا دوسروں کی تقلید کر کے کچھ نہ کچھ عادات تو بنا ہی لیں گے اور ایسی صورت میں سب سے زیادہ خطرہ اس بات کا ہوتا ہے کہ وہ پسندیدہ عادات کی عدم موجودگی میں ناپسندیدہ اور غیر اخلاقی عادات اپنا لیتے ہیں جو انکی بھولی بھالی شخصیت کو سب کی نظروں میں ناپسندیدہ بنا دیتی ہے اور بعد میں انکی اصلاح کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے بچوں کے بگڑنے کی کچھ وجوہات درجہ ذیل ہے جب تک ان وجوہات کے اسباب کی کا سد باب نہ کیا جائے تو بچوں کا سدھرنا ناممکن ہے

۔ بچے اپنے اردگرد کے ماحول سے اثر لیتے ہیں وہ لوگوں کو جو کچھ کرتا دیکھتے ہیں وہی کرنے کی کوشش کرتے ہیں اس لیے اگر گھر کا ماحول اچھا نہ ہوگا تو اس ماحول کا بچے پرضور اثر ہوگا

۔ اکثر گھروں میں والدین کی یا گھر میں دوسرے افراد کی باہمی تعلقات کی ناچاقی ہوتی ہے روز روز کی اس تو تو میں میں کی وجہ سے بھی بچوں پر برا ااثر پڑتا ہے اسلیے اکثر بچے مختلف قسم کے اخلاقی اور ذہنی امراض میں مبتلاہوجاتے ہیں

۔ بچوں کے ساتھ ناروا سلوک چاہے وہ والدین کی طرف سے ہو یا بہن بھایئوں یا اساتذہ کی طرف سے ہو یہ بھی بچوں کے بگاڑ کی وجہ بنتی ہے مثلا تمسخر ، تحقیر نفرت یا پھر بار بار کی ڈانٹ وغیرہ

۔ بچے اپنی صحبت سے بہت اثر لیتے ہیں اور اکثر بچے برے اور بگڑے ہوئے بچوں کی صحبت سے اثر لے کر بگڑجاتے ہیں

۔عموما بچے زیادہ تر باتیں کھیل میں اپنے ہم جولیوں سے سیکھتے ہیں اس لیے اپنے ہم عمر اور اچھے ہم جولیوں کی محرومی سے بھی بچے بگڑ جاتے ہیں

۔ ہمارے معاشرہ میں دن بدن کی بڑھتی ہوئی بے حیائی اور فحاشی کی وجہ ہی بچوں کی بڑی تعداد غیر اخلاقی عادات کا موجب بنتی ہے

بچوں کی اچھی تربیت اساتذہ اور والدین کی زمھداری ہے اساتذہ کو سکول میں ہر قسم کے بچوں سے واسطہ پڑتا ہے تو سکول کی عمر ہی وہ عمر ہے جس میں بچہ سنور بھی سکتا ہے اور بگڑ بھی استاس کی تھوڑی سی توجہ سے بچے کی زندگی روشن بھی ہوسکتی ہے اور غفلت  سے تاریک بھی اس لیے اساتذہ کی زمھداری ہے کہ وہ بچوں پر اچھی توجہ دیں اور استاد کو بچوں کے سامنے بطور رول ماڈل نہایت اعلی اور اچھے اوصاف کا مظاہرہ کرنا چاہیے تو بچے ان کو دیکھ کر انکے اعلی اوصاف ہی اپنائیں گے۔   



About the author

sss-khan

my name is sss khan

Subscribe 1674
160