میاں بیوی کے جھگڑے اور ناراضگی کو طول نہ دیں،

Posted on at


میں بیوی کے جھگڑوں میں چوٹی موتی باتوں پر نوک جھوک ہو ہی جاتی ہے ،اور اگر یہ نوک جھوک بھر جائے تو -باہمی تعلقات پر بوہت زیادہ اثر پڑھتا ہے میں بیوی کی ناراضگی کو کبھی بھی طول نہیں دینی چاہیئے

 

اس سلسلے میں عام طور پر بیوی کی غلطی زیادہ ہوتی ہے،کیوں کہ بیوی کی طرف سے مطالبات زیادہ ہوتے ہیں ،وو شوہر کی مصروفیات اور پریشانی کے بجاے اپنے مطالبات کو زیادہ اہمیت دیتی ہے ،ویسے بھی خواتین کو بال کی کھال نکلنے کی عادت ہوتی ہے-

 

اور اکثر خواتین تو محض انا کی خاطر ویسے ہے شوہر سے ضد لگا بیٹھتی ہیں،جو کہ بوہت غلط ہے،یوں مطالبات اور چوتھے موٹے گھریلو امور پر تو تو میں میں شورو ہو جاتی ہے ،اور اس کے برے اثرات مراتب ہوتے جاتے ہیں،ایسی صورت میں دونوں کی صلح کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے

 

لیکن اس معاملے میں بیوی کی کی ذمہ داری زیادہ ہوتی ہے،اور شوہر کی گھر کے ساتھ ساتھ کام کی بھی ذمہ داریاں بوہت ہوتی ہیں ،اور اسے توقو ہوتی ہے کہ وو جب کام سے تھاکہ ہر واپس یگا تو آرام کے کچھ لمحات میسر ہونگے -لیکن جب ہوتی چوٹی بتاؤں پر جب بیوی ناراضگیاں ظاہر کرتی ہے تو ،اس کی توقوہاٹ پر پانی پھر جاتا ہے،

بیوی کی طرف سے متلابات اور ناراضگی اسے اور بھی پریشان کر دیتے ہیں،-انا پرستی اور زیدی خواتین کی وجہ سے کچھ مرد گھر کو جہنم قرار دیتے ہیں

  • اس لئے حواتین کو چاہیئے کہ وو شوہر سے ناراض ہونے یا بات کو طول دینے سے پرہیز کریں کیوں کہ شوہر ایک مجازی خدا ہوتا ہے بیوی کا -اور گھر کے ماحول کو پر سوکوں رکھیں کیوں کہ خواتین ہی گھر کے ماحول کو اچھا یا برا بنا سکتی ہیں،

                                                                                                              

     
     
  •  










About the author

abid-khan

I am Abid Khan. I am currently studying at 11th Grade and I love to make short movies and write blogs. Subscribe me to see more from me.

Subscribe 8682
160