کتابیں ہاتھ میں ہیں آگھی کا نام نہیں چراغ ہاتھ میں نابینا آدمی کی طرح (۲)

Posted on at


کہتے ہیں کہ ماں کی گود پہلی درسگاہ ہوتی ہے اور اس کے بعد آگے جا کے اساتذہ ہمارے روحانی باپ ہیں۔اگر ایک بچے کی شروع سے ہی تربیت اس انداز میں کی جاۓ کہ وہ اپنے علم سے معاشرے کے تاریک پہلوؤں کو روشن کرے گا۔تو اس ملک کا ایک بہت بڑا المیہ خود ہی ختم ہو جاۓ گا۔ تب ہم دھن دولت کی لالچ میں علم حاصل کرنے کی بجاۓ دوسروں کو اپنی ذات کے نور سے منور کرنے کی سوچیں گے۔



یہاں حکومت کا بھی فرض بنتا ہے کہ وہ تعداد کی بجاۓ تعلیمی اداروں کے معیار پر توجہ دیں۔ اور وہاں ایسے اساتذہ تعینات کریں جواخلاقی لحاظ سے طالبعلموں کے کردار کے معمار ثابت ہوں۔ اور ان کو ایک اچھا اور مفید انسان بننے میں مدد فراہم کریں۔ان میں یہ آ گہی یہ سوچ بیدار کریں کہ ان کو وہ شمع بننا ہے جو خود تو جل کر راکھ ہوتا ہے۔ لیکن ظلمتوں میں نور پھیلانے کا باعث بنتا ہے۔ آخر میں کہ خدا را اپنی ذات اور خود غرضی کے محور سے باہر آئیں۔ خود کو اعلیٰ اخلاقیات کے سانچے میں ڈھال کر ایک مثال بن جانے کا عزم کریں۔شاعر نے کیا خوب فرمایا



” مٹا دے اپنی ہستی کو اگر کچھ مرتبہ چاہے


کہ دانہ خاک میں ملکر گل و گلزار ہوتا ہے


طالب علموں کو چاہیئے کہ انتھک محنت کریں اپنے مقاصد کے حصول کے لیئے آزمائش بہت کٹھن ہیں لیکن مظبوط قوت ارادی سے ان کو پانا مشکل نہیں۔



اپنے مقاصد کا تعین کرتے وقت اپنے ملک و قوم کی حالت پر غور کریں۔ ہمیں مفید انسانوں کی ضرورت ہے جو صرف علم کا ڈھیر نہ ہو بلکہ اس کا صحیح استعمال بھی جانتا ہو۔ ہمارے قائد اعظم نے اپنا علم اپنی قوم کے لیئے استعمال کیا۔



About the author

hadilove

i am syed hidayatullah.i have done msc in mathematics from pakistan.And now i am a bloger at filmannex.and feeling great

Subscribe 2088
160