عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی

Posted on at


درج بالا مصرعہ علامہ اقبال کا ہے ۔ اقبال کی شاعری عمل اور کردار کا سبق دیتی ہے ۔ غور کیا جائے تو اقبال کی ساری شاعری کا نچور اس جملے میں سمٹ ہوا نظر آ تا ہے۔ اقبال کی شاعری دوسرے شاعروں سے مختلف ہے ۔ دوسروں نے اپنی شاعرانہ صلاحیتوں کو لب و رخسار کی تعریف میں ضائع کر دیا جب کہ اقبال نے اپنی شاعری کو اپنے پیغام کی اشاعت کا ذر یعہ بنایا۔ اقبال کا پیغام اسلام کا پیغام ہے اور اسلام ہر لحظ حرکت اور ہر لمحہ عمل کا درس دیتا ہے۔


    جہاں میں اہل ایمان صو رت خو ر شید جیتے ہیں


ادھر ڈو بے ادھر نکلے ، ادھر ڈوبے ادھر نکلے 


اقبال کہتے ہیں کہ انسان کی قدر، عمل کے حسن سے ہے۔ اگر اس کا دامن اچھے اعمال سے بھرا ہوا ہے تو اس دنیا مین بھی اس کی قدر ہے اور آخرت میں بھی اس کی عزت۔ وہ فرد یا قوم جس کی زندگی عمل کےسوز سے خالی ہے۔ وہ ایک لفظ ہے بے معنی اور جسم ہے بے روح۔ گفتار کی روح کردار ہے اسی لیے نبی کریم نے اسلام کی آواز اٹھاتے ہی پہلے اپنا حسن کردار اہل مکہ کے سامنے رکھ دیا تھا۔ گفتار کا حسن بے مقصد اور بے معنی ہے اگر اس کے ساتھ کردار کی خوبی شامل نہ ہو ، کردار ہے تو لفظوں کی شان اور شکوہ کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔


                 جوش کردار سے کھل جاتے ہیں تقدیر کے راز


عمل سے قوموں کے اندر ضزبی ، جوش اور ولولہ پیدا ہوتا ہے ۔ رواں دواں پانی تازہ رہتا ہے۔ ساکن پانی میں بو پیدا ہو جاتی ہے ۔ سکون تو قبر کی آ غوش میں ہی مل سکتا ہے زندگی تو جدوجہد سے عبارت ہے۔ یہاں انسان حرکت و عمل سے آراستہ رہے تو بہتر ہے جو قومیں ہاتھ پر ہاتھ دھڑے مستقبل کی منتظر رہتی ہیں ۔ ما یوسی اور حسرت ان کا مقدر بن جا تی ہے ۔ حرکت عمل ہی کو کہتے ہیں اور عمل سیرت و کردار کی بلندی سے ابھرتا اور نکھرتا ہے۔ صر ف گفتار کےغا زی قوموں کی تقدیر نہیں بدلا کرت


      سیرت نہ ہو تو عارض و ر خسار سب غلط


خوشبو اڑی تو پھول فقط رنگ رہ گیا


تاریخ بتاتی ہے کہ جس قوم نے تن آسانی کو اپنا شیوہ بنا لیا ، جس نے عیش و عشرت کو اپنایا ، تیغ و سناں کو چھوڑ کر طاؤس و رباب کو اپنی زندگی قرار دیا ۔ وہ یوں مٹ گئی جیسے خزاں میں پتا درخت سے گرتا اور ہوا کے کندھوں پر لڑھکتا پھرتا ہے ۔ وہ قومیں جنہوں نے اپنے جگر کے خون سے چراغ روشن کئے اور اپنے اعمال کا حسن غیروں سے منوایا ، ان کا ذکر تاریخ عزت و احترام سے کرتی ہے ۔ عرب جب اسلام کی اشاعت کے لیے نکلے  تو ان کے سینوں میں ایمان کی دولت  اور ان کے دامن میں عمل کی خو بصورتی تھی ۔ وہ جو کہتے وہی کرتے تھے ۔ ان کے قول اور فعل میں کو ئی تضاد نہ تھا اس تضاد کا دوسرا نام منافقت ہے اور مسلمان منافق نہیں ہوتا ہے


 ہزار خوف ہو لیکن زباں ہو دل کی  ر فیق


     یہی رہا ہے برسوں سے قلندروں کا طریق۔



About the author

shahzad-ahmed-6415

I am a student of Bsc Agricultural scinece .I am from Pakistan. I belong to Haripur.

Subscribe 0
160