بچوں کی نفسیات

Posted on at


بچے تو بچے ہوتے ہیں۔ یہ وہ جملہ ہے جو کہ صبح و شام ہمارے کانوں کے پردوں کو چھیڑتا رہتا ہے۔ بچے ہمارے معاشرے کا حسن ہیں۔ والدین جب تھکے ہارے کام سے واپس آتے ہیں۔ تو سامنے اپنے بچوں کو کھلکھلاتا چہرا دیکھ کر ان کی ساری تھکن دور ہو جاتی ہے۔ اور تقریباً ہر فطرت شناس شخص بچوں کے ساتھ بچہ بن جاتا ہے۔


انسان کی زندگی ایک اخبار کی مانند ہے۔ ایک اخبار میں ہر طرح کی خبر ہر طرح کا ماحول اور تقریبا ہر چیز کا زکر ہوتا ہے۔ مشہور فلاسفرس کے مطابق زندگی کی اخبار میں سب سے خوب صورت صفحہ بچوں کا ہوتا ہے۔
ایک مشہور مقولہ ہے۔ کہ ” بچے من کے سچے” یہ ایک حقیقت ہے جو کہ تقریبا ہر بچے میں ہوتی ہے۔ اور ان کی معصومیت میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
بلکہ یوں کہنا بہتر ہو گا۔ مزید اضافہ کرتی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ بچہ جب ۴۰ دن کا ہو جاتا ہے تب سے وہ اپنے ارد گرد کے لوگوں کو محسوس کرنا اور سمجھنا شروع کرتا ہے۔ اور اس کے ارد گرد کے لوگوں کا رویہ اس پر ایک اثر چھوڑتا ہے۔ بچہ جب کچھ بڑا ہوتا ہے۔ چلنا اور بولنا سیکھتا ہے اس وقت اس کی شخصیت واضح ہونے لگتی ہے۔ وہ اپنے والدین کا دوسرا روپ بن جاتا ہے۔


تاہم وقت کے ساتھ ساتھ اس کی ایک الگ منفرد شکل بنتی ہے۔ وہ بات کرنا سیکھتا ہے۔ زد کرنا سیکھتا ہے والدین کے ساتھ بڑے بہن بھائیوں کے ساتھ وہ زد کرتا ہے۔ اور اس کی زد سب کو اچھی لگتی ہے۔ تاہم کچھ وقت کے گزرنے کے بعد یہ زد نا قابل برداشت ہو جاتی ہے۔ کیونکہ یہ احساس نفسیات کا حصہ بن جاتی ہیں۔ اور نہ چاہتے ہوۓ بھی اس سے سرزد ہوتی ہے۔
پھر بچہ تھوڑا اور بڑا ۷ یا ۸ سال کی عمر کو پہنچتا ہے۔ پھر اس پر سختی شروع ہو جاتی ہے۔ جو اس کی شخصیت میں نکھار پیدا کرتی ہے۔ اس کو ڈانٹ کا سمنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ لیکن یہ سب اس کی بہتری کے لیئے ہوتا ہے۔



About the author

160