خواہشات کا سمندر

Posted on at


خواہشات اس صحرا کی مانند ہے کہ اگر اس کا سفر شروع ہو جاۓ تو اس راستے پر جھاڑیوں کے سوا کچھ نہیں ہو گا۔میری پہلی خواہش جب میں نے انٹری ٹیسٹ پاس کیا تو والدین نے زمین بیچ کر پیسے بنک میں رکھ دیے جاۓ اور ساتھ ساتھ بچوں کی ضروریات بھی پوری ہوتی رہے گی۔

 یوں میرا ایڈمیشن ہو گیا۔ مجھے احساس ہو رہا تھا کہ میری خواہش کے لیئے میرے والدین بہت کچھ قربان کر چکے ہیں۔ اس لیئے میں سب سے پہلے ان کی خدمت کو ہی اپنا شعار بناوں گا۔تعلیم کا ابتدائی سال اچھا گزر رہا تھا لیکن اب احساسات بدلنے لگے تھے ترجیحات بدلنے لگی تھی۔ امتحانات ہوۓ اور پاس ہو گیا۔ پانچ سال گزرے اور بہت کچھ بدلنے لگا کئی خواہشات نے کئی خواہشات کے گلے گھونٹ دئیے اور کئی نئی خواہشات نے جنم لیا۔

 انسانیت ہمدردی مرہم و دوستی کیا تھی یاد نہیں رہا۔  جوں ہی پروفیشنل لائف میں آیا میرا مقصد پیسا کمانا تھا چاہے جیسے بھی ہو جہاں سے بھی ہو۔میری خواہشات مادہ پرستی کا روپ دھارتی جا رہی تھی  میرے والدین نے بھی یہ نہیں کہا کہ انہیں دولت،پیسے یا روپے چاہیئے۔ ان کی بس ایک ہی خواہش تھی کہ میں چند لمحے ان کے ساتھ بیٹھوں ان سے گپ شپ لگاؤں۔ میں ایک دوست کی شادی کی تقریب میں تھا ابو کا فون آیا ان کی سانس پھولی ہوئی تھی اور آواز میں لرزش تھی۔ان کی زبان سے جملہ نکلا بیٹا گھر آؤ ماں کی طبیعت ٹھیک نہیں۔ میں جلدی سے اپنے گھر پہنچا تو دیکھا ماں کی حالت خراب تھی ان پر بے ہوشی کا دورہ پڑا ہوا تھا ہسپتال لے گئے وہاں جا کر علم ہوا کہ ان پر فالج کا حملہ ہوا ہے۔



About the author

hadilove

i am syed hidayatullah.i have done msc in mathematics from pakistan.And now i am a bloger at filmannex.and feeling great

Subscribe 0
160