موسم

Posted on at


 


اللہ پاک اس دنیا کا خالق و مالک ھے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنا کر اس دنیا میں پیدا کیا اور انسان کے لیے بے شمار نعمتیں بنائی ۔ اللہ پاک کے انسا نوں پر بے شمار احسانات ھیں۔ ھمیں اللہ کے ان تمام احسانوں کا شکر گزار ہونا چاہیئے۔ اس کی ہر نعمت کا شکر ادا کرنا چا یئے۔ اللہ نے اس دنیا میں بے شمار بے حساب نعمتیں پیدا کیں۔ ان سب کے لیے دالیں، اناج، گندم، چاول، سبزیاں، اور پھر انسان کے لیے مختلف قسم کے پھول بنا ئے۔ اور پھر پودے اگائے، درخت لگائے جن سے ہمیں آکسیجن حاصل ہوتا ہے۔ ان تمام نعمتوں کی پیدائش کے لئے اللہ تعالی نے مختلف موسم بنا ئےہیں۔ ۔کھجوراور آم کو رسیلا اور میٹھا بنانے کے لئے اسے موسم گرما میں بنایا۔


خوبانی، سیب، اور آلوچہ یہ سب پھل کم میٹھے ہوتے ہیں۔ یہ پھل وہ لوگ کھاتے ہیں جو میٹھا زیادہ پسند نہیں کرتے۔ سیب، آلوچہ اور خوبا نی کے لئے سرد پہاڑی علاقے درکار ہوتے ہیں۔ اور میٹھے پھلوں کے لئے معمولی گرمی چا ھیے ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے چار موسم بنائے ہیں۔ موسم گرما، موسم سرما، بہار اور خزاں۔ یہ سارے موسم اللہ تعالیٰ کی دی ھوئی نعمتیں ہیں۔ اور پھر موسموں کا یوں بدل بدل کر آنا بہت لطف دیتا ہے۔ موسم گرما کے اپنےمزے ہیں اس موسم میں ٹھنڈے ٹھنڈے مشروبات بنائے جاتے ہیں۔ لیموں کی شکنجبیں بنائی جاتی  ہے۔ اس موسم کا مشہور پھل آم ہے۔جسے پھلوں کا بادشاہ کہا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ تربوز اور خربوزے اس موسم اپنے مزے سے لطف اندوز کراتے ہیں۔ اس کے بعد بارشوں کا زور بڑھ جاتا ہے۔ یہ موسم بہت اچھا ہوتا ہے۔ اور سب کو یہ موسم زیادہ پسند ہوتا ے۔ اس موسم میں لوگ پکوڑوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔


 ستمبر کے اختتام پر موسم بدلنا شروع ہوجاتا ہے اور نومبر میں سردی شروع ہوجاتی ہے۔ گرمی اور سردی دونوں کے درمیان والے موسم کو خزاں کہتے ہیں۔ خزاں کے بعد سردی بڑھ جاتی ہے۔ سردی کے موسم میں لوگ گرم کپڑے پہنتے ہیں اور گرم گرم چیزیں کھاتے ہیں اس موسم میں مالٹے عام ہوتے ہیں سردی کے موسم میں لوگ زیادہ تر بادام، چلغوزے اور اخروٹ کھاتے ہیں۔ اس موسم میں سب سے زیادہ کھائی جانے والی چیز مونگ پھلی ہے۔ اس کے بعد موسم سرما آتا ہے اور اس موسم میں سخت سردی پڑتی ہے۔ اور برف باری ہوتی ہے۔ اس کے بعد موسم بہار شروع ہوجاتا ہے۔ پاکستان کے زیادہ تر علاقوں میں یہ موسم بہت کم وقت کے لئے رہتا ہے۔ 



160