صحت اور پاکستان

Posted on at


جس طرح فرد کی زندگی میں تندرستی ایک نعمت ہے اس طرح قومی زندگی میں پورے معاشرے کی صحت ایک نعمت سے کم نہیں ہے۔ ایک تندرست آدمی جس طرح اپنی استعداد کار بڑھا کر اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہوتا ہے اسی طرح معاشرے کے عام لوگوں کی اچھی صحت قومی ترقی میں معاون ثابت ہوتی ہے۔ جس معاشرے میں بیماریاں عام ہوں وہاں ترقی کی رفتار مدہم پڑ جاتی ہے۔ اس سے کئی معاشی اور معاشرتی مسائل جنم لیتے ہیں ۔ تندرست  افراد صحت مند معاشرے کی تعمیر کرتے ہیں جو ایک اعلیٰ جمہوری نظام کےلیے ناگزیر ہے۔


حکومت پاکستان نے صحت عامہ کو بہتر بنانے کی طرف کافی توجہ دی ہے۔ اس مقصد کے لیے پانچ سالہ منصوبوں میں کثیر رقوم مخصوص کی جاتی ہیں۔ہمارے ملک میں ہر سال ہزاروں افراد چیچک کا شکار ہوجاتے تھے۔ جن میں بچوں کی بڑی کی بڑی تعداد شامل تھی۔ حکومت نے عالمی ادارہ صحت کے تعاون سے  اس مرض کی روک تھام کے لیے کافی مستعدی کا ثبوت دیا۔ اس وقت یہ بیماری  مکمل طور پر ختم ہو جاتی ہے۔


پاکستان میں چونکہ ہر سال بعض علاقوں میں ملیریا وبائی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ اس لیے حکومت نے انسداد ملیریا کی طرف خصوصی توجہ دی ہے اور ایک جامع پروگرام وضع کیا ہے۔ جس پر ہر سال کثیر روپیہ خرچ ہو رہا ہے۔


تپ دق ایک نہایت موذی مرض ہے۔ ہمارے ہاں پست معیار زندگی اور غربت و افلاس کی وجہ سے متعدد لوگ اس بیماری کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ ایک اندازے کے مطابق ہزاروں افراد اس مرض کا شکار ہو کر مر جاتے ہیں۔ تپ دق کا علاج کافی مہنگا ہے جب کہ اس کا شکار بالعموم غریب لوگ ہوتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کی مدد سے حکومت ہر سال بی۔سی۔ جی کے ٹیکے لگواتی ہے۔ ملک کے ہر حصے میں تپ دق کے مراکز قائم ہیں جہاں مفت دوائی تقسیم ہوتی ہے۔ انسداد تپ دق کے سلسلے میں عوم کو بچاؤ اور حفاظتی تدابیر سے آگاہ کرنے کے لیے ہر سال ہفتہ تپ دق کا منایا جاتا ہے۔


پاکستان میں عورتوں اور بچوں کی شرح اموات بلند ہے۔ اس مقصد کی خاطر بہبود اطفال اور زچہ بچہ کے مراکز کھولے گئے ہیں ۔ بین الاقومی ادارہ بہبود اطفال بھی سامان اور ادویات کی صورت میں اس قسم کے مراکز کو امداد فراہم کرتا ہے۔ علاوہ ازیں حکومت نے لاہور، کراچی، راولپنڈی اور پشاور میں دائیوں کی تربیت کے لیے مراکز کھول رکھے ہیں۔


ہمارے ملک میں جزام یعنی کوڑھ کی بیماری بھی بعض علاقوں  خا ص طور پر پہاڑی علاقوں جن میں چترال وغیرہ کا علاقہ خاص طور پر قابل ذکر ہے میں پائی جاتی ہے۔ جزام کےعلاج کے لیے کراچی کے نزدیک منگھوپیر میں ایک ہسپتال اور ملک کے دوسرے شہروں میں مراکز قائم ہیں۔


ہمارے ملک میں ڈاکٹروں کی شدید کمی ہے۔ قیام پاکستان کے وقت ملک میں صرف تین میڈیکل کالج قائم تھے، لیکن اب کی تعدار میں بہت اضافہ ہو چکا ہے۔ کراچی، لاہور ، اسلام آباد ، ملتان اور پشاور میں جوہری توانائی سے علاج کے سنٹر قائم ہیں۔ علاوہ ازیں نرسوں کی تعلیم و تربیت کے متعدد ادارے قائم ہیں۔



About the author

shahzad-ahmed-6415

I am a student of Bsc Agricultural scinece .I am from Pakistan. I belong to Haripur.

Subscribe 1433
160