تخلیق آدم-حصہ دوئم

Posted on at


پھر الله نے تمام فرشتوں اور جنوں کو حکم کر دیا کہ آدم علی سلام کو سجدہ کرو. سب نے حکم کی تعمیل کی

 

                               

مگر جنوں کے سردار نے جس کا نام عزازیل تھا، یہ حکم ماننے سے انکار کر دیا اور کہا کہ وہ آدم سے بہت بہتر ہے کیونکہ وہ آگ سے بنا ہوا ہے جبکہ آدم علی سلام مٹی سے پیدا کئے گئے ہیں. اس نافرمانی پر الله نے اس پر لعنت بھیج دی اور اسکو شیطان قرار دے دیا اور اپنے دربار سے نکال دیا.

شیطان نے الله تعالیٰ سے قیامت تک کے لئے مہلت مانگی تاکہ  وہ آدم کی اولاد کو گمراہ کر سکے.یہ مہلت اسے قیامت تک کی دے دی گئی.لیکن اللہ نے فرمایا کہ میرے نیک بندوں پر تیرا بس نہیں چل سکے گا. البتہ جو تیری پیروی کرے گا میں اسکو دنیا میں بھی ذلیل کروں گا اور آخرت میں بھی سخت عذاب دوں گا.

پھر الله نے آدم کی پسلی سے مائی حوا کو پیدا فرمایا اور انکو جنّت کے باغوں میں بھیج دیا اور کہا آرام و سکون کی زندگی گزاریں. وہاں پھل اور میوے کھائیں. البتہ ایک درخت کے قریب نہ جایئں اور اس کا پھل نہ

                              

 

کھائیں ورنہ نقصان اٹھائیں گے. شیطان اب چونکہ انسان کا کھلا دشمن تھا اور گھات لگاۓ ہوے تھا. ایک روز

 

ان کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ الله نے تمھے اس درخت کا پھل کھانے سے اس لئے روکا ہے کہ کہیں تم فرشتے نہ بن جاؤ یا پھر ہمیشہ کی عمر نہ پا جاؤ. اس طرح وہ اس جوڑے کو ورغلانے میں کامیاب ھو گیا. اس درخت کا پھل کھاتے ہی ان پر اپنی شرم کی چیزیں ظاہر ہونا شروع ھو گئیں اور وہ انکو چھپانے کے لئے جنّت کے درختوں کے پتے چپکانے لگے.

 

اس لغزش پر الله نے انھیں جنّت سے نکال کر دنیا میں اتار دیا جہاں وہ مقررہ مدّت تک کے لئے رہے گے اور انکی اولاد میں سے بعض ایک دوسرے کے دشمن بھی ھوں گے.

الله نے دونوں کو مختلف مقامات پر اتار دیا اور کافی عرصے تک وہ سرگرداں رہے. اس کے بعد حضرت آدم نے محمّد مصطفیٰ صل الله علی وسلم کے نام گرامی کا واسطہ دے کر معافی طلب کی، توبہ کی اور دعا مانگی. یہ نام انہوں نے جنّت کے دروازے پر الله کے نام کے ساتھ لکھا ہوا دیکھا تھا. اس نام کے طفیل الله نے توبہ قبول فرمائی اور دونوں کا ملاپ ھو گیا اور ہنسی خوشی زندگی گزارنے لگے

 

جس واسطے سے توبہ آدم ہوئی قبول

آیا تھا وہ خلد میں نظر آپ ہی کا نام

مضمون نگار

نبیل حسن



About the author

RoshanSitara

Its my hobby

Subscribe 1673
160