(part 1)دنیا کے بارے میں چند بنیادی معلومات

Posted on at


اس دنیا میں رہنے والے ہر شخص کو دنیا کے بارے ہر بنیادی معلومات ہونا ضروری ہے ۔ ہر ایک کو پتہ ہونا چاہیے کہ وہ دنیا میں کس جگہ زندگی گزار رہا ہے ، اس کے قریب کیا کیا چیزیں اور جگہیں ہیں اور کیا کیا اس سے دور ہے ۔ اسی لیے آج میں نے سوچا کہ  کیو ں نہ اپنے دوستوں کے ساتھ  اپنی دنیا کے بارے میں چند بنیادی معلومات بانٹیں جائیں۔ اور اگر انسان کو دنیا کے بارے میں تمام بنیادی جانکاری ہو تو وہ آسانی سے یہ سمجھ سکتا ہے کہ وہ دنیا کے کونسے حصے میں زندگی گزار رہا ہے ۔


ہماری زمین کا ایک تہائی حصہ خشکی اور باقی ماندہ دو تہائی حصہ پانی پر مشتمل ہے ۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ زمین کا ایک بہت بڑا حصہ پانی پر مشتمل ہے ۔ اور صرف تھوڑا سا حصہ خشکی پر مشتمل ہے جہاں تمام انسان زندگی گزار رہے ہیں۔


دنیا کا دو تہائی حصہ جو کہ پانی پر مشتمل ہے اس کو   پانچ مختلف حصوں میں یعنی بحروں میں تقسیم کیا گیا ہے  اور ان پانچ بحروں کے نام یہ ہیں۔"بحر الکاہل ، بحر اوقیانوس، بحر ہند، بحر منجمند شمالی اور بحر منجمند جنوبی۔ بحرالکاہل دنیا کا سب سے بڑا سمندر ہے اگر ہم دنیا کے نقشے پر غور کریں تو دنیا کا  پچھلہ حصہ سارا بحرالکاہل پر مشتمل ہے۔ اس کے بعد بحر اوقیا نوس دنیا کا  دوسرا بڑا سمندر ہے اور اسے دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے  یعنی شمالی بحر اوقیانوس اور جنوبی بحر اوقیانوس۔ بحر ہند کو بحر ہند اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ اس کا بڑا حصہ انڈیا کے ساتھ لگتا ہے۔ دنیا کے شمالی اور جنوبی قطب برف سے ڈھکے ہوئے ہیں اور وہاں موجود دونوں سمندر جمے ہوئے ہیں۔


اس کے بعد ہم لوگ دنیا میں موجود خشکی پر آتے ہیں ۔ پانی کی طرح خشکی کو بھی بڑے بڑے ٹکڑوں میں تقسیم کیا گیا ہے اور  خشکی کے بڑے ٹکڑے کو براعظم کہتے ہیں۔ دنیا میں پانچ بڑے خشکی  کے حصے ہیں جن کے نام یہ ہیں۔ براعظم ایشیا، براعظم یورپ، بر اعظم افریقہ، براعظم شمالی امریکہ، براعظم جنوبی امریکہ، بر اعظم آسٹریلیا اور بر اعظم انٹارکٹیکا۔  


رقبے اور آبادی دونوں کے لحاظ سے براعظم ایشیا دنیا کا سب سے بڑا براعظم ہے۔ پاکستان بھی براعظم ایشیا میں ہی آتا ہے۔ دنیا کا سب سے چھوٹا براعظم آسٹریلیا ہے ۔ براعظمانٹارکٹیکا برف سے ڈھکا ہوا ہے۔ یہاں سال بھر برف رہتی ہے اور درجہ حرارت ہمیشہ نقطہ انجماد سے کم رہتا ہے۔ اس بر اعظم پر زندگی نہ ہونے کے برابر ہے ۔ یہاں کا عام درجہ حرارت 56ـ درجہ سنٹی گریڈ رہتا ہے۔ اس براعظم پر جولائی اور اگست کے ماہ میں ترقی یافتہ ممالک کے ماہریں کھوج وغیرہ کی غرض سے آتے ہیں کیونکہ یہاں پر ان کے ریسرچ سنٹر ہیں ۔ ترقی یافتہ ممالک کو جی 8 ممالک بھی کہا  جاتا ہےاور  وہ ہیں ، امریکہ، جرمنی،  انگلینڈ، روس، فرانس، جاپان، اٹلی۔  اسی طرح دنیا میں کچھ ممالک ایسے ہیں جو ابھی ترقی کی راہ پر گامزن ہیں اور ایسے ممالک کو  ترقی پذیر ممالک کہا جاتاہے اور ان کو ڈی 8 ممالک بھی کہا جاتا ہے ۔ ترقی پذیر ممالک یہ ہیں، پاکستان، بنگلہ دیش، نائیجیریا، انڈونیشیا، ملائیشیا، ایران، ترکی اور مصر۔



About the author

shahzad-ahmed-6415

I am a student of Bsc Agricultural scinece .I am from Pakistan. I belong to Haripur.

Subscribe 0
160