(رقص و موسیقی (حصہ دوم

Posted on at


 


 


آپ نے اس معاشرے میں دیکھا ہو گا کہ بہت شریف عورتیں صرف اور صرف راگ کی وجہ سے ہی گمراہی کی طرف مائل ہو گئیں۔ ابن ولید نے اپنی قوم کو نصیحت کی تھی کہ اے میری قوم راگ سے بچنا کیونکہ یہ بہت حیا بنا دیتا ہے۔ خواہشات نفسانیہ کو بڑھاتا ہے۔ عزت و وقار مٹاتا ہے۔ جس طرح شراب اثر کرتی ہے۔ راگ بھی ایسے ہی اثر کرتا ہے۔


 


قوم نوحؑ پر عذاب اہل عقل کے لیے درس عبرت ہے، کچھ لوگ کہتے ہیں کہ راگ طبیعت کو سکون میسر کرتا ہے اور دل کے غموں کا مداوہ ہوتا ہے۔ یہ ایک نفسیاتی جواب۔ فلاسفر گھوش کہتے ہیں کہ فن، شاعری اور موسیقی کو روحانیت سےمنسوب نہیں کیا جا سکتا۔ یعنی ان فنون سے قلبی طمانیت کا بالکل علاج نہیں کیا جا سکتا بلکہ ان کا تعلق روحانیت طمانیت سے اس قدر ہے جس قدر فلسفہ اور سائنس کا۔


 


دنیا میں جس قدر بھی سر کا ظہور ہو رہا ہے۔ ان کا معلم اول ابلیس ہی ہے۔ تعلیم اس کے وجود سے ہوتی ہے اور ظہور انسان کے وجود سے۔ حدیث میں ہے کہ اس دنیا میں سب سے پہلے جس نے بین کیے اور راگ کے ساتھ گایا وہ ابلیس ہے۔


 


حضرت ابو جعفر طبری فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے جس نے بجنے والے آلات تیار کیے تھے۔ اس کا نام ثوبال تھا۔ یہ بے دین قابیل کے نسل سے تھا۔ جس نے بانسری، طبل اور عود ایجاد کیا۔ اس کا نام میلائل بن قیلنان تھا۔ یہ بھی ثوبال کا ہم عصر تھا۔ اس طرح قلیل کی نسل اکثریت میں گانا بجانے میں مشغول ہو گئی پھر یہ وہم چلتی چلتی شیشؑ کی قوم میں پھیل گئی۔


 


امام ابن الحاج اپنی مشہور کتاب مدخل میں لکھتے ہیں۔ سب سے پہلے جنہوں نے ناچنے اور جھومنے کو ایجاد کیا تھا وہ سامری اور اس کے ساتھ یہودی تھے۔ جب سامری نے ان کے لیے بچھڑا تیار کیا۔ جس سے ایک قسم کی آواز آتی تھی اور یہودی اس کے گرد جھومتے اور ناچتے تھے۔ یہ ناچ اور جھومنا کفار اور یہودیوں کی رسم ہے۔ جو بچھڑے کو پوجتے تھے۔ اس کی تائید یہود کی کتابوں میں بھی ملتی تھی۔


 


مرلیں ایل پی ایچ ڈی لکھتے ہیں۔ دوسرے دن تہوار کے موقع پر تمام یہودی اپنے محبوب بچھڑے کی قربانی کے لیے جمع ہو گئے۔ پھر سب نے اس کے آگے سجدہ کیا اور پھر اس کے گرد ناچتے رہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جس نے سب سے پہلے ناچ اور گانا شروع کیا وہ سامری اور اس کے یہودی تھے اور پھر یہ رسم یہود و نصاریٰ کی تمام امت میں پھیل گئی اور پھر بڑھتے بڑھتے تمام دنیا اس کی لپیٹ میں آگئی۔


 


 



About the author

Asmi-love

I am blogger at filmannex and i am very happy because it is a matter of pride for me that i am a part of filmannex.

Subscribe 0
160