(بالاچ۔۔۔۔۔۔۔۔ بلوچ تشخص کی علامت (حصہ دوم

Posted on at


یہیں سے بلوچ تاریخ میں ایک بلوچی کردار ابھرتا ہے۔ کہانی کی ابتداء تو دودا سے ہوئی لیکن اس کی انتہا بالاچ تھا۔ دودا کے چھ اور بھائی بھی بیورغ کے ہاتھوں قتل ہو گئے۔ اس وقت بالاچ کمسن بچہ تھا۔ اس وقت سے اس کی ماں نے اسے یہ بات بطور فرض ذہن نشین کرادی کہ اسے سمی کی باہوٹی اور اپنے بھائی دودا کے خون کا قرض اتارنا ہے اور بالاچ یہی احساس دل میں لیے جوان ہوا اور اسی فریضے کو نبھاتے ہوئے اپنی جان دے دی۔ دودا کے قتل کے بعد بالاچ نے کم سنی میں اپنا علاقہ چھوڑ دیا اور کئی سال تک دربدر کی خاک چھانتا رہا۔ تین برس تک وہ سخی سرور کے مقبرے اور دربار پر خدمت گزاری کرتا رہا۔ یہاں تک کہ وہ عمر اور شعور کے اعتبار سے انتقام لینے کے قابل بن گیا۔ اب وہ واپس اپنے علاقے میں آگیا اور سمی کا مال لوٹنے اور اپنے بھائی کے قاتلوں کے لیے قہر و موت کی علامت بن گیا۔


 


 ایک طرف وہ تھا اور اس کا دوست اور بھائی نکیفو جبکہ مقابلے میں بیورغ اپنی پوری سرداری قوت کے ساتھ موجود تھا۔ اس عالم میں بیورغ سے ٹکرانا بالاچ کے حصے میں آیا تھا۔ جب ٹکر مقابلے کی نہ ہو اور بدست طاقت کا خاتمہ بھی مقصد ہو تو پھر بہادری کے ساتھ وقت اور حالات سے بھی فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ بالاچ نے بھی یہی سب کچھ کیا۔ اس نے بیورغ کے خلاف کاروائیوں کے ایک دراز سلسلے کا آغاز کیا جس سے بالآخر بیورغ کی تمام تر قوت ختم ہو گئی اور انجام کار بلیدیوں کو وہ علاقہ چھوڑنا پڑ گیا۔ بالاچ کی کاروائیاں بیورغ کے خلاف لڑائی کا اعلان کرنے کے بعد چھپ کر وار کرنا تھیں گویا وہ ایک قسم کی گوریلا لڑائی تھی جو بالاچ نے بیورغ کے خلاف شروع کر دی تھی۔


 


اس طرح بالاچ بلوچوں میں گوریلا لڑائی لڑنے والا اولین مرد تھا جس نے اس کے ذریعے ایک طاقت ور دشمن کو نیست و نابود کر دیا۔ اس نے رات کی تاریکیوں کو اپنا دوست بنا لیا، وہ رات کی تاریکی میں بیورغ کے قصبے پر ٹوٹ پڑتا اور اس سے قبل کہ لوگ سنبھل کر لڑائی کے لیے تیار ہو جاتے، بالاچ کئی افراد کو قتل کر دینے کے بعد کہیں سے کہیں پہنچ چکا ہوتا۔ یہ بات بھی نہ تھی کہ بالاچ بلوچ روایات کے برعکس بیورغ پر لاعلمی میں بزدلی کے ساتھ حملہ کر رہا تھا۔ اس نے تو بیورغ کے خلاف انتقام اور لڑائی کا اعلان کر رکھا تھا اور خبردار کر دیا تھا کہ تم لوگ ہوشیار رہنا، میرا جب جی جاہے گا، میں آکر اپنا وار کروں گا۔




About the author

Asmi-love

I am blogger at filmannex and i am very happy because it is a matter of pride for me that i am a part of filmannex.

Subscribe 1697
160