کیا انسانی جانوں کی کوئی قدر نہیں؟حصہ دوئم

Posted on at


کیا انسانی جانوں کی کوئی قدر نہیں؟حصہ دوئم


 



 


ابھی یہ سن کر طبعیت تھوڑی بہتر ہوئی تھی کہ باہر مین سڑک پرایک ٹرک اور موٹر سائیکل کا ایکسڈنٹ ہوا ٹرک آٹے کے تھیلوں سے بھرا ہوا تھا ٹرک ڈرائیور ٹکر مار کر فرار ہو گیا اور موٹر سائیکل پر بہن بھائی کالج جا رہے تھے دونوں سڑک پر تڑپ رہے تھے بے حسی کی حد تو دیکھو کہ لوگوں نے انہیں دیکھنے کی بجائے آٹے کے ٹرک کو لوٹنا شروع کر دیا اور خون زیادہ بہہ جانے کی وجہ سے دونوں کی موت ہو گئی۔


 



 


اس طرح کے بہت سارے ایسے واقعات معاشرے میں پیش آتے ہیں جن سے انسانی جان کی بے قدری ۔بےحسی ۔لالچ نظر آتا ہے مثلا اگر گھروں میں ڈکیتی یا چوری ہوتی ہے تو ڈاکو یا چور گھر کا ساراقیمتی سامان تو لے جاتے ہیں ساتھ جاتے جاتے انسانی جانوں کا بھی نقصان کر جاتے ہیں اور کچھ پیسے یا کسی چیز کی خاطر جان ضائع کر دی جاتی ہے ایسا کیوں ہوتا ہے؟۔


 



 


انسانی جان کی کوئی قدر کیوں نہیں ؟ ہمارے ضمیر کیوں سو گئے ہیں؟ ہمیں کسی کا احساس کیوں نہیں ہے ؟ہمارے خون کیوں سفید ہو گئے ہیں؟ہم پیسے یا کسی اور چیز کے لالچ میں اللہ کی مخلوق کا خیال کیوں نہیں کرتے ہمارے دل میں رحم کیوں نہیں آتا کسی کو تڑپتے دیکھ کر خدارا سوچو اس بات کو اور سمجھنے کی کوشش کرو۔



About the author

mian320

I sm mr.

Subscribe 1515
160