ماہ رمضان اور ذیابیطس کے مریض

Posted on at


رمضان المبارک میں شوگر یعنی ذیابیطس کے مریض اپنے اس مرض کو بہت بہتر انداز میں کنٹرول کر سکتے ہیں. لیکن شوگر کے مریض رمضان المبارک کے روزے رکھنے سے پہلے اپنے ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کر لیں. لیکن چند باتیں جو کہ ان مریضوں کے لئے کہ جن میں اس مرض کی تشخیص ہو گئی ہو اور ان کو صرف پرہیز کرنے کا کہا گیا ہو تو ایسے لوگوں کے لئے رمضان المبارک ایک نعمت سے کم نہیں کیونکہ اس ماہ مبارک میں ایسے لوگ نہ صرف اپنا وژن کم کر سکتے ہیں ب شوگر کی مکدالکہ ان کیر بھی نارمل رہے گی.

اگر ان کا کام ایسا ہے کہ جس میں ان کا زیادہ تر وقت ساۓ میں گزرتا ہے یا پھر وہ دفتر میں یا پھر گھر میں ہی موجود رہتے ہیں پھر تو یہ اور بھی خوش کن بات ہے کیونکہ ایسی صورت میں ایسے افراد بسیار خوری سے بچ کر روزہ رکھیں گے تو یہ روزہ ان ک جسم پے بہت مثبت اثرات ڈالے گا. اس موقع پر انھیں اس بات کا دیہان رکھنا ہو گا کہ چینی کے علاوہ انھیں نشاستہ دار چیزوں سے بھی پرہیز کرنا ہو گا.اسی تارہا معمولی ورزش کی عادت کو بھی نہ چھوڑیں اور چہل قدمی کا معمول بھی جاری رکھیں. ذیابیطس کے مریضوں کو چاہیے کے وہ روزہ افطار کرنے کے بعد رات کا خانہ نہ کھیں اور پھر اگلا کھانا سحری ک وقت کھا لیں. اپنے جسم میں پانی کی مقدار میں کو پورا رکھنے کے لئے ان کو چاہیے کے وہ روزہ افطار کرنے کے بعد زیادہ سے زیادہ پانی پہیں اور اس کے علاوہ لیموں اور نمک والی سکنجبین کا استعمال بھی زیادہ سے زیادہ کریں.
اب ایسے مریضوں کی بات کرتے ہیں جو کہ اپنی شوگر کو کنٹرول کرنے کے لئے مختلف گولیاں استمال کرتے ہیں

. ان ہو چاہیے کہ وہ روزہ رکھنے کے لئے اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کریں کیونکہ کچھ اقسام کی گولیاں ایسی ہوتی ہیں کہ جن کو استمعال کرتے ہے اگر روزہ رکھا جاۓ تو ایسی صورت میں مریض کی شوگر نارمل سے بھی کم ہو سکتی ہے جو کے بے حد خطرناک ثابت ہو سکتا ہے.
اب ہم شوگر کے مریضوں کی خوراک کے بارے میں بات کرتے ہیں. شوگر کے مریضوں کے زدہ تر سوال کھجور اور شہد کے متعلق ہی ہوتے ہیں. جہاں تک کھجور کا تعلق ہے تو بات یہ ہے کہ ہر شدّت کا مریض دو تین کھجوریں کھا سکتا ہے. رہی بات شہد کی ٹوہ بحثیت مسلمان ہم شہد کے شفا بخش ہونے سے انکار کر ہی نہیں سکتے

  

. اگر شہد کی ایک یا آدھی چمچی کھا لی جے تو اس مے یہ بہت فائدے مند ہوگا. اسی طرح ہمارے ہاں جوس کو بہت صحت بخش سمجھا جاتا ہے جب کے سچ تو یہ ہے کہ جوس کے بجاے اگر تازہ پھل کھا لیا جائے تو وہ زیادہ بہتر ہے.زیادہ تر دیکھنے میں آیا ہے کے ذیابیطس کے مریض پرہیز سہی طرح نہیں کرتے اور جیسے ہی ان کے سامنے مرغن خوراک آتی ہے تو وو اپنی ساری بیماری بھول کر کھانے پر ٹوٹ پڑتے ہیں جس کا نقصان انھیں بعد میں اٹھانا پڑتا ہ لہذا مرغن غزایں استمال نہ کی جایں تو بہت بہتر ہے. امید کرتی ہوں کے اپ نے اس بلاگ سے مفید معلومات حاصل کی ہو گی.



About the author

Sahar_Fatima

I am Sahar Fatima. And I am interested in bloging.

Subscribe 997
160