(اللہ اور اس کے رسولؐ کی محبت (پہلا حصہ

Posted on at


حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ کسی آدمی نے کہا اے اللہ کے رسولؐ قیامت کب ہے؟ فرمایا تجھ پر افسوس ہے تو نے اس کے لیے کیا تیاری کی ہے۔ اس نے کہا میں نے اس کے لیے کوئی تیاری نہیں کی۔ مگر اللہ اور اس کے رسولؐ سے محبت رکھتا ہوں تو اس کے ساتھ ہو گا جسے تو نے چاہا۔ حضرت انسؐ کا کہنا ہے کہ میں نے مسلمانوں کو اسلام سے آنے کے بعد کسی پر اتنا خوش کھبی نہیں دیکھا جتنا وہ اس بات سے خوش ہوئے۔


یہاں اس حدیث میں اللہ اور اس کے رسولؐ کی محبت کا ذکر کیا گیا ہے۔ اور بتایا گیا ہے جس نے اللہ کے ساتھ اور اس کے بعد اس کے نبیؐ کے ساتھ محبت کی وہ سیدھا جنت میں جائے گا۔



اللہ اور اس کے رسولؐ کے ساتھ محبت کرنے کا مطلب یہ ہے کہ انسان اللہ کے بتائے ہوئے احکام اور رسولؐ کی بتائی ہوئی شریعت پر پورا پورا عمل کرے۔ تو اس سے ثابت ہو گا کہ اس کے دل میں اللہ کی محبت ہے تبھی تو ان کے بتائے ہوئے طریقوں پر اپنی زندگی گزارنے کے عین مقصد حیات جانتا ہے۔



یہاں اس حدیث میں ایک شخص نے رسولؐ خدا سے قیامت کے متعلق پوچھا کہ وہ کب آئے گی تو اس کے اس سوال پر رسولؐ خدا نے بہت افسوس کا اظہار کیا اور فرمایا کہ کیا تم نے اس سوال کو پوچھا ہے تو آیا اس کے جواب کے لیے اس گھڑی کے لیے کیا کیا تیاری اور کیا رخت سفر باندھا ہے۔ تو رسولؐ خدا کے اس جواب میں اس شخص نے نہایت عاجزی سے جواب دیا کہ اس نے تیاری تو خاص نہیں کی صرف ایک کام کیا ہے کہ اللہ اور اس کے رسولؐ کی محبت کو دل میں بسائے رکھا ہے۔ اس کے جواب پر رسول خدا بہت خوش ہوئے اوور فرمایا بے شک تو جن سے محبت رکھتا ہے انشاءاللہ قیامت جس کا تجھے انتظار ہے اس دن تو انہی لوگوں کے ساتھ ہو گا۔ جن سے تو محبت رکھتا ہے۔



حضرت انسؓ کا بیان ہے کہ مسلمان جب اسلام لائے تھے کس بات پر اس قدر خوش نہیں ہوئے تھے جس قدر رسول کریمؐ کی اس حدیث کو سن کر ہوئے تھے کیونکہ انہیں قیامت کی بہت فکر لاحق رہتی تھی اور رسولؐ خدا کے اس جواب پر کہ جو لوگ اللہ اور اس کے رسولؐ کے محبت کریں گے اللہ تعالیٰ روز قیامت کو ان کو اپنے سائے میں رکھے گا وہ بے حد خوش ہوئے۔ 




About the author

Asmi-love

I am blogger at filmannex and i am very happy because it is a matter of pride for me that i am a part of filmannex.

Subscribe 1698
160